جامشورو کے تعلیمی ادارے یا جنسی ہراسائی کے سینٹرز؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلائی کھوج کی تاریخ میں نصف صدی بعد پہلی مرتبہ جب دو امریکی خواتین خلاباز کرسٹینا کوک اور جیسیکا میئر بین القوامی خلائی اسٹیشن پر خلا میں اکٹھے چہل قدمی کرتے نظر آئیں تو پوری دنیا نے انہیں خراج تحیسن پیش کیا۔ دوسری طرف خفیہ ویڈیو بلیک میلنگ اسکینڈل میں بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹانے پر بھی لوگ مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ جس معاشرے میں لوگ ابھی تک عورت کی عقل ٹخنے میں ہونے کی بات کریں وہاں پر یقیناً پڑھے لکھے صاحبان خواتین کی جنسی ہراسائی کو اپنی تفریح کا ذریعہ ہی سمجھتے ہوں گے۔

سندھ کا شہر جام شورو اپنی تیز ہواؤں، یونیورسٹیوں اور ریت میں پکی پلہ مچھلی کی وجہ سے کافی مشہور و معروف ہے مگر ساتھ ساتھ ان یونیورسٹیوں میں خواتین اسٹوڈنٹس کے ساتھ  جنسی ہراسائی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ دو سالوں میں گرلز ریسکیو سینٹر میں 70 سے زائد شکایات درج کرائی گئی ہیں جن میں 80 فیصد شکایات کا تعلق سندھ یونیورسٹی جام شورو سے ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی سندھ یونیورسٹی ہے جس کے انسٹیٹیوٹ آف انگلش اینڈ لٹریچر کی طالبات رمشہ میمن اور نسیم ڈیپر کا کھلا خط مںظر نامے پر آیا تھا کہ ان کے اساتذہ ان کو جنسی تعلقات رکھنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ جامشورو میں قائم لمس اور مہران یونیورسٹیز کے اساتذہ بھی جنسی ہراسائی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کے باوجود بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

گرلز ریسکیو سینٹر کی 4 جولائی 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ یونیورسٹی جام شورو میں خواتین طلباء اور اساتذہ جنسی ہراسائی کا شکار ہوتی رہی ہیں بنیادی طور پر یہ رپورٹ سندھ یونیورسٹی جام شورو کے انسٹیوٹ آف پلانٹ سائینسز کے سینئر استاد ڈاکٹر عبدالجبار پیرزادو کے متعلق تھی کہ ان کے خلاف ان کے اپنے ساتھی اساتذہ رابعہ اسماء میمن اور کچھ شاگرد طلباء نے گرلز ریسکیو سنیٹر میں جنسی ہراسائی کی شکایات درج کرائیں۔ تفتیش کے بعد ڈاکٹر عبدالجبار پیرزادہ کو جنسی ہراسائی میں ملوث قرار دے کر یونیورسٹی سے سفارش کی گئی کہ ان کی کسی اور کیمپس میں بدلی کر دی جائے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔ ان کا کسی بھی خاتون کے ساتھ  کوئی بلواسطہ رابطہ قائم نہ ہو سکے۔

اسی طرح مہران یونیورسٹی جام شورو کے استاد اویس احمد مرزا کے خلاف بھی گرلز ریسکیو سینٹر کو جنسی ہراسائی کی شکایت موصول ہوئی اس کے علاوہ 25 ستمبر 2019 کو سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایک طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسائی پر فیصلہ سناتے ہوئے استاد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا مگر ابھی تک اس استاد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یاد رہے کہ یہ گرلز ریسکیو سنٹر سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کی یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کے بعد سندھ ہائی کورٹ کی حیدرآباد سرکٹ بینچ کے ہدایت نامے پر قائم کیا گیا تھا جو یونیورسٹی میں خواتین کی جنسی ہراسائی کے حوالے سے شکایات موصول کر کے اپنی سفارشات مرتب کرتا ہے۔ مگر یونیورسٹی انتظامیہ اس ریسکیو سنٹر پر یہ الزام لگاتی نظر آتی ہے کہ وہ خود سے جج بنے بیٹھے ہیں۔ گرلز ریسکیو سینٹر کی رپورٹ کے مطابق یہ اساتذہ طلباء کا زبانی امتحان لینے کے بہانے انہیں اپنے کمروں میں بلواتے ہیں اور زیادہ نمبر دینے یا فیل کرنے کا ڈراوا دے کر ان کو جنسی ہراسائی کا شکار بناتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ یونیورسٹیوں کے ہر شعبہ میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی بنائی جائے جس میں کم از کم دو خواتین شامل ہوں اور کمیٹی کے ارکان کے فون نمبر نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے جائیں اور اساتذہ کے طلباء کو کمروں میں بلوانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ اس طرح کے جنسی ہراسائی کے واقعات سے بچاؤ کو ممکن بنایا جا سکے۔ کچھ دن پہلے لمس جامشورو کی ڈی فارمیسی کی طالبہ سائرہ تھائیم نے اپنے ہاتھ کی رگ کاٹ کر خود کشی کرنے کی کوشش کی کہ اس کو اس کے استاد شفقت رضوی اور احسان میمن کافی عرصے سے ہراساں کر رہے تھے اور شکایت کرنے کے باوجود اسں کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ جب سائرہ تھائیم کا خود کشی والا معاملہ میڈیا میں آیا تو اس معاملے پر یونیورسٹی کے طرف سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس پر ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ سائرہ کو ذہنی مریض قرار دینے پر تلی نظر آ رہی ہے تو  دوسری طرف سائرہ اور اس کے والدین کو انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ سائرہ کے والدین کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ قانونی کارروائی کو چھوڑ کر اس معاملے پر جرگہ کر لیتے ہیں۔

ملک بھر کی یونیورسٹیز اور کالجز کے ماحول میں جنسی ہراسائی کے واقعات معمول کی بات بنتے جا رہے ہیں مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس طرح کے جنسی ہراسائی کے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہو پائے گی ہر واقعے کے بعد صرف ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے مگر ملزم ہمیشہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے قانوں کی گرفت سے بچ نکلتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •