سیکیولرازم یا اسلام : مکالمے پر تبصرہ

ایک دوسری قسم ان سیکیولرز کی ہے جو اپنا بیک گراؤنڈ تو مذہبی بتاتے ہیں لیکن بذات خود مذہب کا انکار کرتے ہیں۔ اس سب کا ذمہ دار وہ حوادث زمانہ کو ٹھہراتے ہیں اور اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کے زیر اثر ان کا مذہب سے یقین اٹھ گیا ہے۔ ایسے لوگ انبیاء کرام کو اللہ کی طرف سے مبعوث نہی مانتے بلکہ ان کے نزدیک یہ اپنے اپنے زمانہ کے اسکالرز تھے جنہوں نے لوگوں کو اپنی باتوں سے متاثر کیا۔ وحی اور دیگر الہامی پیغامات کو نہی مانتے کہ ان کے نزدیک فرشتوں کا کوئی وجود نہی۔
اس دوسرے گروہ کے نظریات کو جب الحاد کے نظریات کے متوازی رکھ کر دیکھیں تو بس اتنا سا فرق نظر آتا ہے کہ ملحد اس بات کا اعلانیہ اعتراف کرلیتے ہیں۔ اب وہ خواہ ہیومنسٹ سیکیولر ہوں یا ایتھیسٹ اس سے فرق نہی پڑتا۔ اب ایک بات تو طے ہے کہ جو لوگ اللہ کے اس کائینات کا خالق ہونے اور رسولوں اور نبیوں کو اس کی طرف سے مبعوث ہونے کا یقین نہ رکھیں وہ ملحد ہیں۔ جو سیکیولر سوچ رکھنے والا اللہ کے ہونے کا قائل ہے وہ ملحد نہی اور جو اللہ کے ہونے کا منکر ہے وہ ملحد ہے۔
دوسرا نکتہ جو زیر بحث رہا وہ یہ کہ مذہب فرد کے لیے ہے اور یہ اس کی ذات تک ہی ہے، ریاست کو اس میں دخل نہی دینا چاہیے۔ جہاں تک مذہب کی بات ہے تو یقینا یہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے کہ اس نے کون سا مذہب اختیار کرنا ہے، یا کرنا بھی ہے یا نہی۔ تاریخ شاہد ہے کہ لوگوں کا مذہب اسلحہ کے زور پر نہی بدلا جاسکتا۔ سپین میں مسلم کشی ہو یا جرمنی میں ہولوکاسٹ، لوگ قتل ہوگئے لیکن اپنے عقائد سے نہی پھرے۔ مذہب تبلیغ سے پھیلے ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نے اسلام کی دعوت کا آغاز مکہ میں کیا۔ پہلی اسلامی ریاست 622 عیسوی میں مدینہ میں قائم ہوئی۔ یہ کسی جنگ کے نتیجے میں نہی بلکہ اکائیوں کے مابین ایک سوشل کونٹریکٹ کے تحت قائم کی گئی۔ اس سے قبل معلوم انسانی تاریخ میں انسانوں پر حکومت کرنے کے لیے قوانین تو بنائے گئے لیکن میثاق مدینہ اپنی نوعیت کا پہلا چارٹر تھا جو مختلف العقائد گروہوں کی ایک ہی معاشرے میں بقا کا ضامن تھا۔
لوگوں کو انفرادی و اجتماعی دونوں حیثیتوں میں معاشرت۔ ، معیشت اور عبادات کی آزادی کا حق دیا گیا۔ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل نہی کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی معاشرتی و معاشی پابندی لگائی گئی۔ بس ایک ضابطہ سوشل کونٹریکٹ کے طور پر طے ہوا کہ جو غیر مسلم ہیں ان پر ان کے مذہب کے قوانین لاگو ہوں گے اور جو مسلم ہیں ان کو اسلام کی تعلیمات کی پیروی کرنا ہے۔ کسی کو آزادی رائے کی آڑ میں کسی دوسرے مذہب کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہی دی گئی۔ مذہب کا اختیار کرنا فرد کی مرضی پر ہی منحصر رکھا گیا۔
لیکن جب کوئی شخص ایک مذہب اختیار کرتا ہے تو وہ ایک کمیونٹی کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اختیار کیے گئے مذہب کے قوائد و ضوابط کی پابندی کرے گا۔ اب اگر وہ شخص بالفرض مسلمان ہے اور کسی ایسی ریاست میں رہتا ہے جہاں اکثریت غیر مسلم ہیں تو وہاں اس کو اسلام کے بنیادی اعمال و عقائد کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ان تمام قوانین کی بھی پاسداری کرنا ہوگی جن سے اس کے مذہب پر کوئی فرق نا پڑے۔ کبھی آپ نے نہی سنا ہوگا کہ فلاں سیکیولر ملک میں مسلمان ہم جنس پرستی کے قانون کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے ہوں۔
