جنید حفیظ جیسے احمق لوگوں کے نام، جو لوٹ کے واپس آتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس دن اس کیس کو سماعت ہورہی تھی، اس دن کراچی میں تھا۔ مجھے ایک شخص ملا، جو دماغ کا تیز تھا اور عقیدے کا شیعہ تھا۔ شیعہ مکتبِ فکر کو ریاست نے اپنی دستاویز میں کبھی غیرمسلم نہیں لکھا، مگر ریاست کا خیال ان کے متعلق بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔ نوجوان نے بتایا، میں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہیں میں نے تین بڑے اداروں میں نوکری کی ہے۔ پھر سوچا، میں اپنی صلاحیتیں یہاں کیوں ضائع کرہا ہوں۔ مجھے اپنے ملک لوٹ جانا چاہیے، کہ اپنی مٹی کا قرض مجھ پر زیادہ ہے۔

میں نے خاموشی سے سن کر درمندی سے کہا، تم نے بہت بڑی حماقت کردی ہے دوست۔ تم نسلی طور پر شیعہ ہو، دماغی طور پر ترقی پسند ہو اور علمی طور پر مستند ہو۔ مان لو کہ یہ وطن تمہارا نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ بات تمہیں تمہارا کوئی شاگرد، کوئی استاد، کوئی مذہبی سیاسی کارکن، کوئی محب وطن شہری، کوئی برگزیدہ قانون دان یا کوئی خوف زدہ جج سمجھائے، تمہیں خود سمجھ جانا چاہیے۔

مشکل یہ ہے کہ اس ملک کا قومی مفاد جھوٹ پر کھڑا ہے۔ سچ کہو تو ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس ملک کا قومی بیانیہ نفرت کا دیباچہ ہے۔ محبت اور امن کی بات کرو ملک تاریخ کے نازک ترین دور سے موڑ کاٹنے لگ جاتا ہے۔ ایسے میں یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ ذہین، باصلاحیت اور امن پسند اذہان کے لیے یہ ملک ایک غیر محفوظ سیارہ ہے۔ آپ ذہین ہیں تو آپ سوچے بغیر رہ نہیں پائیں گے۔ سوچیں گے تو دماغ میں ایک کے بعد ایک سوال اٹھتا چلا جائے گا۔

سوال اٹھے گا تو آپ اٹھا لیے جائیں گے۔ اور آپ کو لامکان کے کسی نامعلوم پہلو میں اکڑوں بٹھا کر یہ سمجہادیا جائے گا کہ دیکھو اچھے بھلے انسان ہو، پڑھے لکھے ہو، بال بچے دار ہو، اچھے خاندان سے ہو، سلجھے ہوئے ہو اور سمجھ دار ہو، سوال اٹھاتے ہو بندوق کیوں نہیں اٹھاتے؟ حافظ سعید کی طرح بچوں کو نفرت کا سبق پڑھاکر حب الوطنی کا ثبوت کیوں نہیں دیتے؟ پرویز ہودبھائی کی طرح محبت اور امن کا بیانیہ پڑھاکر ملک دشمنی کا طوق کیوں گلے میں لٹکاتے ہو؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں یہاں ذہین انسان صرف اس شخص کو قرر دے رہا ہوں جو Critical Thinking یعنی تنقیدی مطالعے پر یقین رکھتا ہے، تو آپ کو غلط لگ رہا ہے۔ یہاں وہ لوگ بھی میری مراد ہیں جو تنقیدے مطالعے کا سر درد تو نہیں پالتے مگر نفرت اور تفرقے میں پڑے بغیر اس ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر امریکہ میں اپنی تمام پیشہ ورانہ سرگرمیاں چھوڑکر لاہور آئے تھے۔ شب وروز محنت کے بعد انہوں نے لاہور میں پانچ سو بیڈ کا کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ کا سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کھڑا کیا۔

یہاں انہیں جو تنخوا مل رہی تھی وہ امریکہ میں چھوڑی ہوئی مراعات کی زکوۃ بھی نہیں بنتی تھی۔ اداروں نے ڈاکٹر سعید اختر کا مسلسل گھیراؤ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہسپتال کھل پایا اور نہ ڈاکٹر سعید ٹِک پائے۔ انجامِ کار ڈاکٹرسعید اختر نے اپنے ہاتھ سے سینچے ہوئے گلشن میں ہتھیار ڈالے اور ہاتھ کھڑے کرکے امریکہ لوٹ گئے۔

ایسے ہی ایک معصوم انسان اور بھی تھے۔ محمود بھٹی ان کا نام تھا اور بڑے فیشن ڈیزائنر تھے۔ یہ پہلی بار فرانس پہنچے تو کوئی ان کا ولی وارث نہیں تھا۔ سڑک پر سوتے تھے اور ایک یہودی کے بوتیک پربہت معمولی سی نوکری کرتے تھے۔ محنت کرکے اسی بوتیک سے انہوں نے سیکھا، سمجھا اور اپنے یہودی مالک کی مدد سے خود کو نامور فیشن ڈیزائنرز کی صف میں منوالیا۔ فرنس نے ان کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا اعتراف کیا۔

سب ٹھیک تھا، مگران سے غلطی ہوگئی۔ پاکستان کی خدمت کرنے کا سودا سر میں سماگیا۔ ساری پونجی لپیٹی اور پاکستان آگئے۔ لاہور کا نیشنل ہسپتال انہوں نے ہی قائم کیا۔ میو ہسپتال میں نادار بچوں کے لیے وارڈ وہی تعمیر کررہے تھے۔ سالانہ سو بچوں کی تعلیم کا ذمہ لیا۔ شمالی علاقوں میں سالانہ سو بچیوں کی شادی کا بوجھ بھی اپنے سر لیا۔ پانچ فلاحی اداروں کا مختلف مد میں بجٹ اپنی جیب پر لے لیا۔ ایک دن چیف جسٹس ان کے ہسپتال پہنچ گئے۔ ان سے وہ سوال کیے جو سرے سے واجب ہی نہ تھے۔ چیف جسٹس نے ان کے لباس کا بھی مذاق اڑایا۔ فرمایا، یہ مت پہنا کرو۔ ایک آدھ دن میں باقی کے اداروں نے گھیراؤ شروع کردیا۔ نتیجہ؟ محمود بھٹی نے پاکستان سے اپنے سارے کاروباری اثاثے سمیٹے، تمام فلاحی منصوبے لپیٹے اور واپس فرانس چلے گئے۔

اس طرح کے ذہین لوگوں کو گھیرنے کے لیے ہمارے عام حربے کافی ہیں۔ لیکن اگر آپ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ تنقیدی مطالعے پر یقین بھی رکھتے ہیں تو پھر اس کا قانونی اورآئِینی بندوبست بھی موجود ہے۔ یہ بندوبست ہماری پرانی روایت ہے جو ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ آج ہم بہت فخرسے کہہ دیتے ہیں کہ سائنسی علوم کے ابتدائی صفحات تو مسلم سائنس دانوں نے لکھے ہیں۔ حالانکہ ہماری تاریخ ان سائنس دانوں پر فخر کی نہیں ہے۔

تاریخ یہ ہے کہ ہم نے ان سائنس دانوں کو قتل کیا۔ انہیں قلعوں میں نظر بند کیا۔ ان کے کتب خانے، چھاپے خانے اور لیبارٹریوں کو جلاکر بھسم کیا۔ ان کی تصنیفات کو نفرت انگیز مواد قرار دے کر بحقِ سرکار ضبط کیا۔ ان کو جلاوطن ہونے پر مجبور کیا۔ ہمارے نصاب اور تاریخ میں وہ سارے بادشاہ اور خلفا آج بھی ہیرو ہیں جنہوں نے ابنِ رشد جیسے اذہان کا گھیراؤ کیا۔ یہی لوگ ہیں جو آج اس بات پر فخر کررہے ہیں کہ برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں چودہ پاکستانی جیت گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ چودہ ذہین سیاسی نمائندے اگر پاکستان آنے کی حماقت کرلیں، تو اگلے ایک برس میں ان میں سے کوئی سنگسار کیے جاچکے ہوں گے، کچھ لاپتا افراد میں شامل ہوچکے ہوں گے اور کچھ جو رہ گئے ہوں گے وہ توہینِ مذہب جیسے مقدمات کا سامنا کررہے ہوں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *