بزرگ کے تین دن – سندھی کہانی
تیسرا دن:۔
بزرگ شخص جب محفلِ موسیقی اور تقریبِ تقسیم ایوارڈ دیکھنے کی غرض سے شاہ عبداللطیف بھٹائی آڈیٹوریم پہنچا تو اس نے آڈیٹوریم کے باہر لوگوں کی بھیڑ دیکھی۔ بڑی تعداد میں ڈنڈا بردار سپاہی ہجوم کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ اس ڈنڈا بردار سپاہ کی پشت پر پولیس کے متوسط اور اعلیٰ درجے کے افسران بھی موجود تھے۔ آڈیٹوریم میں داخل ہونے کے لیے کارڈ کا ہونا ضروری تھا۔ بزرگ شخص کے لیے بہ ہر صورت تین روزہ میلے کی یہ اختتامی تقریب دیکھنا لازمی تھا۔ وہ لوگوں کی بھیڑ میں سے راستہ بناتا ہوا آگے بڑھا۔ ہاتھ میں کارڈ نہ ہونے کے باوجود اسے سپاہی نے نہ روکا اور وہ آگے چلتا گیا۔ کسی متوسط یا اعلیٰ درجے کے پولیس افسر نے بھی اس پر توجہ ہی نہ دی تو وہ بنا کسی رکاوٹ کے آڈیٹوریم میں داخل ہو گیا۔
آڈیٹوریم کے سٹیج پرآنکھیں چندھیا دینے والی روشنیوں میں بھڑکیلے کپڑوں میں ملبوس کوئی بلا کی خوب صورت گائیکہ مائیک ہاتھ میں لیے کھڑی گانا گانے کے ساتھ ساتھ اپنے سیمیں بدن کو ہلکورے بھی دے رہی تھی۔ حسین گائیکہ کے چوگرد کئی نوجوان لڑکے جنگلی بکروں کی طرح اُچھل کود کر رہے تھے اور باچھیں پھیلا کر اپنے دانتوں کی نمائش بھی کر رہے تھے۔ بزرگ شخص خاموشی کے ساتھ آڈیٹوریم میں بیٹھے افراد کی پہلی صف کی طرف بڑھا۔
پہلی صف میں وزیرِ اعلیٰ، چند وزیر، متعدد مشیر اور اعلیٰ سرکاری اہل کار تشریف فرما تھے۔ کچھ کرسیاں خالی بھی تھیں لیکن ان پر بیٹھنے کی جرأت کسی میں نہ تھی۔ کیوں کہ موجودحکم ران طبقے کی حفاظت کے لیے باوردی اور سادہ لباس با ادب اور باملاحظہ ہوشیار کی حالت میں کھڑے تھے۔ بزرگ شخص پہلی قطار کی خالی کرسیوں تک پہنچاتو با ادب باملاحظہ ہوشیار باش کھڑے اہل کاروں میں تشویش دوڑ گئی۔ بالآخر بزرگ شخص حکم رانوں سے حدِ فاصل پر ایک خالی کرسی پر جا بیٹھا، بزرگ شخص نے گردن جھکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
وہ سٹیج پر تھرکتی گائیکہ اوراس کے گرد جنگلی بکروں کی طرح اُچھلتے کودتے اور دانتوں کی نمائش کرتے نوجوانوں کی طرف دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ جسم لچکا لچکا کر گانے والی گلوکارہ کے بعد کئی اور گویے بھی سٹیج پر آئے، جنھوں نے گانے سے پہلے خود اپنی تعریفوں کے پُل باندھنے کے بعد بڑے راگ الاپے۔ گانے کے دوران وہ حاضرین سے بار بار تالیوں کی بھیک بھی مانگتے رہے۔ بزرگ شخص کو حیرت تھی کہ اب تک تمام گائیکوں نے شاہ لطیف کے میلے کی مرکزی محفلِ موسیقی میں شاہ سائیں کے کلام کے بجائے اِدھر اُدھر کے شعرا کا عامیانہ کلام گایا تھا۔
اس لیے بزرگ شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ سارا ڈراما دیکھتا رہا۔ اسی دوران جب کسی گویے کو بڑے بڑے القاب و خطاب کے ساتھ سٹیج پر مدعو کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا گیا کہ گائیکی اور موسیقی کا یہ ماہر گائیک شاہ سائیں کا کلام پیش کرے گا تو حکم رانوں سمیت ہال میں موجود تمام لوگوں نے دیر تک تالیاں بجا کر اس گائیک کا استقبال کیا۔ بزرگ شخص نے اپنے سرسے ہاتھ ہٹا کر سٹیج کی طرف دیکھا۔ یہ مہا گائیک کتنی ہی دیر تک کھنگار کھنگار کر گلا صاف کرنے، سازندوں کو ہدایات دینے اور اپنے باجے کو اِدھر اُدھر کرنے میں وقت ضائع کرتا رہا۔
