مولانا کی ’’بند مٹھی‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت مولانا فضل الرحمن کا ”آزادی مارچ‘‘ فراٹے بھر رہا ہے۔ حکومت نے ان سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں جو کمیٹی قائم کی ہے، اس کے ناموں کا اعلان ہو چکا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی اس کارِ خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔ یہ سارے حضرات جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ ہیں۔ اگر اس حوالے سے کسی شک و شبے کا اظہار کیا جا سکتا ہے تو وہ جناب سنجرانی کے بارے میں۔ وہ قومی منظر نامے پر اس طرح نمودار ہوئے کہ آتے ہی چھا گئے۔
آصف علی زرداری ان پر سو جان سے فدا ہوئے اور اپنے عاقل بالغ سینیٹر رضا ربانی کے بجائے ان پر نگاہِ انتخاب ٹھہرا دی۔ نواز شریف صاحب نے بہت زور لگایا لیکن ان کا زور ربانی صاحب کے کام نہ آیا۔ زرداری صاحب بڑے جوڑوں میں تھے، نگاہ آسمان پر تھی، سہانے مستقبل کی تلاش میں سنجرانی صاحب کا ہاتھ تھام لیا کہ ان کے ذریعے ان کا بیڑا بھی پار ہو جائے گا، لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے… اب وہ ان ارمانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے نیب کی تحویل میں ہیں، اور ہمارے جیسے ان کے خیر خواہ ان کی خرابیٔ صحت کی دہائی دے رہے ہیں۔
برادرم سلیم صافی کو تفصیل معلوم ہوئی تو ان کی چیخ نکل گئی، برادرم رئوف کلاسرا کو پتہ چلا تو ان کا پِتّہ پانی ہو گیا۔ مَیں بھی اپنے آنسو نہ روک سکا کہ سیاست کے سینے میں دِل ہو یا نہ ہو صحافت کے سینے میں بہرحال ہوتا ہے۔ ابھی تک ہماری آہ بر فلک نہیں پہنچی، اور زرداری صاحب بدستور خطرے میں ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی معاملے کو وہاں پہنچا سکتی ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ زرداری صاحب کی فوری رہائی ممکن نہ ہو تو سندھ پہنچائی تو ممکن بنائی جا سکتی ہے کہ وہاں وہ ہسپتال میں رہیں یا جیل میں، ان کی ذمہ داری براہِ راست ان کے لواحقین پر عائد ہو جائے گی۔
سنجرانی صاحب اگر اپنی صلاحیتوں کو آزما کر زرداری صاحب کو اُسی طرح کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیں، جس طرح زرداری صاحب نے انہیں پہنچایا تھا تو اپوزیشن سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی، اور مذاکرات کرنے والوں کا رعب بھی بیٹھے گا کہ ان کے پاس اختیار نام کی کوئی شے موجود ہے۔
بہرحال مذاکراتی کمیٹی میں چودھری پرویز الٰہی کی نامزدگی معنی خیز ہے کہ وہ توڑنے سے زیادہ جوڑنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ مولانا کے والد مفتی محمود مرحوم سے ان کے چچا اور سسر مرحوم چودھری ظہور الٰہی کے قریبی تعلقات تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے عہد ستم نے انہیں درد کے مضبوط رشتے میں باندھ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن مذاکرات کمیٹی کے ساتھ چائے پینے یا اسے چائے پلانے سے تو شاید انکار نہ کر پائیں، لیکن باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ سپیکر قومی اسمبلی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کمیٹی کا دائرہ پوری اپوزیشن تک پھیلا ہوا ہے، گویا بات چل نکلی تو دور تک جا سکتی ہے۔ کمیٹی کے اعلان کے فوراً بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک تقریب میں مولانا فضل الرحمن پر پھبتی کسی، لیکن پھر سنبھل گئے، اس میں اضافہ نہیں کیا۔ بری بات میں سے یہ اچھی بات نکالی جا سکتی ہے۔
مولانا کے ”آزادی مارچ‘‘ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں پُر جوش ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو روک نہیں پا رہی، اور شہباز شریف صاحب نے تو باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے مولانا کے کندھے سے کندھا ملا کے نئے انتخابات بذریعہ ”آزادی مارچ‘‘ کی حمایت کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بشارت بھی دے ڈالی کہ اگر اپوزیشن (یعنی ان) کی حکومت قائم ہو گئی تو چھ ماہ کے اندر اندر اس نقصانِ عظیم کا ازالہ کر گزریں گے جو تحریک انصاف اور اس کے ہم نوائوں نے قومی معیشت کو ایک سال میں پہنچا دیا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ معاشی حالات خراب ہیں۔ گیلپ سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے چار افراد مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری سے پریشان ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی سب سے بڑی حلیف ”مہنگائی‘‘ ہے، ووٹروںکو جو سبز باغ انتخابی مہم کے دوران دکھائے گئے تھے، اب وہ ”کالا باغ‘‘ بن چکے ہیں، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ حکومت ریت کی دیوار ہے۔ اس کے ووٹر بھی اپنا وجود رکھتے ہیں، اور ابھی تک نا امید ہونے پر تیار نہیں ہیں۔
مولانا کے آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد ہے، لیکن وہاں جا کر وہ کیا کریں گے یہ واضح نہیں ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملک بھر کے جید علما کو مدعو کیا گیا، ان میں سے چند نے معذرت کر لی کہ یہ ماحول ایسی کسی ملاقات کے لیے ساز گار نہیں ہے، اس سے مولانا فضل الرحمن کی مخالفت کا تاثر ملے گا۔ جید عالم دین مولانا زر ولی کا ایک ”آڈیو میسج‘‘ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا کہ انہوں نے عین آخری وقت پر اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مولانا فضل الرحمن کا فائدہ نہیں کر سکتے تو نقصان بھی نہیں کرنا چاہتے۔
وہ اس زعم میں تھے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ساتھ لے جا کر مولانا فضل الرحمن پر چھاپہ مار دیں گے لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ کئی بار استخارے کے بعد بھی اسلام آباد تک سفر میں یک سوئی نہ ہو سکی۔ ملاقات بہرحال ہوئی اور کئی علمائے کرام گئے بھی، لیکن مولانا طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے مارچ کا ذکر یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ مدرسہ اصلاحات کے بارے میں تبادلۂ خیال البتہ بھرپور رہا۔
وزیر اعظم عمران خان کو مولانا طارق جمیل کی دو ٹوک حمایت حاصل ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور یوں وہ حکومت کو کمک فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی روحانی حلقوں میں وزیر اعظم کی پذیرائی ختم نہیں کی جا سکی۔ مولانا فضل الرحمن نے جہاں سر ہتھیلی پر رکھا ہوا ہے، وہاں دوسری ہتھیلیاں بھی اپنے وجود کا احساس دِلانے کو موجود ہیں‘ ان پر بھی چھوٹے موٹے سر تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن لاہور آئے تو ”سیفما‘‘ کے دفتر میں برادرم امتیاز عالم کی میزبانی میں ان سے تبادلۂ خیال ممکن ہوا۔
ہر شخص یہ جاننے کے لیے بے چین تھا کہ ”آزادی مارچ‘‘ اسلام آباد پہنچ کر کیا کرے گا۔ مولانا بند مٹھی کھولنے کو تیار نہیں تھے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں سے البتہ یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ ”عمرانی قادری‘‘ دھرنے کے علاوہ کسی تحریک میں کبھی دھرنا دے کر نتائج حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ملک بھر سے چند ہزار افراد اسلام آباد میں اکٹھے کر کے حکومت کو گھٹنوں کے بل گرانے کا خواب نہ تو فیلڈ مارشل ایوب خان کے مخالفین نے دیکھا، نہ بھٹو مرحوم کے خلاف معرکہ برپا کرنے والوں نے کہ ”یہ دھرنا ٹیکنالوجی‘‘ ایجاد کرنے والے عوامی تائید کے بارے میں پُر اعتماد نظر نہیں آتے تھے۔
126 دن کے دھرنے کے پورے ملک پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔ کئی شہروں میں انصافی رہنمائوں نے ہڑتال کرانے، ٹریفک رکوانے کی کوشش کی لیکن یہ سب مقامی نقل و حرکت تھی، قومی سطح کی برکت اس میں نہیں پڑ سکی۔ سو دھرنا نشین وہاں تک نہ بڑھ سکے جہاں تک بڑھنا چاہتے تھے۔ موجد صاحبان بھی اپنی جگہ ٹھٹھر کر رہ گئے۔ دھرنا عمران خان کی طاقت میں اضافہ کر گزرا۔ برسر اقتدار لوگوںکے امیج کو متاثر کر گیا، لیکن وہ کچھ نہ ہوا جو ملک گیر تحریک کے نتیجے میں ہوتا رہا تھا کہ تحت گرائے گئے اور نہ تاج اچھالے جا سکے… اس ”آپشن‘‘ پر اب کام جاری ہے لیکن ؎
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
بشکریہ روزنامہ پاکستان
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •