آرمی چیف کی توسیع: آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟


اس سے قبل آج صبح جب سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان وفاق کی جانب سے اور فروغ نسیم آرمی چیف کے وکیل کے طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں، فروغ نسیم نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کروا دیا۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو ترمیم آپ کر کے آگئے ہیں وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، آرمی ایکٹ رول 255 افسران سے متعلق ہے آرمی چیف سے متعلق نہیں، آرمی چیف کمانڈر ہوتا ہے افسر نہیں، جیسے افسران کی تعیناتی کا اختیار رکھنے والے صدر پر سروسز رولز کا اطلاق نہیں ہوتا ویسے آرمی چیف پر بھی نہیں ہوتا، اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تقرری یا توسیع نہ آئین میں ہے نہ ہی قانون میں ہے، معاملہ دوبارہ تقرری اور توسیع کا ہے، آپ کیسے قانونی طور پر ثابت کریں گے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، اسی لیے آپ نے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے ہمیں دکھائیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کل بھی میں نے بتایا تھا کہ توسیع کے نوٹی فکیشن پر متعدد وزراء کے جواب کا انتظار تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا صرف اس صورت میں سمجھا جاتا ہے جب مقررہ مدت میں جواب دینا ہو، آپ نے مدت مقرر نہیں کی تھی لہٰذا آپ کے سوال کا جواب آج بھی ہاں تصورنہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کل رولز میں تبدیلی کے وقت کابینہ کو رولز پر بحث کے لیے وقت دیا گیا؟ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ کابینہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر اوپن مینڈیٹ تھا تو چھوڑ دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ کل جن خامیوں کی نشاندہی کی تھی ان کو تسلیم کیا گیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انہیں خامیاں تسلیم نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اگر خامیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو تصیح کیوں کی گئی؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں، توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ صرف 11 ارکان نے ہاں میں جواب دیا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر باقیوں نے ہاں میں جواب دیا تھا تو کتنے وقت میں دیا تھا یہ بتا دیں؟ کل جو آپ نے دستاویز دی تھی اس میں 11 ارکان نے ’یس‘ لکھا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہے تو دکھائیں، اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جا چکی ہے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہے اس لیے اس پر بات کروں گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کابینہ سرکولیشن میں وقت مقرر نہیں تھا تو اس نکتے کو چھوڑ دیں، جو عدالت نے کل غلطیاں نکالی تھیں انہیں تسلیم کر کے ٹھیک کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ اس سے غلطی ہوئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کابینہ کے ارکان کے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے آپ کی دستاویزات کو دیکھ کر حکم دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ان سے کہا کہ ازسرنو اور توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جن پر عمل کیا، تسلی سے سب کو سنیں گے۔ کوئی جلدی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے یہ سوال اٹھایا نہیں گیا، اب اٹھا ہے تو اس کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، ماضی میں پانچ چھ جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف ملٹری کو کمانڈ کرتا ہے، تعیناتی صدر اور وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر کرتا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے، آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں؟

انہوں نے مزید پوچھا کہ کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے، یا ریٹائرڈ جنرل بھی؟ قواعد کو دیکھنا ضروری ہے، 243 تو مراعات اور دیگر معاملات سے متعلق ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ میرے پاس ترمیمی مسودہ ابھی آیا ہے۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ہمارے پاس وہ بھی نہیں آیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے؟ آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جا چکے یا ریٹائر ہو گئے، اس آرٹیکل کے تحت ان کو واپس بلایا جاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4