کافی وقت ضائع کر چکنے کے بعد بالآخر اس نے گانا شروع کیا تو بھی لوگوں کا وقت برباد ہی کرتا رہا۔ شاہ سائیں کے کلام کے رموز سے ناواقف گائیک سے شاہ سائیں کا کلام سنتے ہوئے بزرگ شخص نے اُلجھن محسوس کرتے ہوئے گہری سانس لی۔ اس نے محسوس کیا کہ ادبی کانفرنس کی راگ رنگ کی اس محفل میں بھی ڈبے میں کنکریوں والی ہی بات ہے۔ اُکتا کربزرگ شخص نے اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا اور اوپن ائیر آڈیٹوریم سے آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔
آسمان پر تنہا چاند تھا، اس کے قریب کوئی ستارا موجودنہ تھا۔ بزرگ شخص نے آسمان سے نگاہیں تب ہٹائیں جب شاہ سائیں کے نام سے منسوب ”شاہ لطیف ایکسی لینس ایوارڈ“ تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جب صوبے کے حکم ران کے دستِ مبارک سے ایوارڈ تقسیم ہونے لگے تو شاہ سائیں کے نام سے موسوم ایوارڈ سے ایسے ایسے لوگوں کو نوازا گیا کہ بزرگ شخص نے منھ پھیر لیا اور اُٹھ کر آڈیٹوریم سے باہر چلا گیا۔
میلے کے تینوں دن کی سرگرمیاں دیکھ لینے کے بعد رات کے پچھلے پہر میں شاہ سائیں کی درگاہ کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بزرگ شخص اپنے دل و دماغ پر بہت بوجھ محسوس کر رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وجود کا ورق دھوکر صاف کرنے کے بجائے یہ ہنگامہ کیوں برپا کیا جاتاہے!
رات کے آخری پہر جب بزرگ شخص شاہ سائیں کی درگاہ کے صحن میں پہنچا تو درگاہ کے راگی فقیر وجد اور بے خودی کے عالم میں شاہ سائیں کا کلام گا رہے تھے۔ شاہ سائیں کے راگی فقیروں کے سامنے بیٹھے عقیدت مندوں پر بھی جذب کی کیفیت طاری تھی۔ راگی فقیروں کی طرف دیکھتے ہوئے بزرگ شخص کے چہرے پر پیار اور اپنائیت بھری
مسکراہٹ پھیل گئی۔ بزرگ شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا راگی فقیروں کے سامنے جا بیٹھا۔ شاہ سائیں کے فقیر بدستوروجدان اور بے خودی کی کیفیت میں ہی رہے، جیسے ان کے وجود کی رگ رگ طنبورے کی تان بن کران کی روح میں بج رہی تھی۔
صوفی نے صاف کیا، دھو کر ورق وجود کا
اس کے بعد ہوا، دُنیا میں درشن پریتم کا
راگی فقیر آنکھیں بند کیے بے خودی کے عالم میں گارہے تھے۔ جیسے وہ اپنے وجود کا ورق دھو کر صاف کر تے ہوئے اپنا باطن نکھار رہے ہوں۔ کلام پورا کرلینے کے بعد راگی فقیروں نے اپنے جھکے سر اُٹھاتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو سارے فقیر چونک پڑے۔ کئی لمحے تو سارے فقیر پتھر کے بُت بنے رہے۔ بڑا فقیر اُٹھا تو دوسروں کو بھی ہوش آیا اور وہ بھی بڑے فقیر کی پیروی کرتے ہوئے چلنے لگے۔ بڑے فقیر نے اپنے کپکپاتے ہاتھ نہایت ادب کے ساتھ بزرگ شخص کے پیروں پر رکھ دیے۔
بزرگ شخص نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنائیت اور شفقت بھری مسکراہٹ مسکراتے ہوئے بڑے فقیر کی پیٹھ تھپتھپائی۔ بڑا فقیرذرا پیچھے ہٹا تو دیگر فقرا نے بھی بزرگ شخص کے پاؤں چھوکر پیٹھ پر تھپکی لی اور ہاتھ باندھ کر مؤدب کھڑے ہو گئے۔ بزرگ شخص اپنی جگہ سے اُٹھا، اس نے فقرا کو پیار بھری نگاہوں کے ساتھ دیکھا اور پھرننگے فرش پر بیٹھے لوگوں کو بھی اسی اپنائیت کے ساتھ دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
صبح ہونے میں ابھی دیر تھی۔ شاہ لطیف کے مزار کا دروازہ ابھی بند تھا مگر وہ بزرگ شخص پُروقار انداز میں چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا ہوامقفل دروازے سے ہی مزار کے اندر داخل ہو گیا۔

