بدلتے ہوئے ہندوستان میں کتاب کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"alamullah\"انٹرنیٹ ہو، کالج، یا لائبریری؛ ٹرین ہو، بس، یا جہاز؛ ان دنوں ہر طرف نوجوانوں کو ناول، یا کسی دل چسپ موضوع پر مبنی کتاب پڑھتے، یا اس سے متعلق بحث و مباحثہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ یہ کہا جا رہا ہو، ہم لوگ خصوصاً نئی نسل کتابوں سے دور ہو رہی ہے، اور لٹریچر پڑھنے کی روایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ منظر کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی نظر آتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک کے کتب بینوں کے مزاج میں تبدیلی آئی ہے، جس کا احساس اہل نظر کو ہے۔ اس میں جہاں جدید ٹیکنالوجی نے اپنا کردار ادا کیا ہے، وہیں جدید ذرائع ابلاغ، جیسے سوشل میڈیا نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ مگر اس بیداری یا تبدیلی پر غور کرنے والی بات یہ ہے، کہ یہ رویہ ہماری مادری زبان سے تعلق رکھنے والوں میں کم نظر آتا ہے۔ اس کی جو بھی وجوہات ہوں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایسے انقلاب انگیز رویے مادری زبان کو لے کر کے کم ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس انگریزی ادب کو لے کر کے نوجوانوں میں ایک جنون ہے۔

ہندوستان میں ان دنوں ان اشاعتی اداروں جو انگریزی کتب شائع کرتے ہیں، کی چاروں انگلیاں گھی، اور سر کڑاھی میں ہے۔ انگریزی زبان میں لکھنے والوں کی پذیرائی، اور عزت بھی زیادہ، یا ہندی میں لکھنے والوں کی نسبت زیادہ ہے۔۔۔ آخراس کی وجہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ ایسے اشاعتی اداروں کے پاس ناز کرنے کے لیے خالص ہندوستانی بیسٹ سیلر مصنف ہیں۔۔۔ \’اے ملین کاپی سولڈ\’ جیسے فخریہ اعلانات ہیں۔ ہزاروں كی تعداد میں \’پری سیل ریڈرز\’ ہیں۔ میرے خیال میں، دراصل یہ نئے اور ابھرتے ہوئے مصنفین کی کامیابی کی وہ مثال ہے، جو گزشتہ آٹھ دس برسوں سے آہستہ آہستہ ایک انقلاب کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے؛ اور جس نے ہندوستان کے اشاعتی کاروبار کی ہیئت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

اب مصنفین کی مقبولیت \’بکر پرائز\’ یا بیرون ملک میں دھوم مچانے والی کتابوں سے نہیں ہے۔ ہندوستانی مصنف \’اوورسیز\’ یا دیار غیر کی مارکیٹ میں کامیابی کے پرانے نسخوں کے سہارے کہانیاں لکھنے کے بجائے، ہندوستانی قارئین کے لیے کتابیں لکھ رہے ہیں۔ شاید انہیں غیر ملکی مارکیٹ کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ کیوں کہ ہندوستان ہی میں ان کی کتابیں ہزار دو ہزار نہیں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو رہی ہیں۔ ہندوستان میں \’اوپن مارکیٹ\’ میں کامیابی کی ان گنت کہانیوں میں سے یہ شاید سب سے تازہ ترین کہانی ہے، جس کے بہت سے صفحات ابھی پلٹے جانے باقی ہیں۔۔۔ ہندوستان کی نئی نسل کے انگریزی مصنفین کی کتابوں میں نیا پن ہے۔ اگر یہ مصنفین اور ان کے قاری ایسا کہتے ہیں، تو ان کا یہ کہنا، بے وجہ نہیں ہے، بلکہ انگریزی زبان میں لکھنے والے مصنفین کی نئی نسل میں زیادہ تر چہرے ایسے ہیں، جن کی ادب میں پہلے سے کوئی پہچان نہیں تھی، لیکن انھوں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھا اور اس کے مطابق اپنے قارئین کو مواد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان مصنفین میں سے زیادہ تر کا تعلق کارپوریٹ ورلڈ سے ہے، جو اس میدان میں اپنے لیے نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا دعوی ہے، کہ وہ ملک کے نوجوان کی دھڑکن کو کسی، اور کے مقابلے بہتر سے سن سکتے ہیں، اور اسے وہ داستان سنا سکتے ہیں، جسے وہ سننا چاہتے ہیں۔

اس کہانی کو شروع کرنے کے بہت سے نکات ہو سکتے ہیں، لیکن ہم آج سے تقریباً آٹھ دس سال قبل کے ماضی میں جھانکتے ہیں، جب عام آدمی کی انٹرنیٹ تک رسائی نہ تھی، تو کتابوں کی دکانوں پر \’فائیو پوائنٹ سم ون\’ جیسی کتابیں نظر آتی تھیں۔ مصنف کا نام چیتن بھگت؛ تعارف، آئی آئی ٹی دہلی اور گجرات احمد آباد سے تعلیم ، انویسٹمنٹ بینکر؛ اس کے بعد ان کی نئی کتاب \’ون نائٹ دی کال سینٹر\’ فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کرتی ہے۔ روپا پبلیکیشن، جس سے چیتن بھگت کی اب تک کی کتابیں شائع ہوئی ہیں، کے مطابق بھگت کی ان دونوں کتابوں کی فروخت دس لاکھ سے زیادہ کا ہندسہ پار کر چکی ہے۔ جب کہ \’ون نائٹ دی کال سینٹر\’ کا پہلا ایڈیشن محض تین دن میں 50000 كاپیاں ہاتھوں ہاتھ بک گئیں۔ یہاں سے چیتن بھگت صرف جز وقتی مصنف نہیں رہ جاتے۔ وہ ملک کی مشہور شخصیات میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان کی اگلی تینوں کتابیں \’تھری مسٹیكس آف مائی لائف\’، \’ٹو امریکا\’ اور \’ریووليوشن\’، دُکانوں سے ایسے اٹھائی جاتی ہیں، جیسے صبح کے وقت اخبار کی دُکان سے اخبار خریدے جاتے ہیں۔ چیتن بھگت اب نا صرف یہ کہ وہ ایک بیسٹ سیلر مصنف ہیں، بلکہ چیتن بھگت کو رسائل اور ٹیلی ویژن چینلوں پر \’ینگ انڈیا\’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب وہ نیوز چینلز پردکھائی دیتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے لئے سنڈے کالم لکھتے ہیں۔ ملک بھر میں گھوم کر تقریریں کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز انہیں 2008ء میں ہندُستان کاسب سے زیادہ فروخت ہونے والا انگریزی مصنف قرار دیتا ہے۔ ٹائم میگزین انہیں دنیا کے سب سے زیادہ متاثر کن 100 افراد میں شمار کرتا ہے۔ وہ بھی تب جب ان کے پاس نہ تو کوئی بین الاقوامی اعزاز ہے، اور نا ہی ناقدین ان کی کتب کو \’ادبی معیار\’ کی سند دیتے ہیں۔

\’فائیو پوائنٹ سم ون\’ سے شروع ہونے والی کہانی 2010ء میں آئی اميش ترپاٹھی کی کتاب \’ام مورٹلس آف ملوہا \’ سے اچانک ایک انقلاب کی شکل لیتی دکھائی دیتی ہے۔ چیتن بھگت کی طرح مینجمنٹ کے میدان سے آنے والے اورآئی ایم ایم کلکتہ کے پاس آوٹ اميش کی کتابوں میں ان کے دل کش انداز تحریر، اور اساطیر، تاریخ، سسپنس، مہم جوئی سے پرلطف داستان گوئی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی ایک ہفتے کے اندر اندر ملک کے سب سے بہترین کتابوں میں شمار ہو جاتی ہے۔ ہندوؤں کی مقدس ہستی \’شیو\’ پر \’ترئی لاجی\’ کی دوسری كتاب \’سيكرٹ آف ناگاز\’ قارئین کے میں مقبولیت کا ریکارڈ توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ چند ماہ کے اندر اندر اس کی ایک لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو جاتی ہیں۔ اميش ترپاٹھی بتاتے ہیں کہ ان کی دونوں کتابیں ابھی تک ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ تعداد میں فروخت ہوچکی ہیں۔

اميش کی ہی طرح اگر کسی نام نے اپنی شناخت بنائی، مقبول ہوئے، تو وہ ہیں اشیون سنگھی۔ جہاں اميش کا دھیان اساطیر کی طرف ہے، تو وہیں اشون سنگھی جو بنیادی طور پر ایک تاجر ہیں، اپنے ناول کی کہانی کے لیے اتہاس کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب \’دی روضہ بل لائن\’ (2008ء) کشمیر کے روضہ بل درگاہ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اس درگاہ میں عیسیٰ مسیح کی ہڈیاں محفوظ ہیں۔ سنگھی کی دوسری کتاب \’نانکیاز چینٹ\’ بھی فروخت کے ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ان کی تیسری کتاب \’کرشناز کی\’ بھی، بازار میں بہت مانگ رہی۔ اميش خود کو بالکل غیر تخلیقی انسان مانتے ہیں، اور اپنی کتابوں کو \’شیو\’ کا عطیہ کہتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے، کہ اميش کچھ عرصہ پہلے تک، ایک طرح سے ملحد تھے، لیکن شیو پر لکھی کتاب نے انہیں شیو بھگت بنا دیا ہے۔ یہاں پر سبھاش گتاڈے، ارون دھتی رائے سمیت اور بھی کئی مصنفین کی بات کی جاسکتی ہے، جنھوں نے ایک بڑے حلقے کو متاثر کرنے، اور اپنی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لوگ اس کا سبب ان کتابوں کی قیمت کو بھی بتاتے ہیں۔ چیتن بھگت کی کتابوں کی قیمت 100 ہندُستانی رُپے کے قریب ہوتی ہے، جو ایک سنیما کے ٹکٹ کی قیمت سے بھی کم ہے۔ اسے ایک نہیں، کئی لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ کم خرچ بالا نشیں والا معاملہ ہے۔

یہ صحیح ہے کہ آج کے دور کی \’بیسٹ سیلر\’ کتب اپنی تعداد فروخت کے مطابق، شاید ہی ادبی طور پر معیاری کتابوں میں شمار کی جائیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو ان کی زبان و بیان پر بھی اعتراض ہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کتابیں آپ کو سطحی لگیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں آپ کو صرف نری تفریح نظر آئے۔ لیکن یہ اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مقبول عام فکشن سے دور ہونے کا ایک نتیجہ ہمارے سامنے یہ ہے، کہ قاری\’بہترین کتابوں \’سے تو کیا کتاب ہی سے دور ہوگیا تھا۔ وہ زمانہ اور تھا، جب گلشن نندا کی رومان سے بھری کتابیں نئی نسل اپنے گھروں میں چوری چھپے پڑھا کرتی تھی۔ راجندر یادو جیسے قصہ گو اپنی جوانی کے دنوں میں جاسوسی ناول چاٹ ڈالا کرتے تھے۔ آج اردو، اور ہندی زبان کی کتابیں ایک خاص دائرے میں مقید ہو کر رہ گئی ہیں۔ کیا ہمیں اس دائرے سے باہر آنے کی ضرورت نہیں ہے؟ خود انگریزی زبان کے اشاعتی اداروں کی صورت احوال، آج سے بہتر شاید ہی کبھی تھی۔ ان کے یہاں بھی کچھ سال پہلے تک، پاپولر لٹریچر کو کئی گھاس نہیں ڈالتا تھا، اور اگر کسی کتاب کی 5000 کاپیاں فروخت ہو جاتی تھیں، تو اسے سب سے بیسٹ سیلر قرار دیا جاتا تھا۔

بیسٹ سیلر لکھنے والے، نئے مصنفین نے اس منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ مصنفین سلمان رشدی، وکرم سیٹھ یا ارون دھتی رائے ہونے کا دعوی نہیں کرتے۔ وہ تفریح اور دل چسپی کے لیے کتاب لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور قاری کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ یہاں کہیں کوئی رویندر سنگھ اپنی \’لو اسٹوری\’ لے کر آتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی دس لاکھ کاپیاں فروخت ہوجاتی ہیں۔ ان مصنفین کو اپنی کتابوں کے نشر و اشاعت کے لیے بھی تگ و دو کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

