بزرگ کے تین دن – سندھی کہانی
دُوسرا دن:۔
بزرگ شخص جب ”شاہ لطیف عالمی کانفرنس“ دیکھنے کے لیے ایکسی لینس سینٹر پہنچا تواسے ایکسی لینس سینٹر کے باغیچے میں کئی افراد کھڑے دکھائی دیے، جو ٹولیوں کی شکل میں گپ شپ کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر بزرگ کے ذہن میں فوری خیال یہی آیا کہ کانفرنس ہال کی ساری نشستیں پُر ہو چکی ہیں اور ہال میں مزید افراد کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے یہ بے چارے باہر کھڑے ہیں۔ پھر اسے خیال آیا کہ شایداس ادبی کانفرنس کا افتتاح بھی کسی وزیر یا مشیر کو ہی کرنا ہو گا۔ یہ سب لوگ اس وزیر یا مشیر کے استقبال کے لیے باہر کھڑے ہیں۔ بزرگ شخص کے لیے ایسی کسی شخصیت کا انتظارکرنا ممکن نہ تھا، لہٰذا اس نے وہاں سے چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب ہال سے آنے والی آوازوں کی بازگشت اس کے کانوں تک پہنچی تواس نے قدم ایکسی لینس سینٹر کی طرف بڑھا دیے۔
ایکسی لینس سینٹرکے دروازے پر چند پولیس والے اورسرکاری محکمے کے چند کارندے کھڑے تھے۔ وہ کسی کو بھی اندر جانے سے نہیں روک رہے تھے، کیوں کہ وہ ایسے مواقع پر اُدبا اور شعراکے احتجاج کا عملی تجربہ رکھتے تھے۔ پولیس والے ایک طرف کھڑے تھے۔ سرکاری محکمے کے اہل کار قیمتی لباس والوں کو سلام کرتے اور سادہ لباس والوں کو دیکھ کر منھ پھیر لیتے۔ جب بزرگ شخص دروازے کے قریب پہنچا تو نچلے درجے کے اہل کار سلام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہ کر پائے۔ ادنیٰ اہل کار ابھی شش و پنج میں ہی تھے کہ بزرگ شخص ان کے قریب سے گزر کر اندر چلا گیا۔
اندر ونی گزر گاہ میں متوسط درجے کے سرکاری اہل کارکھڑے تھے۔ وہ قیمتی لباس والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پہلے دروازے کی راہ دکھاتے۔ سادہ لباس والوں کو دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے پچھلے دروازے کی طرف ہانک دیتے۔ بزرگ شخص کے ساتھ یہاں بھی بیرونی دروازے والا رویہ دُہرایا گیا۔ اسے کسی نے پچھلے دروازے کی طرف چلے جانے کا اشارہ کیا نہ ہی کسی متوسط درجے کے سرکاری اہل کارنے ہاتھ ملا کر اس کا استقبال کیا۔ بزرگ شخص چپ چاپ اگلے دروازے سے ہال میں داخل ہو گیا۔
ہال میں داخل ہوتے ہی بزرگ شخص کو حیرت ہوئی کہ ہال کی زیادہ تر کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ ہال کے اندر موجود حاضرین سے زیادہ تعداد تو باہر گپیں لڑاتے لوگوں کی تھی۔ بزرگ شخص پہلی صف میں پڑے ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ قریب بیٹھے قیمتی لباس میں ملبوس شخص نے قدرے حیرت کے ساتھ بزرگ کی طرف دیکھا اور پھر گردن پھیر لی۔ بزرگ شخص نے سٹیج کی طرف دیکھا۔ سٹیج پر ایک وزیر اور سرکاری ادارے کے اعلیٰ افسر سمیت درجن بھرملکی اور غیر ملکی علما اوراُدبا بیٹھے تھے۔
ایک عالم تقریر کر رہا تھا لیکن سٹیج سمیت ہال میں بیٹھے کسی بھی فرد کی مقرر یا اس کی تقریر میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ بزرگ شخص کو حاضرین کی اس عدم دل چسپی پرسخت افسوس ہوا۔ اس نے لوگوں کے منفی رویے کو نظر انداز کر کے اس عالم کی تقریر سننا شروع کی۔ وہ عالم کافی دیر تک بولتا رہا مگر اس کے علم کے خزانے سے کوئی گوہر برآمد ہوا نہ ہی اس کی گفت گو سے کوئی معانی یا مقاصد واضح ہو سکے۔ اس عالم کے بعد کئی عالم، فاضل، سکالر، دانش ور اور ماہرِ لطیفیات مائیک پر آئے اور لمبی چوڑی تقاریر کیں مگرحاصل وصول کچھ بھی نہ رہا۔ وقت گزرتا رہا اور طولانی، لایعنی اور لاحاصل تقریریں ہوتی رہیں اور ہال حتیٰ کہ سٹیج پر بیٹھے لوگوں میں بھی بے چینی ظاہر ہونے لگی۔ بزرگ شخص یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھتا، سنتا اور برداشت کرتا رہا۔ وہ ہر بات کا تجزیہ کیے جاتا تھا۔
ہال میں تشریف فرما نام ور اکابرین، علمی شخصیات کی تقاریر ختم ہوئیں تو ”شاہ لطیف عالمی ادبی کانفرنس“ کے سٹیج پر براجمان ملکی اور غیر ملکی ادیبوں، دانش وروں اور سکالروں کی باری آئی۔ بزرگ شخص ان ملکی اور غیر ملکی عالموں، ادیبوں، دانش وروں اور سکالروں کی طرف بطورِ خاص متوجہ رہا اور انھیں بڑے انہماک کے ساتھ سنتا رہا لیکن وہی بے بنیاد مفروضوں پر مبنی بے سروپا باتیں تھیں۔ شام گئے تک سر درد کر دینے والی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا اور مجبوراً سننے والوں کے پیٹ میں چوہے دوڑتے رہے۔
بزرگ شخص نے نتیجہ اخذ کیا کہ ڈِبّے میں کنکریاں وہی ہیں، پھر ان کو فرش پر پھینک دیا جائے یا عرش کی طرف اُچھال دیا جائے۔ بزرگ شخص چپ سادھے یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ اسے ان مُلکی اور غیر مُلکی عُلما، فضلا، اُدبا، دانش وروں، سکالروں کی حالتِ زار پر بہت ترس آیا۔ آخر میں جب وزیر صاحب کوکانفرنس کی صدارتی تقریر کے لیے دعوت دی گئی تو اچانک لوگوں کا بہت بڑا ریلا ہال میں در آیا۔ باہر کھڑے تمام لوگ اندر پہنچ چکے تھے۔ ہال کی تمام نشستیں پُر ہوچکی تھیں اور ہال میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں رہی تھی۔ کافی سارے لوگ دروازوں میں کھڑے دھکم پیل کر رہے تھے مگر ہال میں مزید گنجائش نہ ہونے کے باعث وہ اندر آنے سے قاصرتھے۔
بزرگ شخص کو لوگوں کے دلوں میں وزیر صاحب کے لیے ایسی چاہ اوراپنائیت بھری بے تابی دیکھ کر قدرے حیرت ہوئی۔ اس نے سوچا شاید یہ وزیر خلقِ خدا کے دُکھ سکھ کا شریک ہے، جس کی تقریر سننے کی خاطر لوگ صبح سے گھڑیاں گن رہے تھے۔ وزیر صاحب حسبِ موقع اپنی رسمی بات کَہ کر واپس مسندِ صدارت پر بیٹھ ہی نہ پائے تھے اور کھانے کا اعلان مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ہال میں بھگدڑ مچ گئی۔
ہال میں بیٹھے، کھڑے تمام لوگ دوسری طرف کھلنے والے واحد دروازے کی طرف دوڑے اور دھکم پیل کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔ تب بزرگ شخص کو اندازہ ہوا کہ یہ تمام لوگ وزیر صاحب کے عقیدت مند ہیں نہ ہی ان کی تقریر سننے کے متمنی بلکہ یہ تو کھانا کھلنے کے منتظر تھے۔ بزرگ شخص نے بھاگتے دوڑتے افراد کے ٹکرا جانے کے خدشے سے اپنی ٹانگیں سکیڑ لیں۔ وزیر صاحب اور سٹیج پر براجمان سارے عالم، فاضل، ادیب، دانش ور، ماہرِ لطیفیات اورعلامہ سٹیج پر ہی کھانے کی راہ دیکھنے لگے۔ جب بزرگ کے سامنے سے گزرتے لوگوں کی قطار ختم ہو گئی تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور ہال سے باہر نکل گیا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

