آرمی چیف کی توسیع: آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟


جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آرمی ایکٹ میں کسی بھی افسر کی مدتِ سروس کا ذکر ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مدتِ ملازمت کا ذکر رولز میں ہے، ایکٹ میں نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں مدت اور دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا بھی ذکر ایکٹ میں نہیں۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے انہیں جواب دیا کہ فوج کوئی جمہوری ادارہ نہیں ہے، دنیا بھر میں فوج کمانڈ پر ہی چلتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایکٹ کہتا ہے کہ ریلیز یا ڈسچارج میں کوئی تاخیر نہیں کرنا۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ میں آرمی رولز اینڈ ریگولیشن پڑھ کر سنائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کا تقرر وزیرِ اعظم کا اختیار ہے، یہ بات واضح ہے، ابہام نہیں کہ وزیرِ اعظم کسی کو بھی آرمی چیف مقرر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ ریٹائرڈ آرمی چیف کو دوبارہ لگایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا واضح جواب آئے تو مسئلہ حل ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیلڈ مارشل سمیت کسی بھی آرمی افسر کو حکومت ریٹائرڈ کر سکتی ہے، حکومت رضا کارانہ طور پر یا پھر جبری طور پر ریٹائر کر سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ اس میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ بار بار مدت کا ذکر آ رہا ہے تو آپ مدت کے بارے میں بتا دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فوجی معاملات پر حکومت کا مشیر بھی ہوتا ہے، فوج کے نظم و نسق کی ذمے داری بھی آرمی چیف پر عائد ہوتی ہے، ہم فوج کے سارے ریگولیشنز دیکھ رہے ہیں تاکہ آپ کے دلائل کو سراہ سکیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آرمی رولز ریگولیشنز بنانے والے کی اسکیم سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس کے ذہن میں کیا تھا، رولز کے مطابق جنگی حالات میں ریٹائرڈ افسر کو دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل 3 ریٹائرڈ آرمی افسران کو سزا دی گئی، ریٹائرڈ افسران کے خلاف کارروائی انہیں سروس میں بحال کر کے کی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ متعلقہ حکام بتائیں کہ کس قانون کے تحت ریٹائرڈ افسران کو بحال کر کے سزا دی گئی؟ معلوم ہونا چاہیے کہ آرٹیکل 255 کو پاک آرمی کس تناظر میں دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکشن 255 کو احتیاط سے پڑھیں، آپ کے کیس کا سارا دارومدار اس پر ہے، ریٹائرڈ افسران کو آرمی رولز میں سزا نہیں دی جا سکتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ نارمل ریٹائرمنٹ کب ہوتی ہے؟ مدتِ ملازمت پوری ہو جائے تو کیا ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی؟

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ جی سروس کی مدت پوری ہوتے ہی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نوکری سے نکالے جانے پر ڈسچارج کیا جاتا ہے یا پھر ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، ہم سروس ٹرمینیشن سے متعلق پوری اسکیم دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں نوکری سے برخاستگی، ریٹائرمنٹ اور ریٹائرمنٹ کی معطلی آتی ہے، جنگ کے دوران عارضی طور پر ریٹائرمنٹ معطل کی جا سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ آرمی چیف کو کون تعینات کرتا ہے؟

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے انہیں جواب دیا کہ آرمی چیف کو آئین تعینات کرتا ہے۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کیا ہوگی؟

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ آرمی چیف عہدہ ہے لیکن وہ بھی جنرل ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مدت تو 65 سال تک لکھی ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ وہ تو پرانی اور غیرمتعلقہ ہے، 255 اے، بی اور سی ریٹائرمنٹ سے متعلق ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت آرمی چیف کو تعینات کرتی ہے، وفاقی حکومت 255 کا اطلاق کرتی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف کو وفاقی حکومت نہیں بلکہ صدر تعینات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس معاملہ چیف آف دی آرمی اسٹاف سے متعلق ہے، آرمی چیف کو صدر وزیرِ اعظم کی سفارش پر تعینات کرتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے ان کے جنرل ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں، چاہے وہ ساری زندگی ہی جنرل رہیں، معاملہ یہ ہے کہ کیا انہیں بطور آرمی چیف توسیع مل سکتی ہے؟ آپ نے کہا کہ آرمی چیف کو وفاقی حکومت تعینات نہیں کر سکتی، صدر ہی تعینات کرتا ہے۔ اگر آرمی چیف کی تعیناتی حکومت نہیں کرتی تو پھر مدتِ ملازمت میں توسیع کیسے دے سکتی ہے؟

دورانِ سماعت چیف جسٹس کا آرمی چیف کے وکیل فروغ نسیم سے دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فروغ نسیم آپ کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کل ریٹائر ہو جائیں گے، جبکہ اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائر ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق کسی سابق فوجی افسر کو بھی آرمی چیف لگایا جا سکتا ہے؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی آرٹیکل 243 کی تعریف کے مطابق انہیں بھی آرمی چیف لگایا جا سکتا ہے، اگر وفاقی حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کرتی تو توسیع کیسے کرسکتی ہے؟ کیا مدت ختم ہو جائے تو آرمی چیف ریٹائرڈ ہوجائے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی ریٹائرڈ جنرل کو بھی آرمی چیف لگا سکتے ہیں، اس میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ آرمی چیف آرمی سے ہی ہو گا، ایسے تو آپ کو بھی آرمی چیف بنا سکتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آرمی چیف کب ریٹائرڈ ہوں گے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کل رات کو ریٹائر ہو جائیں گے، ان کی مدتِ ملازمت 28 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرمی چیف 29 نومبر کو تعینات ہوئے تھے، اس کا مطلب ہے کہ آرمی چیف کی مدت 28 اور 29 نومبر کی درمیانی شب ختم ہو رہی ہے، پھر تو اس کیس کا فوری فیصلہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کی ہے لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، کسی نے پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی، وزیرِ اعظم نے سمری اور ایڈوائز تعیناتی کی بھیجی اور نوٹیفکیشن توسیع کا ہو گیا۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ یہ وزارتی معاملات ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس توقیر حسین کا کیس آیا، جسٹس توقیر سے لاء والوں نے ایسی ایسی حرکتیں کی کہ باعزت شخص کو بے توقیر کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے، جائیں دو دن ہیں، کچھ کریں، ساری رات اکھٹے ہوئے، کابینہ کے دو اجلاس ہوئے، ہم نے سوچا تھا کہ اتنے دماغ بیٹھے ہیں، مگر اتنے غور کے بعد یہ چیز لے کر آئے ہیں، ہمارے لیے تکلیف کی بات ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4