سیکیولرازم یا اسلام : مکالمے پر تبصرہ


فاروقی صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ سیاست اور ریاست کو الگ کرنا جدید مغرب کی سوچ ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہاں عیسائیت کی اصل تعلیمات کھوگئی اور اخلاقیات کا کوئی ضابطہ موجود نہ رہا۔ اس کے برعکس ہمارے پاس اسلام قرآن و حدیث کی صورت میں اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ عقل وحی کے تابع ہے جس سے اسے روشنی ملتی ہے۔ معاشرے میں بنیادی قوانین ایک سے رہتے ہیں۔ زبیر صاحب بات آگے لے کر چلتے ہیں کہ اسلام کے قوانین عالمگیر ہیں جو زماں اور مکاں کے اعتبار سے بدلتے نہی۔ ریاست محض فرد کے لیے ہی نہی بلکہ معاشرے کے لیے بھی قوانین بناتی ہے۔

حاشر صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ آپ جس چیز کو درست سمجھیں اس پر عمل کریں۔ وحی کی تشریح بھی عقل ہی سے کی جاتی ہے۔ ریاست اور سیاسی نظم انسان بناتے ہیں۔ اب یہ بتائیں کہ ہم بہتر زندگی کے لیے سیکیولر ممالک کا ہی رخ کیوں کرتے ہیں۔ جبکہ مذہب جنگوں کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم یہودیوں کے خلاف تھی۔ حضرت موسی اور فرعون اور حضرت ابراہیم اور نمرود کی لڑائی کو سیاسی جھگڑا قرار دیا۔ فاروقی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ سیکیولر معاشروں میں خانہ جنگی نے انسانیت کا بڑے پیمانے پر قتل کیا ہے۔

اسلام نے تو یورپ کو علم کے نور سے منور کیا جبکہ اب سیکیولر مذہب کو کم عقلی سے نتھی کرتے ہیں۔ امریکہ روس اور چین میں سیکیولر سوچ کے زیر اثر کروڑوں لوگ قتل کیے گئے ہیں۔ آج یورپ میں عورت کو بے لباس ہونے کی اجازت تو ہے لیکن اسکارف پہ پابندی ہے۔ حضرت موسی کی فرعون کے ساتھ جنگ بھی اسی بنیاد پر تھی کہ فرعون اللہ کا انکار کرکے انا ربکم العلٰی کا اعلان کرتا تھا۔ یہی نمرود اور حضرت ابراہیم کی لڑائی تھی کہ وہ بھی مادیت کو الٰہ مانتا تھا۔ ریاست مذہب کو تسلیم کیے بنا فرد پر شرعی قوانین کا اطلاق کر ہی نہی سکتی۔ مذہب کی روح یہ ہے کہ انسان جنگلوں، پہاڑوں سے نکل کر رہبانیت ترک کرے اور معاشرتی زندگی گزارے۔ اب سیکیولرازم پھر یہی چاہتا ہے کہ مذہبی لوگوں کو پھر سے جنگل نشین کردیا جائے۔

فرنود صاحب وحی کا انکار کرتے ہیں لیکن اقرار کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے لیے اپنے بچپن سے فرشتوں کی کہانی سناتے ہیں اور اب اس بات پر قائم ہیں کہ فرشتے صرف قصے کہانیوں میں ہیں۔ وہ اسلام کو اب بھی 4 + 4 = 5 ہی سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ قرآن پر جب آنکھ بند کرکے یقین کرنا ہے تو اس پر سوال نہی اٹھاسکتے۔ اسی طرح اسلام کون سا مانا جائے۔ خارجیت اسلام کا تصور ہے۔ خلافت کی جنگیں اس کی مثال ہیں تو کس کو سہی سمجھا جائے۔

داعش کا اسلام مانا جائے کہ بوکو حرام کا۔ متحدہ مجلس عمل کو درست مانیں یا تحریک طالبان کو، دونوں ہی شوبز کے خلاف ہیں۔ ایک اغوا کرتا ہے تو دوسرا گرفتار کرواتا ہے۔ کیا آپ کسی مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگاسکتے ہیں؟ کسی ایک شہری کو بھی اس کے بنیادی حق سے محروم نہی کیا جاسکتا۔ اگر سیکیولرازم والے کسی کو قتل کرتے ہیں تو اس کے لیے وہ کوئی تاویل یا دلیل نہی گھڑتے۔ جبکہ اہل مذہب ابن رشد اور ڈاکٹرعبد سلام پر پابندی دلیل کے ساتھ لگاتے ہیں۔

