حراموش میں ہماری خیمہ بستی آباد ہوتی ہے


\"mustansar

ہم سب اُس نامعلوم سی پگڈنڈی پر چلنے لگے۔ چلتے تو نہ تھے، بمشکل اٹھتے تھے۔ نسیم آگے نکل گیا۔ تنویر خواجہ کی یوگا ورزشوں نے یہاں کام دکھایا اور وہ ’’ہری اوم، ہری اوم‘‘ کا ورد کرتا چڑھنے لگا۔ احسن بہ طریقِ احسن نہایت آسانی سے بلند ہونے لگا۔ عاطف عام حالات میں مناسب انسان ہوتا ہے، پہاڑوں میں وہ ایک برفانی انسان۔ یعنی یے ٹی ہو جاتا ہے، ایک بھالو کی مانند لڑھکتا چلا جاتا ہے۔
میں دوچار قدم چلا اور مجھے احساس ہو گیا کہ بس روٹھ گئے دن بہار کے۔ خزاں کے موسموں نے تمہارے وجود کے شجرکے آخری ہرے بھرے پتّے کو بھی زرد کر دیا ہے۔ اِک ذرا سی ہوا کے چلنے سے کسی بھی لمحے شاخ سے ٹوٹ کر گر سکتا ہے۔ شجر کے دامن میں بکھرے تمہاری حیات کے خزاں رسیدہ پتّوں کی شام غریباں میں شامل ہو کر نوحہ خواں ہو سکتا ہے۔میرا سُندر سپنا بیت گیا۔ میں پریم میں سب کچھ ہار گئی، بے درد زمانہ جیت گیا۔ کوہ نوردی اور آوارگی کے سُندر سپنے کبھی نہ کبھی تو بیت جاتے ہیں، سو وہ بیت گئے۔ وہ زمانے بھی جو مجھ پر گزرے جیت گئے۔ میں جان گیا کہ ختم ہوئی بارشِ سنگ۔ یہ برف بلندیوں کی جانب میرا آخری سفر ہے۔ بات جو اب تک بنی ہوئی تھی، بگڑ گئی تھی۔

وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں توں

نہ آپ پہاڑوں سے لڑ سکتے ہیں اور نہ گزر گئے زمانوں سے۔ تو میں نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ یہ تو کل کے لئے فیصلے تھے، آج تو مجھے چلنا تھا۔ اپنے آپ کو ڈھیٹ کرنا ہے۔ بے شک دیار یار تک گھسٹ کے جانا ہے پر جانا ہے۔ اُس برفبار حراموشی معبد کے برف دروازوں پر دستک تو دینی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پتھریلی اور سخت پتھرول چڑھائی کے بعد، لڑکھڑاتے، ہونکتے، خون تھوکتے، ہمارے گھٹنے ٹھرتے تھے اور ٹانگوں میں سے کم از کم جان نکل چکی تھی بالآخر ہم وہاں پہنچ ہی گئے۔ اور ہم نے سلپی نام کے گھاس بھرے میدان کا جو منظر دیکھا، ہم اپنی تھکان بھول گئے۔ دُکھ درد کی ساری داستان بھول گئے۔

\"haramosh-tarar\"

حراموش کی نادیدہ اور دورافتادہ وادی کی بلندیوں میں ایک خیمہ بستی آباد ہو چکی تھی۔ مکئی کے ایک وسیع کھیت کے کناروں پر جو گھاس بھرا قطعہ تھا جس کے آغاز میں مویشیوں کا ایک اجڑ چکا پتھریلا باڑہ تھا وہاں۔ ہمارے پورٹر پہلے سے پہنچ چکے تھے اور ایک خیمہ بستی بسا دی تھی۔ بلکہ اُس بستی میں سے کسی چولہے سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔ مہم کا سرکاری شیف ہمارے رات کے کھانے کے بندوبست کرنے میں مشغول تھا۔

ہم جو گرتے پڑتے چلے آتے تھے پورٹر ہماری جانب چلے آئے، اگر کسی نے ڈے پیک اٹھایا ہوا تھا اُسے اس بوجھ سے آزاد کیا۔ صاحب پہنچ گئے۔ مشکل تھا؟۔ لیکن آپ پہنچ گئے۔

ہم گھاس پر ڈھیر ہوتے گئے۔ اور پورٹر ہمارے لئے گرم نوڈل سوپ کے پیالے لے آئے اور اُس میں سویا ساس اور چلّی ساس کی آمیزش بھی تھی۔ کوہ نوردی کی کسی بھی پہلی شب کی خیمہ زنی میں ایک عجب جادوگری ہوتی ہے۔ اس کے لطف صرف وہ جانتے ہیں جن کے دماغوں میں دانش کی بجائے آشفتہ سری اور بلندیوں کی دیوانگی کا بھس بھرا ہوتا ہے۔ آپ اپنی معمول کی حیات کو طلاق دے کر ایک مختلف زندگی کے ساتھ ایک عارضی نکاح سے منسلک ہو جاتے ہیں

آپ آزادی، سرخوشی اور بے پروائی سے بیاہے جاتے ہیں۔

یہاں آپ کا اپنا پرائیویٹ بیڈروم، ملحقہ غسل خانہ کے ساتھ میسر نہیں، ایک خیمہ ہے، بستر نہیں، ایک سلیپنگ بیگ بچھا ہے جس میں داخل ہونا، گھس جانا ایک تردد، ایک آرٹ ہے۔ اور اگلی سویر آپ کو ایک کموڈ کی سہولت نصیب نہ ہو گی، آپ نے خیمہ گاہ سے دور، نظروں سے دور کہیں بیٹھ جانا ہے اور جب فارغ ہو کر اٹھنا ہے تو بوڑھے گھٹنوں سے کہاں اٹھا جانا ہے، لیکن یارو یہی تو زندگی ہے۔

لیکن کہاں ہم لاہور کے بکھیڑوں میں اُلجھے ہوئے، بجلی پانی کے بِل دیکھ دیکھ کر خون خشک کرتے۔ بیگم کے خوف سے دبکے ہوئے۔ مذہبی تعصب اور دہشت گردی کی سولی پر مصلوب اور کہاں یہ شب۔ بدن اگرچہ تھکاوٹ سے ریزہ ریزہ لیکن روح آزاد۔ ایک خوش رنگ تتلی کی مانند پھڑپھڑاتی اڑتی پھرتی تھی۔

پھر رات اتر آئی۔

چولہوں کی سلگاہٹ کی روشنی کے سوا دو گیس لیمپ جلنے لگے، اُن کی دودھیا روشنی سے ساری خیمہ بستی دودھیا رنگ کی ہو گئی۔ میس ٹینٹ کے اندر کھانے کی باقاعدہ میز سج چکی تھی اور اُس کے گرد کیمپ چیئرز آویزاں ہو گئی تھیں۔

یعنی آج شب ہم گوروں کی مانند ’’مکی ماؤسز‘‘ ہو گئے تھے۔

میں عرض کر چکا ہوں ناں کہ کے ٹو اور سنولیک کی برف نوردیوں کے دوران جب ہم دیکھتے تھے کبھی اردوکس میں اور کبھی کنکورڈیا کے برفزاروں میں اور کبھی درّہ ہیبر کی چوٹی پر گورا لوگ کے خیموں کے برابر میں ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ ایستادہ ہے اور وہاں ہنڈولے روشن ہیں، گورا لوگ کرسیوں پر براجمان ڈنر کرتے، وائن پیتے، اپنی محبوباؤں کو یاد کرتے موج میلہ کر رہے ہیں تو ہم شدید حسد میں مبتلا ہو جاتے تھے کہ یا تو ہم اپنے خیموں میں کُبڑے ہو کر کچھ دال دلیاکر لیتے تھے اور یا پھر کبھی پتھروں اور کبھی برف پر کوئی ترپال بچھا کر کھانا زہر مار کرلیتے تھے۔ ڈاکٹر احسن نے ہماری کوہ نوردی کی حیات میں پہلی بار ہمیں بھی ’’مکی ماؤسز‘‘ کر دیا تھا۔ ہم ابھی ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ میں فروکش کرسیوں پر بیٹھے شیف صاحب کے خوراکی کمالات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

شراب تو اُس شب نہ آئی پر روح کی وہ تتلی جو آزاد ہو گئی تھی اُس کی اڑان کا خمار آیا اور خوب آیا۔

خواجہ تنویر من کی موج میں تھا، عشق کے بارے میں نوجوانوں کو تلقین کر رہا تھا کہ آپ بچہ لوگ کو میں ایک بزرگ کی حیثیت میں نصیحت کرتا ہوں کہ موج میلہ ضرور کرو لیکن کبھی بھی عشق میں سنجیدہ نہ ہو جانا۔ عشق کے میلے میں شامل ہو گئے تو عمر بھر پچھتاؤ گے۔ اُس نے اِس نصیت کی دلیل میں ہم سب کو محبور کیا کہ ہم غلام علی کی غزل نہایت غور سے سنیں اور بار بار سنیں کہ ۔ کس نے کس کا دِل دُکھایا ؟یہ کہانی پھر سہی۔

میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ہنس مکھ شخص کسی ایسے دُکھ میں مبتلا ہے جس کی کمان پھر سہی۔

\"haramosh-tarar-2\"

ویسے وہ نہیں جانتا تھا کہ جن ’’بچوں‘‘ کو وہ نصیحت کر رہا ہے یہ بہت گھاگ اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں، جب کسی ایک گھاٹ کے پانی سے سیراب ہو جاتے ہیں تو کسی اور معصوم گھاٹ کو غٹ غٹ پی جاتے ہیں۔ ہماری ٹیم میں صرف دو کم سن بچے تھے۔ کامران اور عاطف۔

کامران کے گرد مری ہوئی مکھیوں کا ایک ڈھیر ہوتا تھا، وہ اُس پر مرتی رہتی تھی، وہ غاروں کے زمانوں کا ایک وحشی انسان تھا جو اپنے اوپر مرنے والی کسی بھی مکھی کو بالوں سے گھسیٹتا اپنی پرائیویٹ غار میں لے جاتا تھا اور وہ مکھی اس حسن سلوک پر احتجاج نہ کرتی تھی، بخوشی گھسٹتی چلی جاتی تھی۔

اور دوسرا بچہ عاطف۔ ایک گھنی اور الجھی ہوئی ڈاڑھی میں پوشیدہ۔اپنے اندر ایک وحشت بھری کشش رکھتا تھا، مکھیوں کی اسے بھی کچھ کمی نہ تھی۔ وہ انہیں مارے یا نہ مارے، یہ اُس کی صوابدید پر منحصر تھا۔

اور تب اُس شب میں گھاس بھرے خنک ہوتے میدان کے ایک کونے میں مویشیوں کا ایک ویران باڑہ تھا وہاں سے ایک گدھے کی فریاد بلند ہوئی۔

وہ تنہائی کا مارا ہوا کوئی گدھا تھا۔

یقیناًجنسی طور پر ایک بہت ناآسودہ گدھا تھا ورنہ اُس کی فریاد میں ایسی بے چارگی تو نہ ہوتی ، آپ جانتے ہیں کہ ایک گدھا بے شک خرِ عیسےٰ لیکن اُس کی تفریح صرف اُس کے اعضاء کی شاعری ہوتی ہے۔ اُس گدھے نے ناآسودگی کے جو سریلے گیت چھیڑے تو تقریر کرتا خواجہ بہت ڈسٹرب ہوا ’’تارڑ صاحب۔ اس گدھے کو چپ کرائیں‘‘۔

’’اگرتم فی الفور گریس کا ایک ڈبہ مجھے مہیا کردو تو شاید میں اسے چپ کروانے میں معاون ثابت ہوسکوں؟‘‘

’’گریس کا ڈبہ۔‘‘ خواجہ کچھ ہکاّ بھی اور بکاّ بھی رہ گیا۔

میں نے اُسے بتایا کہ یہاں تو ایک ہے راکا پوشی بیس کیمپ میں درجنوں گدھے کورس میں ’’چاندنی راتیں‘‘ وغیرہ الاپتے تھے۔ اسرار نے مجھے اِس اسرار سے آگاہ کیا کہ تارڑ صاحب اگر آپ نے کسی بھی گدھے کو چپ کرانا ہو تو ایک ترکیب ہے جو آزمودہ ہے۔ آپ اُس کے نازک مقام میں گریس کا پوچا پھیر دیں۔

’’لا حول ولا۔‘‘تنویر نے کہا ’’گدھے کو بولنے دیں‘‘ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 180 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments