افسانہ: تنگ پگڈنڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

والد کی گفتگو کے دوران وہ بار بار ماتھے سے اپنا پسینہ صاف کرتا اور ہونٹوں کو بھینچتا رہا۔ وہ اس تنگ سی پگڈنڈی سے نیچے ایک چھوٹے سے گھاس کے ٹکرے پر اتر گیا اور کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر قدرے سرد لہجے میں گویا ہوا۔

” دیکھیں ابو میں بالکل بھی توقع نہیں کر رہا تھا آج دھان کی فصل دکھانے کے بہانے آپ مجھ سے اس طرح کی کوئی بات کریں گے۔ اگر یہی کچھ کہنا تھا تو گھر پر ہی کہہ لیتے خواہ مخواہ غلط بیانی کی آپ نے۔ اگر یہی بات آپ مجھ سے میرے کالج یا یونیورسٹی کے دنوں میں کر لیتے تو فضول میں آپ اور سدرہ کو اتنا لمبا انتظار نا کرنا پڑتا۔ اور ہاں! آپ یہ بار بار اپنے مرنے کی بات کرکے مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کی ہرگز کوشش نا کریں کیونکہ یہ آپ والا پرانا اور دقیانوسی قسم کا زمانہ نہیں ہے جب بڑے ایسی جذباتی اور غیر منطقی سی باتیں کرکے اولاد کو اپنے زیر اثر کر لیتے تھے۔

ویسے بھی آپ کو کچھ نہیں ہے اور آپ کہیں نہیں جا رہے کم از کم مجھے آپ ہرگز بیمار نہیں لگتے۔ فرض کریں کوئی بیمار ہو تو بھی اس کو اپنی بیماری کو بطور نفسیاتی ہتھیار کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ میں نے سدرہ کو کبھی کسی اور نظر سے نہیں دیکھا اس کے لیے میرے دل میں ویسے ہی جذبات ہیں جیسے کہ چھوٹی کے لئے ہیں۔ اس کے ساتھ میری منگنی کرنے سے پہلے کاش آپ ایک بار سوچ لیتے کہ آپ کتنا غلط فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔

ایک بچے کی معصومیت کا فائدہ اٹھاکر کوئی اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اتنی آسانی کے ساتھ اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر کرلے۔ یہ اس کی بہت بڑی زیادتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی کل کو بڑا ہونا ہوتا ہے ان کے سینے میں بھیجذبات احساسات ہوتے ہیں۔ بچے کوئی بھیڑ بکری تھوڑی ہوتے ہیں جو ایک کھونٹی سے کھول کر دوسری پہ باندھ دیا جائے۔ اس بیچاری کے ساتھ بھی سراسر زیادتی کی گئی۔ اگر وہ بے آسرا نا ہوتی تو اس پہ صدائے احتجاج ضرور بلند کرتی۔

خیر! رہی بات میری شادی کی تو اس کے حوالے سے میں نے بالکل بھی نہیں سوچا۔ میری ساری توجہ اپنے کیریئر پر ہے۔ میں اس جاب کو حتمی نہیں سمجھتا۔ مستقبل قریب میں ملک سے باہر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ وہاں جا کر اپنے آپ کو سیٹل کروں گا۔ اپنا کیریئر بناؤں گا۔ جب مجھے لگے گا کہ میں اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہوں تب ہی واپسی کا فیصلہ کروں گا اور تب کسی سے شادی کا بھی سوچوں گا۔ مجھے امید ہے آپ میری باتوں کو مثبت لیں گے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ میرے خیال میں اب ہمیں گھر جانا چاہیے“

اس کی باتوں کے دوران ماسٹر جی کے قدم لڑکھڑا سے گئے اور وہ پگڈنڈی کے کنارے بیٹھ گئے۔ ایک دو بار گہری سانس لی اور بولے :

” میں تمہاری باتیں سن کر حیرت میں مبتلا سا ہو گیا ہوں میرے بچے۔ ایک باپ کا دل اپنی اولاد کے لئے کیسے ڈھڑکتا ہے تم یہ سمجھ نہیں پائے۔ میں نے تمہیں خدا سے مانگنے کے لیے زندگی میں جتنے جتن کیے آج تم نے شاید اس کا حق ادا کر دیا ہے۔ میں بھی کتنا بھولا اور کم فہم ہوں۔ میرا بیٹا اتنا بڑا اور سمجھدار ہوگیا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ انگلی پکڑ کر اسی پگڈنڈی پر چلنے والا آج اس سے انگلی چھڑا کر بھاگنے کی کوشش میں ہے۔ مجھے تعجب کے بجائے خوشی ہے کہ کروڑوں کی جائیداد اور زمینوں کا مالک آج باپ کے سامنے اپنا کیریئر بنانے کی بات کررہا ہے۔ باقی رہی بات سدرہ سے شادی کی تو وہ تمہیں کرنا پڑے گی آخر میں نے اپنے مرحوم بھائی کو زبان دی ہے۔ میں اس کے ساتھ کیا وعدہ توڑ کر اس کی روح کو ایذا نہیں پہنچانا چاہتا“

