افسانہ: تنگ پگڈنڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں سدرہ اور آمنہ کی شادی کے بعد سکون کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے اوپر واجب تمام قرض اتارنا چاہتا ہوں۔ میں نے کچھ فیصلےکیے ہیں۔ تمہیں اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ بے خبری کا کوئی شکوہ نا رہے۔ سدرہ کی شادی تیرے ماموں زاد راحیل کے ساتھ اور آمنہ کی نسبت سدرہ کے بھائی نوید کے ساتھ طے پا گئی ہے۔ اور آخری بات یہ کہ میں نے اپنی تمام زمین جائیداد ابھی دو دن پہلے کچہری جا کر تیری ماں بہن اور سدرہ کے نام کردی ہے۔ میرے خیال میں میری تمام جائیداد کا حقیقی وارث ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لوگ کہتے رہے بیٹے کے ہوتے ایسا مت کرو مگر میں ضدی باز نا آیا۔ لوگوں سے کہا میرے جتنا انتظار کرتے تو پھر اندازہ ہوتا پاس ہونے اور دور رہنے والے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

اور ہاں! ایک آدھ مہینے کے بعد میرے مرنے کے حوالے سے تمہیں ایک فون آئے گا۔ اس پر زیادہ جذباتی مت ہونا اور نا ہی واپس آنے کا بے وقوفانہ فیصلہ کرنا، تجہیز و تکفین محض چند ہی گھنٹوں کا کام ہے یہاں میرے بہت سارے اپنے ہیں جو یہ سب کر لیں گے۔ اب اس فضول کام کے لئے بندہ لندن سے واپس آئے تو اچھا نہیں لگتا، اور ویسے بھی لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں تمہارے دل پر بہت گراں گزریں گی۔ لوگ تو یہ بھی کہیں گے اس موت کا سبب تم ہو۔ کس کس کا منہ بند کرو گے کس کس کو روکو گے اس لیے وہیں رہنا یہاں مت آنا زمانہ بہت ظالم ہے۔

بدنصیب باپ

ہاشم خان

خط کے اختتام پر اس نے ایک طویل سرد آہ بھری اور لاؤنج کی چھت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ دیواروں کے ساتھ لٹکے سپیکروں کی آوازوں نے وہاں ایک طوفان سا برپا کر رکھا تھا۔ ہر لاوڈ سپیکر پر وہاں سے روانہ ہونے والیں مختلف اطراف کی پروازوں کے سلسلے میں اعلانات جاری تھے۔ وہ آوازوں کے اس جنگل میں خود کو تنہا اور ویران محسوس کر رہا تھا۔ اس کا دل رونے کو چاہ رہا تھا مگر آنسوؤں کا ذخیرہ اس کی فریب زدہ پتلیوں میں کہیں اٹک کر رہ گیا تھا۔ اس نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور اپنا سر گھٹنوں پر جھکا لیا، اسی اثنا ساتھ والی نشست پر رکھے اس کے موبائل نے پھڑ پھڑانا شروع کردیا۔ ماموں خالد کی اداس اور بھرائی ہوئی آواڑ نے اس کی سماعتوں کا تعاقب کیا۔ ”بیٹے! بھائی صاحب نہیں رہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
افضل حیدر کی دیگر تحریریں