یا کبھی ایسا نہی سنا کہ کسی سیکیولر ملک مین مسلمانوں نے شراب خانوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی سیدھی سہ وجہ ہے کہ یہ قوانین اس ملک کی اکثریتی آبادی نے اپنے سماج کی اکثریت کے لیے چنا ہے۔ اگرچہ اسی سماج سے ان کے ہم مذہب یا یوں کہیے ہم نظریہ لوگ بھی ایسے قوانین کے خلاف ہیں لیکن اس کے لیے کسی مسلم کیونٹی نے دخل اندازی نہی دی۔
اسی طرح ایک مسلمان جب ایک ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور اسلامی قوانین کا اطلاق ہے تو اس صورت میں بھی اسے اسلام کے بنیادی عقائد و اعمال کے ساتھ ساتھ اس سوشل کونٹریکٹ کی پاسداری کرنا ہے جو آئین کی صورت میں موجود ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو یہاں سیکیولر سوچ اس بات پر پریشان ہے کہ آئین مسلمان کی تعریف کیوں کرتا ہے۔ یہ کیوں کہتا ہے کہ مسلمان ایسا شخص ہے جو اللہ کی وحدانہت اور اس کے خالق و مالک ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری رسول مانے۔
حالانکہ سیکیولرازم کو تو مذہب سے سروکار ہی نہی ہونا چاہیے۔ اس کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلامی قوانین کا اطلاق مسلمانوں پر ہوتا ہے یا غیر مسلموں کو بھی ان کا پابند کیا گیا ہے۔ ہر گز نہی، کسی غیر مسلم پر ایسی کوئی پابندی نہی کہ وہ ان قوانین کی پابندی کرے جو اسلام نے مسلمانوں کے لیے لازم کیے۔ سیکیولرازم کے حامی ہندوستان کی مثال ہر جگہ دہتے ہیں کہ دیکھیں جی مسلمان وہاں سیکیولرازم کی حمایت کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں مخالفت۔
یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ مسلمان پاکستان میں جس طرح غیر مسلموں کو حقوق دیتے ہیں ویسے ہی ہندوستان میں اپنے مذہبی، سیاسی و معاشی حقوق چاہتے ہیں۔ جس طرح ہمارے تعلیمی اداروں اور شہروں میں ہولی منائی جاتی ہے ہندوستان میں ایسے عید قربان کا سوچ بھی نہی سکتے۔ عید تو چھوڑیے وہاں تو گاؤ رکھشک سرعام مسلمانوں کو ذبح کردیتے ہیں اور قانون سیکیولرازم آنکھوں پر لپیٹے سویا رہتا ہے۔
بات ہورہی تھی سوشل کونٹریکٹ اور آئین کی تو پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایک ضابطہ ضرور ہے جو ملک کی تمام آبادی پر نافذ ہوتا ہے۔ آزادی اظہار کی آڑ میں کسی بھی فرد کو ایسی اجازت نہی جو انتشار کا باعث ہو۔ اور یہ کچھ غلط بھی نہی۔ ایک طرف تو آئین کی حرمت کی بات کی جاتی ہے حالانکہ آئین اس ملک کے جاگیرداروں اور وڈیروں نے بنایا ہے جن میں سے اکثر کو تو آئین کے نون کے نقطے کا مفہوم بھی نہی پتا ہوگا۔
دوسری طرف اس بات کی اجازت کیسے مل جائے کہ کوئی شخص اس ملک کی اکثریت آبادی کے مذہبی شعائر پہ مذاق کرے۔ کوئی شخص اسلام کو حق نہی مانتا تو وہ نا مانے لیکن کیا یہ امر خلاف عقل و فہم نہی کہ اپنی سوچ کے زیراثر اکثریت کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔ مہذب اقوام ایسا کرنے کی کبھی اجازت نہی دیتی۔ رہی بات یہ کہ ریاست اس میں مداخلت کیوں کرتی ہے تو ایک بات بتائیے کہ ایسے معاملات جو تخریب کا سبب ہوں ان کا سدباب کس نے کرنا ہے؟ اگر ریاست نے نہی کرنا تو کیا یہ خون ریزی کا سبب نہی ہوگا؟ لوگ تشدد کی طرف اسی وقت آتے ہیں جب انہیں لگے کہ انصاف ان کی پہنچ سے دور ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