” ابو! چاچو سے وعدہ آپ نے کیا تھا میں نے نہیں۔ بڑوں کے ایسے یکطرفہ فیصلے بچوں کی زندگیوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ میں جب اس لڑکی کے لئے ایسی کوئی سوچ ہی نہیں رکھتا تو پھر شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے رشتے جو اپنی نہیں کسی کی خواہشات کی وجہ سے پروان چڑھیں کبھی دیر پا ثابت نہیں ہوتے۔ “

ماسٹر صاحب اپنے اکلوتے بیٹے کے منہ سے ایسی کڑوی باتیں سن کر سخت صدمے میں آگئے۔ وہ اب تک روحان کے حوالے سے نہایت خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ وہ کبھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے گا۔ اس تنگ پگڈنڈی پر چلتے وقت ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے دماغ میں بکھری ہوئی سوچ نے طلاطم برپا کر رکھا تھا۔ دل مضمحل اور لہجے سرد تھے۔ وہ تہیہ کر چکے تھے آیندہ اپنے اس بیٹے کے سامنے رشتوں کے اس پاس کی کبھی بھیک نہیں مانگیں گے۔

وقت کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔ حاجی صاحب نے روحان سے بول چال کافی حد تک محدود کر لیا۔ وہ رشتوں میں احترام اور وقار کے قائل تھے۔ روحان کی اس دن کی باتوں سے وہ اندر ہی اندر بے حد دکھی تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ناز و نعم میں پلا ان کا اکلوتا بیٹا ان سے اتنے ترش لہجے میں ایسی کڑوی باتیں کرے گا۔ وہ بیٹے کی سعادت مندی کے حوالے سے خاصی خوش فہمی کا شکار تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ روحان میڑک کے بعد پڑھائی کے لیے شہر چلا گیا۔

باپ بیٹے کا آپس میں میل جول نا ہونے کے برابر تھا۔ ماسٹر صاحب جب بھی شہر والے گھر جاتے وہ پڑھائی کا بہانہ بنا کر ان سے بہت محدود گفتگو کرتا، یا پھر دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے چلا جاتا۔ ان کے ذہن میں کبھی بھی یہ خیال نہ آیا کہ وہ ان کے ساتھ ایسی سرد مہری برتے گا۔ اس واقعہ کے ٹھیک دو ماہ بعد روحان ایک دوست کی وساطت سے دوبئی اور وہاں سے لندن چلا گیا۔ ماں نے لاکھ سمجھایا مگر وہ نا روکا۔ ماسٹر صاحب نے انتہائی بے التفاتی سے اسے الوداع کہا۔ لندن جانے کے بعد اس نے گھر والوں سے رابطہ کافی محدود کر لیا تھا۔ کبھی کبھار ماں سے بات کرلیتا۔ باپ کا حال چال پوچھتا مگر بات کبھی نا کرتا۔ پانچ سال ڈھلتے سورج کی طرح چپکے سے گزر گئے۔

آج اس بالکونی میں ایزی چئیر پر بیٹھے اسے احساس ہو رہا تھا کہ آگے بڑھنے کے شوق میں وہ بہت کچھ پیچھے چھوڑ کر آگیا تھا۔ اس نے اپنوں سے دور ہونے کا فیصلہ کتنی آسانی کے ساتھ اور کتنے سستے میں کر لیا تھا۔ اس نے کافی کے مگ کو ٹیبل سے اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا تو وہ بھی رشتوں کی طرح ٹھنڈی پڑ چکی تھی۔ زین دفتر سے آ چکا تھا۔ روحان نے ماموں خالد کے فون سے متعلق اسے آگاہ کیا۔ زین نے اس کی ڈھارس بندھائی اور کہا تمہیں فوری واپس جانا چاہیے۔

اس نے اپنا لیپ آپ آن کرکے فوری دستیاب فلائیٹ کا پتہ کیا۔ ایک دوست کے توسط سے صبح چار بجے کی فلائیٹ میں سیٹ کا انتظام ہو گیا۔ زین نے سامان کو سمیٹنے میں اس کا ساتھ دیا۔ وہ رات بارہ بجے ہی ائیر پورٹ کے لئے نکل گیا۔ ائیر پورٹ کے مرکزی لاؤنج میں لوگوں کا خاصا رش تھا۔ دیواروں کے ساتھ لٹکے لاؤڈ سپیکروں سے مخلوط آوازیں گونج رہی تھیں۔ وہ وہاں ایک خالی سیٹ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا موبائل پر بجنے والی میسیج ٹون نے اس کو پتلون سے موبائل نکالنے پر مجبور کیا۔ وہ ایک وٹس ایپ وائس میسیج تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
افضل حیدر کی دیگر تحریریں