’’قانون سب کے لیے برابر‘‘ بنانے کی جستجو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاتھوں سے لگائی گرہیں ہیں۔ انہیں کھولنے کے لئے اپنے دانت استعمال کرنے کو مگر کوئی تیار نہیں ہے۔ نواز شریف سے اندھی نفرت میں مبتلا لوگوں کے علاوہ ہمارے لوگوں کی بے پناہ اکثریت تسلیم کرتی ہے کہ 70سال کی عمر کو چھوتے سابق وزیر اعظم ان دنوں سخت علیل ہیں۔دل کی بیماری انہیں برسوں سے لاحق ہے۔شوگر کا مرض بھی شدت اختیار کرچکا ہے۔عمر کے جس حصے میں وہ داخل ہوچکے ہیں وہاں ایسی بیماریاں قید میں مزید تکلیف دہ ہوجاتی ہیں۔انہیں بروقت علاج کی ضرورت ہے۔

نواز شریف کے خاندان کا اصرار ہے کہ مناسب علاج اسی صورت میسر ہوسکتا ہے اگر جدید ذرائع کے استعمال سے تشخیص ہوسکے کہ ان کے خون میں مدافعت پیدا کرنے والے خلیے یکایک کمزور ہونا کیوں شروع ہوگئے۔ پاکستان میں یہ تشخیص ابھی تک ہو نہیں پائی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں علاج کے لئے تین ماہ کی ضمانت دے چکی ہے۔مناسب ہوگا کہ انہیں ان دنوں بیرون ملک بھیج کر تشخیص اور علاج کا بندوبست ہو۔ عمران خان اپنے سرمگر یہ ’’تہمت‘‘ لینے کو تیار نہیں کہ ا نہوں نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پائے نواز شریف کو جنہیں احتساب عدالت نے کرپشن کے ایک کیس میں جیل بھیج رکھا ہے بظاہر کسی “Deal”کی وجہ سے بیرون ملک جانے دیا جائے۔

احتساب والوں کو بھی اپنے ’’مشن‘‘ پر کاربند رہنا ہے۔انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو ’’قانون سب کے لئے برابر‘‘ دکھانا ہے۔نواز شریف ان کی نظر میں فقط ایک ’’مجرم‘‘ ہیں۔انہیں ’خصوصی رعایت‘‘ دینے کو آمادہ نہیں ہورہے۔کسی شخص کو ECLکی فہرست سے نکالنا ان کی دانست میں وفاقی کابینہ کا صوابدیدی حق ہے۔وفاقی حکومت جانے اور نواز شریف۔’’سیاسی وجوہات‘‘ کی بناء پر عمران خان صاحب شاید نواز شریف صاحب کا نام ECLسے ہٹانے کو راضی ہوجائیں۔مجبوری ان کی مگر یہ ہے کہ وہ ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ بنانے کا عدہ کرتے رہے ہیں۔’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو انہیں ’’نشانِ عبرت‘‘ بنانا ہے۔

اس ضمن میں کسی کو NROدینے کو ہرگز تیار نہیں۔وہ تیار ہوبھی جائیں تو PTIکے پنجابی محاورے والے ’’اونترے منڈے‘‘ بھی ہیں۔وہ دہرائے چلے جارہے ہیں کہ پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں سزا یافتہ قیدی سنگین امراض کا شکار بھی ہیں۔انہیں علاج کے لئے عام ادویات بھی وستیاب نہیں۔ ’’مجرم‘‘ نواز شریف کے ساتھ ’’امتیازی سلوک‘‘ کیوں برتا جائے۔عمران خان صاحب کی آسانی کے لئے کہانی یہ پھیلائی گئی کہ نواز شریف نے ’’بیماری کے نام پر‘‘ اپنی رہائی اور بیرون ملک روانگی کے لئے خفیہ انداز میں اپنے ’’جرائم‘‘ کا اعتراف کرلیا ہے۔

ان جرائم کا ’’کفارہ‘‘ وہ بھاری رقوم کی ادائیگی کے ذریعے کرنے کو تیار ہیں۔ ساتھ ہی مگر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ’’ریکارڈ‘‘ پر یہ بات نہ آئے کہ انہوں نے ’’کفارے‘‘ کی رقم ادا کی۔یوں محسوس ہوجیسے ان کے کسی ’’غیر ملکی دوست‘‘ نے حکومتِ پاکستان کو ’’’قرضِ حسنہ‘‘ کی صورت یاسرمایہ کاری کے لئے بھاری بھرکم رقم فراہم کردی۔مصیبت مگر یہ آن پڑی ہے کہ ہماری معیشت کو جنونی انداز میں ان دنوں Document کیا جارہا ہے۔قومی خزانے پر IMF نے اپنے نگہبان بٹھارکھے ہیں۔’’کفارے‘‘ کی رقم چھپائی نہیں جاسکتی۔ FATF کو اس رقم کے بارے میں کیا بتایا جائے گا جو ہمارے کئی ’’باخبر‘‘ مشہور ہوئے دوستوں کے بقول 14 بلین ڈالر کی حد کو چھوچکی ہے۔

آج کے مابعدازحقائق(Post Truth)دور میں لوگ ملین اور بلین میں فرق پر غور کرنے ہی کو تیار نہیں۔نواز شریف سے 14بلین ڈالر وصول کرنے کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے ’’باخبر‘‘ صحافی یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ پاکستان کو کڑی شرائط کے عوضIMF نے تین سالوں میں فقط 6 بلین ڈلر مہیا کرنے کا وعدہ کررکھا ہے۔