صفدر صاحب ان باتون کے جواب میں کہتے ہیں کہ اسلام نے کہاں 4 + 4 کو 5 کہا ہے۔ اسلامی قوانین ان کے لیے ہیں جو اسلام قبول کرچکے۔ ان میں انفرادی و اجتماعی کی تفریق نہی۔ اسلام کی تاریخ میں نشیب و فراز ہیں اور یہ انسانی المیہ ہے۔ فرقے بھی تبھی نظر آئیں گے جب اسلام کو اس کی اصل ہے ہٹ کر دیکھیں۔ آپ مولانا مودودی یا کسی اور سکالر سے نہی بلکہ قرآن پڑھیں اور اس سے دین سیکھیں۔ میرا جسم میری مرضی سیکیولر تصور ہے جسے کسی طور قبول یا برداشت نہی کیا جاسکتا۔ اس سے ہمارے معاشرتی و خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اس سے معاشرتی اقدار منہدم ہوجاتی ہیں۔

آخر میں حاشر ابن ارشاد صاحب کہتے ہیں کہ ابھی تو ہم عورت اور مرد کو ایک جگہ بٹھانے سے قاصر ہیں تو میرا جسم میری مرضی کو سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ یہ ایک خلط مبحث ہے۔ اخلاقیات ایک وسیع موضوع ہے۔ بس معاشروں میں مذہب کا دخل نہی ہونا چاہیے اور نا ہی افراد کی تعداد کا معاملہ ہونا چاہیے کہ اس سے بچے پیدا کرنے کی دوڑ نہی لگانی۔

اس طرح تقریب اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔

اس تمام قضیے سے چار چھ باتیں سامنے آتی ہیں جن پر بات کی گئی۔ مکالمے کا اپنا ایک ماحول ہوتا ہے وہاں فی البدیہہ گفتگو کی جاتی ہے۔ کچھ سوال جواب طلب رہ جاتے ہیں اور کچھ نئے پیدا ہوتے ہیں۔ سیکیولرازم کے حامی یعنی فرنود او حاشر صاحب کی باتوں کا نچوڑ یہ رہا کہ

1۔ سیکیولرازم الحاد نہی ہے بلکہ دین سے جداگانہ نظام ہے

2۔ مذہب فرد کے لیے ہے جبکہ سیکیولرازم ریاست کے لیے

3۔ یہ دین اور مذہب کو ایک ہی چیز مانتے ہیں

4۔ وحی اور فرشتوں کے وجود کو نہی مانتے

5۔ مذہب اندھی تقلید کا نام ہے

6۔ مذہب سوچ اور شعور پر پابندی لگاتا ہے

7۔ فرد کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرتا ہے اور

8۔ فرد کی انفرادی زندگی کی آزادی کو سلب کرتا ہے۔ اور

9۔ تشدد کو جواز مہیا کرتا ہے

اب ان اعتراضات پر بات کرتے ہیں

سیکیولرازم الحاد ہے یا نہی، اور اس کی کس نے کیا تعریف کی اس سے پہلے الحاد سے جان پہچان کرلینا بہت ضروری ہے۔

الحاد atheism کو جہاں سے بھی پڑھنا چاہا اس کی ایک ہی طرح کی تعریف ملی جو الفاظ کے بدلاؤ کے باوجود ایک یہی مفہوم دیتی ہے کہ الحاد کسی خدا کے ہونے کے انکار کا نام ہے۔ مذہب محض اشخاص یعنی انبیاء کرام کی اپنی ایجادات ہیں۔ وحی نام کی کوئی چیز وجود نہی رکھتی اور فرشتوں کا وجود قصے کہانیاں ہیں۔ اس دنیا کا کوئی خالق نہی بلکہ یہ خود بخود وجود میں آئی۔ انسان اپنی موجودہ جسمانی حالت یا ساخت کو ایک ارتقائی عمل سے پہنچا۔ اب ایسے تمام افراد جو اس قسم کے نظریات کو مانتے ہیں اور ان کا پرچار کرتے ہیں ملحد کہلاتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہی پڑتا وہ اس اصطلاح کو اپنے لیے استعمال کریں یا نہ کریں۔

اب سیکیولرازم کی طرف آتے ہیں۔ عام آدمی کو سیکیولرازم کے بارے میں وہی پتا ہے جو وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔ اس بات میں کوئی دورائے نہی کہ اس کی تعریف میں ابہام پایا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس کے دنوں سے اب تک اس فلسفے کو سیاسی اغراض کے لیے استعمال کیا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں معروضی حالات کے زیر اثر سیکیولر سوچ کے حامل افراد سیکیولرازم کی مختلف توجیہات کے ساتھ وکالت کرتے ہیں۔ اختصار سے کام لیتے ہیں اور بس اپنے ملک میں موجود سیکیولر سوچ کے حامل افراد کو دیکھتے ہیں۔ یہاں کم از کم دو طرح کے سیکیولر افراد ملتے ہیں۔ ایک مذہبی سیکیولر اور دوسرے وہ جو مذہب میں یقین نہی رکھتے۔ مذہبی سیکیولر وہ لوگ ہیں جو طالبانائزیشن کے خلاف ہیں۔ یہ مذہب کو جدید پیرائے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ رواداری اور مذہبی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ تشدد والی سوچ سے متنفر ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4