چیتن بھگت، اميش ترپاٹھی اور اشون سنگھی، ہند کے مصنفین کی، اس نئی پيڑھی کی ترجمانی کرتے ہیں، جو بڑا مصنف ہونے کا دعوی کیے بغیر خود کو صرف ایک کہانی کار مانتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نسل ہے، جس میں ہر کسی کے پاس کہنے کے لیے اپنی ایک کہانی ہے، اور سنانے کے لیے کوئی دل چسپ واقعہ ہے۔ کسی کے پاس اپنا خواب ہے۔ (آئی ہیو آ ڈریم : رشمی بنسل) کسی کے پاس اپنی محبت کی کہانی ہے۔ (آئی ٹو ہیڈ آ لو اسٹوری : رویندر سنگھ) کسی کے پاس نوجوانان ہند کے لیے حوصلہ افزا نسخے ہیں۔ (واٹ ینگ انڈیا وانٹس: چیتن بھگت) کسی کے پاس وزن میں کمی کرنے کےہدایات ہیں۔ (ڈونٹ لوز یور مائنڈ، لوز یور ویٹ: ترجتا دویكر) کسی کے پاس اپنے پیشے سے متعلق تجربہ ہے۔ (دی انكریڈبل بینکر، اف گاڈ واز آ بینکر: روی سبرامنیم) یہ نیا ہندوستان ہے، جو ایک دوسرے کے تجربے کے اشتراک کے لیے بے تاب ہے۔ آپ ان سے محبت کریں، یا نفرت لیکن حقیقت یہی ہے، کہ نئے زمانے کے ان نئے مصنفین نے، اپنی عام کہانیوں ہی کے سہارے، ہندوستانی اشاعتی اداروں میں دھوم مچا کر رکھ دی ہے۔

ہندی زبان میں بھی کئی قابل قدر لکھاری ابھر کر سامنے آئے ہیں، اور انھوں نے خوب صورت کہانیاں دی ہیں۔ اور انگریزی میں لکھی جانے والی کتابوں کا ہندی میں ترجمہ ہو رہا ہے اور ان کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔ ان کتابوں میں سے کچھ کے اردو تراجم بھی موجود ہیں، لیکن وہ ہندوستان سے نہیں پاکستان سے شائع ہوئی ہیں۔ اردو میں جہاں کسی کتاب کی عام طور پہ گیارہ سو کاپیاں ہی چھپتی ہیں، ان مصنفین کی کتابوں کے ہندی ترجمے، اس سے کہیں زیادہ تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں۔ لیکن اس معاملہ میں خصوصا اردو زبان بانجھ کیوں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں انگریزی بولنے والے لوگ ہیں، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کے مقتدر دس اخبارات میں انگریزی کا صرف ایک اخبار ہے۔ باقی سب علاقائی زبانوں کے اخبار ہیں۔ ایسے میں کوئی وجہ نہیں کہ جب لوگوں کو انہی کی کہانی انہی کی زبان میں سنائی جائے، تو وہ اسے پڑھنا نہ چاہیں گے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہندی، اردو زبان میں لکھنے والے آج بھی وہی پرانی اور گھسی پٹی داستان سنا رہے ہیں، اور شکوہ کناں ہیں کہ ان کو قاری نہیں ملتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ کا تعلق اٹکی رانچی جھارکھنڈ، بھارت سے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تواریخ کے مضمون میں گریجوایشن، ماس کمیونیکشن اینڈ جنرنلزم میں ایم اے کیا۔ لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں۔ اسی لیے میدان صحافت کا انتخاب کیا۔ ہندُستان ایکسپریس، صحافت، خبریں، جدید خبر میں نامہ نگاری، فیچر رائٹنگ، کالم نگاری، تراجم کرتے آئے۔ گزشتہ ایک برس سے ای ٹی وی اردو میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈاکیومینٹری فلم بنانے کے علاوہ، سفرنامے لکھے، کبھی کبھار کہانی لکھتے ہیں۔

muhammad-alamullah has 74 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah