نملوس کا گناہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیش امام کو بہت عجلت تھی۔ اس ڈر سے کہ کوئی اس رشتے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ اس نے فوراً نکاح کی تجویز رکھی اور نملوس بھی راضی ہو گیا۔

نملوس حلیمہ کو لے کر گھر میں داخل ہوا تو حکم اللہ کو ادب سے سلام کرتے ہوئے گویا ہوا :

 ” ابّا! ایمان کے بعد نیک عورت سب سے بڑی نعمت ہوتی ہے۔ خدا نے مجھے اس نعمت سے نوازا۔ آستانہ فرقانیہ کے پیش امام صاحب نے اپنی دختر نیک اختر میرے حق زوجیت میں سونپی ہے۔ “

اور حکم اللہ جیسے سکتے میں تھا۔ اس کی نگاہ حلیمہ پر جم سی گئی تھی۔ وہ یہ بھی نہیں پوچھ سکا کہ نکاح کب کیا؟ مجھے خبر کیوں نہ کی؟ وہ تو بس حیران تھا کہ اس کا کالا بھجنگ بیٹا کس کو ہ قاف سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حلیمہ ڈر گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر لرزہ سا طاری ہو گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ حکم اللہ کی زبان لپلپا رہی ہے اور آنکھیں سانپ کی آنکھوں کی طرح ہیرے اگل رہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حلیمہ بے ہوش ہو گئی۔

نملوس گھبرا گیا۔ اس نے حلیمہ کو گود میں اٹھایا اور بستر پر لایا۔ منھ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ چارو قل پڑھا۔ درود شریف پڑھ کر دم کیا۔ حلیمہ کو ہوش آیا تو وہ نملوس سے لپٹ گئی۔

 ” میرے سرتاج۔ ۔ ۔ ۔ کہا ں ہیں؟ “

 ” میں یہاں ہوں حلیمہ! تمہارے پاس! “ نملوس نے حلیمہ کے گال تھپتھپائے اور اُسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

مجھے چھوڑ کر مت جایئے۔ ”حلیمہ کانپتی ہوئی اس کے سینے میں کسی بچّے کی طرح سمٹ گئی۔

حکم اللہ کی طبیعت میں ہیجان تھا۔ وہ گھر سے باہر نکل گیا اور عثمان حلوائی کی دوکان پر آیا۔ عثمان سے اس کو رغبت تھی۔ اس کو سب حال سنایا۔ حلوائی پیش امام کو جانتا تھا۔ حلیمہ کے حسن کے بھی چرچے سنے تھے۔

 ” غریب کو حسین عورت نہیں سجتی ہے حکم اللہ۔ تمہارا بیٹا اپنے لیے لعنت لے آیا۔ “

 ” حسن راجا رجواڑوں کو سجتا ہے یا بالا خانے کی طوائفوں کو۔ “

اور محلّے میں شور تھا۔ ”غریب کی جھولی میں زمرّد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

اتنی حسین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

کوئی نقص ہوگا۔ ورنہ پیش امام اس کالے کلوٹے کے حوالے نہیں کر دیتا۔

اس کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ گھر آتے ہی بے ہوش ہو گئی۔

 ” ضرور پیٹ سے ہے۔ “

محلّے کی عورتیں بھی جوق در جوق چلی آتی تھیں۔ منھ پر پلّو کھینچ کر کھسر پھسر کرتیں۔

 ” یہ حور پری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نملوس کو دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہو۔ ۔ ہو۔ ۔ ۔ ہو۔ ۔ ۔ ؟ “

 ” لنگور کے پہلو میں حور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! “

 ” کوئی نقص ہوگا بہن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! “

 ” پہلے سے پیٹ ہوگا۔ تب ہی تو امام نے نبٹارا کر دیا۔ “

 ” عیب چھپتا ہے جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ سب ظاہر کر دے گا۔ “

محلّے میں پہلے نملوس کی بد صورتی کے چرچے نہیں تھے۔ سبھی اس کی عزّت کرتے تھے اور اس کی پارسائی کا گن گان کرتے تھے۔ اب حلیمہ کے چرچے تھے اور نملوس کے لیے سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھگنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ بھدّا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بد صورت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کالا پہاڑ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور کالا پہاڑ چاندنی میں شرابور تھا اور زہرہ کے پہلو سے پہلو سجاتا تھا۔ ہر دن عید تھا اور ہر رات شب برات تھی۔ نملوس حلیمہ سے کھیلتا اور حلیمہ نملوس سے کھیلتی۔ زحل کا زہرہ سے اتصال تھا۔ چوڑیوں کی کھنک تھی، مدھم مدھم قہقہے تھے۔ فضا میں نشہ تھا۔

بیویوں سے مزاح کرنا سنّت ہے۔ نملوس گھر میں لوڈو لے آیا تھا۔ دونوں خالی وقتوں میں لوڈو کھیلتے۔ پہلے سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیلتے تھے۔ حلیمہ سیڑھیاں چڑھتی تو خوش ہوتی اور سانپ کاٹتاتوٹھنکتی۔ اوں۔ ۔ ۔ اوں۔ ۔ ۔ اوں۔ ۔ ۔ سانپ۔ ۔ سانپ۔ نملوس مسکراتا اورحلیمہ کو دلاسا دیتا۔ ”دیکھودیکھوآگے سیڑھی ہے۔ پھر چلو سیڑھی پر چڑھ جاؤگی۔

لیکن سانپ نملوس کو بھی کا ٹتا تو وہ اسی طرح ٹھنکتی ”اللہ جی آپ کو بھی کاٹ لیا کمبخت نے۔ “ اور نملوس سے سٹ جاتی۔ وہ اپنے شانے پر حلیمہ کی چھاتیوں کا نرم لمس محسوس کرتا۔ اس کو حلیمہ کی یہ ادا اچھی لگتی۔ ایک بار 98 پر نملوس پہنچ گیا تھا۔ 2 نمبر لاتا تو گوٹی لال تھی لیکن ایک نمبر آیا اور سانپ نے 99 پر ڈس لیا۔ وہ سیدھا 5 پر پہنچ گیا۔ حلیمہ کے منہہ سے چیخ نکلی۔ وہ نملوس سے لپٹ گئی۔

 ” میرے سرتاج۔ ۔ ۔ ۔ “

نملوس نے بھی اسے بانہوں میں کس لیا اور اس کی مخملی پلکوں پر اپنے سیاہ موٹے ہونٹ ثبت کر دیے۔

 ” کیوں ڈرتی ہو؟ جھوٹ موٹ کا توسانپ ہے۔ “

 ”مجھے یہ کھیل پسند نہیں ہے۔ “ حلیمہ اس کے بازووں میں کسمسائی۔

 ” اچھی بات ہے۔ دوسرا کھیل کھیلیں گے۔ “ نملوس اس کو بازووں میں لیے رہا۔ حلیمہ بھی بانہوں میں سمٹی رہی اور پلکوں پر ہونٹ ثبت رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نشہ چھاتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فضا گلابی ہوتی رہی۔

وہ چاروں گوٹی سے ہوم ہوم کھیلنے لگے۔

سانپ والا کھیل انہوں نے بند کر دیا تھا لیکن قدرت نہیں کرتی۔ وہ سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔ ہر سیڑھی کے مقدّر میں ایک سانپ ہے۔

حلیمہ کو موتی چور کے لڈّو بہت پسند تھے۔ نملوس جب بھی بازار جاتاموتی چور کے لڈّو لاتا۔ ایک ہی لڈّو سے دونوں کھاتے۔ حلیمہ ایک ٹکڑا نملوس کے منہہ میں ڈالتی تو نملوس کہتا :

 ” پہلے تم۔ ۔ ۔ ۔ ! “

 ” نہیں آپ۔ ۔ ۔ ۔ ! “

 ” نہیں تم۔ ۔ ۔ ۔ ! “

 ” آپ سرتاج ہیں! “

 ” تم ملکہ ہو! “

حلیمہ کھلکھلا کر ہنس دیتی لیکن منہ پر ہاتھ بھی رکھ لیتی۔ نہیں چاہتی تھی ہنسی کی آواز دور تک جائے۔ حلیمہ، حکم اللہ کے سامنے جلدی نہیں آتی تھی۔ حلیمہ کو اس کی آنکھوں سے ڈر لگتا تھا۔ کھانا میز پر کاڑھ کر الگ ہٹ جاتی۔ وہ پانی مانگتا تو نملوس پانی ڈھال کر دیتا تھا۔ کبھی کبھی اس کے منہہ سے شراب کی بو آتی تھی۔ نملوس بھی چاہتا تھاکہ حلیمہ اس سے پردہ کرے۔ نملوس جب گھر میں موجود نہیں رہتا توحلیمہ خود کو کمرے میں بند رکھتی تھی۔ وہ کھڑکی تک نہیں کھولتی تھی۔ حکم اللہ کو احساس ہونے لگا تھا کہ گھر اب اس کا نہیں رہا۔ گھر نملوس کا ہے جس پر حلیمہ کی حکمرانی ہے اور وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔ جب نملوس کمرے میں موجود رہتاتوحکم اللہ اُن کی نقل و حرکت جاننے کی کوشش کرتا۔ دروازے کی طرف تاکتا رہتا۔ دروازہ بند رہتا تو قریب جا کر ان کی گفتگو سننے کی کوشش کرتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ ا لسّلام نے فرمایا ہے کہ تاکنے سے بچتے رہو کہ اس سے شہوت کا بیج پیدہ ہوتا ہے۔ حضرت یحیٰ علیہ ا لسّلام سے کسی نے پوچھا کہ زنا کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا دیکھنا اور للچانا۔ گوتم رشی کی بیوی اہلیہ کو اندر دور سے دیکھتا تھا۔ آخر گوتم کا بھیس بدل کر ان کی کٹیا میں آیا۔ اہلیہ اندر کو رشی سمجھ کر ہم بستر ہوئی۔ رشی کو معلوم ہوا تو اہلیہ ان کے غیض و غضب کا شکار ہوئی۔ رشی نے اہلیہ کو پتھر بنا دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3