نملوس کا گناہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن اچانک حکم اللہ بدل گیا۔ ریشمی لباس پھا ڑ ڈالے۔ گھر کا کونہ پکڑ لیا۔ گریہ کرنے لگا۔ ”یا اللہ میں گناہ گار ہوں۔ مجھے معاف کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے سیدھے رستے چلا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

اور نملوس نے دیکھا والد محترم مسجد جانے لگے ہیں۔ نملوس حیران ہوا۔

اور حکم اللہ گوشہ نشیں ہو گیا۔ کلام پاک کی تلاوت کرتا۔ پہلی ساعت میں مسجد جاتا۔ غسل سے پہلے تین بار وضو کرتا۔ پھر تین بار بائیں طرف پانی اجھلتا۔ تین بار دائیں طرف پانی اجھلتا۔ اور آخیر میں لا الٰہ پڑھتے ہوئے تین بار سر پر پانی اجھلتا۔

وہ اب سادہ لباس پہنتا تھا اور لوگ باگ حیرت سے دیکھتے تھے۔ ایک بار کسی نے ٹوک دیا۔

 ” آج کل پھٹے پرانے کپڑے میں نظر آتے ہو۔ ؟ “

حکم اللہ نے برجستہ جواب دیا۔

 ” ایسے شخص کا لباس کیا دیکھتے ہو جو اس دنیا میں مسافر کی طرح آیا ہے اورجو اس کائنات کی رنگینیوں کو فانی اور وقتی تصّور کرتا ہے۔ جب والی دو جہاں اس دنیا میں مسافر کی طرح رہے اور کچھ مال و زر ا کٹھا نہیں کیاتو میری کیا حیثیت اور حقیقت ہے۔ “

حلیمہ کو اب حکم اللہ سے پہلے کی طرح خوف نہیں محسوس ہوتا تھا۔ وہ سامنے آنے لگی تھی۔ کھانا بھی کا ڑھ کر دیتی اور نملوس کی خوشیوں کا ٹھکانا نہیں تھا۔

راہو پیچھے کی طرف کھسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ بہت آہستہ۔ ۔ ۔ چپکے چپکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاند سے اس کی دشمنی ہے۔ چاندنی اس سے دیکھی نہیں جاتی۔ جب شمس قمر کے عین مقابل ہوتا ہے توچاندنی شباب پر ہوتی ہے۔ راہو ایسے میں اگر چاند کے قریب پہنچ گیا تو اس کو جبڑے میں کس لے گا اور چاند کو گہن لگا دے گا۔

وہ گھڑی آگئی تھی۔ قمر منزل شرطین سے گزر رہا تھا۔

نملوس جماعت کے ساتھ ذکر الٰہی میں دوسرے شہر کو چلا گیا۔

راہو اپنی چال چلتے ہوئے برج ثور کے آ خری عشرے سے نکلا چاہتا تھا۔

حکم اللہ گھر سے باہر نکلا۔ عثمان کی دوکان سے موتی چور کے دو لڈّو لیے جو اُس نے خا ص طور سے بنوائے تھے۔

شام کو گھر پہنچا۔ لڈّو حلیمہ کو دے کر نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔ ”یہ نیاز کے لڈّو ہیں۔ کھانے کے ساتھ کھا لینا۔ انہیں باسی نہیں کھایا جاتا۔ “ اور پھراپنے کمرے میں آیا اور زور زورسے تلاوت کرنے لگا۔ رات کھانے کے وقت باہر نکلا۔ نظر نیچی رکھی۔ حلیمہ نے کھانا کاڑھا۔ حکم اللہ نے خا موشی سے کھا یا اور کمرے میں بند ہو گیا لیکن اس نے وہ کھڑکی کھلی رکھی جو حلیمہ کے کمرے کی طرف کھلتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ حلیمہ اوسارے میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ اس نے ایک لڈّو کھایا۔ پھر دوسرا بھی کھایالیکن پانی نہیں پی سکی۔ اس کو غش آگیا۔ راہو شرطین کی منزل میں تھا۔

حلیمہ کو چھو کر دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔ گود میں اٹھاکر بستر تک لایا۔ حلیمہ نے ایک بار آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن پپوٹے بھاری ہو رہے تھے۔

 ” پانی۔ ۔ ۔ پانی۔ ۔ ۔ ! “ حلیمہ نے ہونٹوں پہ زبان پھیری۔ ۔ ۔ ۔ سہارا دے کر اٹھایا اور ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگایا۔ حلیمہ نے پھر کچھ دیکھنے کی کوشش کی لیکن آنکھیں کھلتیں اور بند ہو جاتیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مزا حمت کی سکت نہیں تھی۔ راہو کے سائے گہرے ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روئے زمیں پرسب سے بھدّامنظر چھا گیا۔

حکم اللہ نے صبح صبح مسجد پکڑ لی۔ اعتکاف میں بیٹھ گیا۔

نملوس گھر آیا تو حلیمہ بے سدھ پڑی تھی۔ جسم پر جگہ جگہ نیلے داغ تھے۔ حلیمہ کچھ بولتی نہیں تھی۔ وہ روتی بھی نہیں تھی۔ اس کی زبان گنگ تھی۔ نملوس گھبرا گیا۔ پڑوس کی عورتیں جمع ہو گئیں۔ حلیمہ پھر بھی چپ رہی۔ ایک عورت نے نملوس کی قسم دے کر پوچھا۔ حلیمہ کے سینے سے دل خراش چیخ نکلی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جگ ظاہر ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حکم اللہ تو عبادتی ہو گیا ہے۔

یہی چھنال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

پنچائت ہوئی۔ قاضی نے فیصلہ سنایا۔

حلیمہ نملوس پر حرام قرار دی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور حکم اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

دو مومن گواہ چا ہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکم اللہ کے لیے ملک کا قانون سزا تجویز کرے گا۔ ۔ ۔ ۔ !

نملوس کی آنکھوں میں گہری دھند تھی۔ وہ سجدے میں چلا گیا۔

 ” یا اللہ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے ایسا کون سا گناہ کیا تھا کہ تو نے میری حلیمہ کو مجھ سے چھین لیا! “

نملوس کچھ دیر سجدے میں پڑا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جیسے کسی نے اس سے سرگوشی میں کچھ کہا اور نموس اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا چہرہ نور الٰہی سے چمک رہا تھا۔ اس نے با آواز بلند پنچائت سے خطاب کیا۔ ”میں یہ فتویٰ ماننے سے انکار کرتا ہوں“۔

 ” یہ فتویٰ اسلامی ضوابط پر مبنی نہیں ہے۔ اس سے ذاتی بغض کی بو آتی ہے۔ “

 ” پنچائت نے زانی کی سزا کیوں نہیں تجویز کی جب کہ اسلام میں زانی کی سزا سنگ ساری ہے؟ “

 ” حلیمہ حرام کیوں؟ وہ بے گناہ اور معصوم ہے۔ اس کو نشہ آور مٹھائی کھلا کر بے ہوش کر دیا گیا اور بے ہوشی کے عالم میں اس کے ساتھ زنا بی ا لجبر کیا گیا۔ میں زانی کو ساری دنیا کی عورت پر حرام قرار دیتا ہوں اور ہر وہ بات ماننے سے انکار کرتا ہوں جو اسلامی روح سے بے بہرہ ہے۔ “

پنچائت میں سراسیمگی چھا گئی۔

نملوس نے حلیمہ کا ہاتھ پکڑا اور بستی سے نکل گیا۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3