22 کروڑ کی آبادی والا ملک جو عالم اسلام کی واحد ’’ایٹمی قوت‘‘ بھی ہے عالمی معیشت کے حتمی نگہبانوں سے تمام تر کاوشوں کے باوجود صرف 6 بلین ڈالر کی فراہمی کو یقینی بناپایا۔ وہ بھی قسطوں میں۔ نواز شریف بے تحاشہ امیرہوں گے۔14 ارب ڈالر یکمشت مگر دُنیا کا امیر ترین شخص بھی ادا نہیں کرسکتا۔ ’’کفارے‘‘ والی کہانی لہذا رش نہ لے پائی۔ ’’ڈبہ‘‘ فلم ثابت ہوئی۔ نواز شریف کو اس تناظر میں بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی تو NROکے سوا اس کے لئے کوئی معقول ترکیب ایجاد کرنا ممکن ہی نہیں۔

عمران خان صاحب کو لیکن سمجھایا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے نواز شریف کو NRO دے دیا تو 22 سال کی جدوجہد سے انہوں نے جو بیانیہ بنایا ہے فی الفور زمین بوس ہوجائے گا۔ ’’کپتان‘‘ دیگر سیاست دانوں کی طرح ’’سمجھوتے‘‘ کرتا نظر آئے گا۔ ان کے شیدائی مایوس ہوجائیں گے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کی بے پناہ اکثریت ان دنوں ویسے بھی کسادبازاری،بیروزگاری اور مہنگائی سے بہت پریشان ہے۔ عمران خان صاحب کا اس کے باوجود ساتھ چھوڑنے کو فقط اس لئے آمادہ نہیں کیونکہ وہ ’’سخت گیر‘‘ اقدامات کے ذریعے ملک سنوارنے کی لگن میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

’’وقت اچھا بھی آئے گا‘‘ کی امید کے ساتھ ان دنوں کی پریشانیاں برداشت کررہے ہیں۔نواز شریف جیسے ’’قدآور مجرموں‘‘ کو رعایتیں ملنا شروع ہوگئیں تو معاشی مشکلات سے پریشان ہوئے پرستار ناراض ہوجائیں گے۔اندھی نفرت وعقید ت کا دور ہے۔کئی بار اس کالم میں فرانس کے البرٹ کامیوکی مشہور کتاب The Rebel کا تذکرہ کیا ہے۔کامیو جو بہت عرصے تک بے تحاشہ’’انقلابی‘‘ رہا اپنی عمر کے Mature زمانے میں داخل ہوتے ہی ’’انقلاب‘‘ کی بابت مشکل سوالات اٹھانا شروع ہوگیا تھا۔ ’’انقلاب فرانس‘‘ کو اس نے اپنے سوالات سے ’’’ہجوم کی وحشت‘‘ قرار دیا۔

اس کی دانست میں اشرافیہ سے نفرت میں مبتلا ہجوم نے ’’انقلاب فرانس‘‘ کے دوران اجتماعی طورپر جنونی سفاکیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس سفاکیت کو کامیو نے Crimes of Reason قرار دیا۔ وہ ’’’سخت گیری‘‘ جو فقط غصے پرمبنی نہیں ہوتی۔ بہت سوچ بچار کے بعد معاشرے کو ’’انصاف‘‘ مہیا کرنے کے نام پر گھڑے دلائل۔وطنِ عزیز میں 2008 سے ’’قانون کو سب کے لئے برابر‘‘ بنانے کی جستجو ہورہی ہے۔ اس جستجو کی بدولت ’’حیف ہے اس قوم پہ‘‘ کی دہائی مچاتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کیا گیا۔ اپریل 2016 میں پانامہ دستاویزات منکشف ہوجانے کے بعد نواز شریف اور ان کے خاندان کو بہت تواتر سے ’’مافیا‘‘ ٹھہرایا گیا۔’’مافیا‘‘ کہلاتے افراد ’’رحم‘‘ کے مستحق نہیں ہوتے۔

نواز شریف کو تھوڑی رعایت فراہم کرنے میں ’’مافیا‘‘ والا بیانیہ آڑے آرہا ہے۔ حل مگر نکالنا ہوگا کیونکہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔شاید یہ کالم چھپنے تک کوئی Win-Winفارمولا نکل آئے۔ عمران خان صاحب کا وعدہ تھا کہ ’’میں انہیں رلائوںگا‘‘ اب تک وہ یہ وعدہ وفا کرتے نظر آئے ہیں۔شہباز شریف اور نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ کے سنجیدہ اور تجربہ کار رہ نما خاموشی سے داد فریاد ہی میں تو مصروف ہیں۔ نواز شریف کو ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کے خواہش مند یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ ا نہیں احتساب کی’’عملی مثال‘‘ بنانے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ زندہ رہیں۔

جیل میں احتساب عدالت سے ملی سزا کو ہم سب کے روبرو بھگتیں۔ اس”Noble Cause”کے حصول کے لئے زیادہ بہتر ہے کہ انہیں صحت یاب دکھانے کا ہر ممکن بندوبست ہو اور وہ تشخیص وعلاج کے بعد دوبارہ جیل چلے جائیں۔ 2019میں بھی ہم اس سوچ سے کیوں جڑے ہوئے ہیں جہاں ’’انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے والے‘‘ شہنشاہ مجرموں کو کنوئیں میں پھینک کر بھول جایا کرتے تھے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •