آرمی چیف کی توسیع: آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟


جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا مدتِ ملازمت 3 سال کے لیے ہے، 3 سال کے بعد کیا ہو گا؟ اٹارنی جنرل نے اس پر جواب دیا کہ 3 سال تو نوٹی فکیشن میں لکھا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کل کے نوٹی فکیشن میں 3 سال کی مدت کیسے لکھی گئی؟

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل چار پانچ مرتبہ خود کو توسیع دیتے رہتے ہیں، یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے، لیفٹیننٹ جنرل 4 سال بعد ریٹائر ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 57 سال ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی بالکل رول میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آرمی چیف کی تقرری کا نوٹی فکیشن ریکارڈ پر موجود ہے؟ آرمی چیف کا جو نوٹی فکیشن جاری ہوا تھا وہ بتائیں کیا کہتا ہے؟

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ اگر ریٹائرمنٹ سے 2 دن قبل آرمی چیف کی توسیع ہو تو کیا وہ جاری رکھے گا، 3 سال کی مدت ہوتی ہے تو وہ کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا تعین کہیں نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ سب کو خاموشی سے سنیں گے، بہت سارے قواعد خاموش ہیں، کچھ روایتیں بن گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کر لیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں، آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ 262 میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ آرٹیکل 243 / 3 کے تحت کمیشن ملتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کا پہلا نوٹی فکیشن کیا کہتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے اس پر کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے، یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے، 1948 ء سے لے کر ابھی تک تقرریاں ایسے ہی ہوئیں ہیں، جسٹس کیانی کی تقرری بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے تصحیح کی کہ جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی کی تقرری۔

اٹارنی جنرل نے جوا ب دیا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کا کوئی تعین نہیں ہے، آرٹیکل 243 کی کوئی ایڈوائس نہیں ہوتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو دو مرتبہ کابینہ کو ایڈوائس بھیجی ہے۔

جسٹس منصور نے کہا کہ معاملہ توسیع اور نئی تعیناتی کا ہے، اسے کیسے قانونی طور پر ثابت کریں گے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تعیناتی کی تعریف میں دوبارہ تعیناتی بھی آتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رولز میں ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر ہے، جب مدت مکمل ہو جائے پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہے کہ گھر کیسے جائیں گے یا فارغ کیسے کریں گے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل اچانک درمیان میں بول پڑے جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ جلدی میں تو نہیں؟

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں، آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے، اس آرٹیکل میں حالات کے تحت ریٹائرمنٹ نہ دی جا سکے تو 2 ماہ کی توسیع دی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بندہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا تو اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جا سکتا ہے، اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہو سکتی؟ مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہو سکتی ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کر رہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے، جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے، آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دیکھتے ہیں بحث کب تک چلتی ہے، ابھی تک تو ہم کیس سمجھ ہی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کمانڈر ہوتا ہے افسر نہیں، یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے صدر مملکت کا، صدر مملکت سول سرونٹس کا تقرر کرتا ہے، تقرر کا اختیار رکھنے والے صدر مملکت پر سول سروس قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، یہی معاملہ آرمی چیف کا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ تمام آفیسرز سے ڈیل کرتا ہے، چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری آئین کے تحت ہوتی ہے، سروسز رولز میں تو چیف آف آرمی اسٹاف نہیں آتا۔

واضح رہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے گزشتہ روز آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف کو آج سماعت کے لیے نوٹس جاری کر رکھا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4