سیکیولرازم یا اسلام : مکالمے پر تبصرہ

یہ بات صاف ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہی ہے لیکن جب فرد ایک سماج کے ساتھ جڑتا ہے تو سماج کے ساتھ قائم معاہدے کی پاسداری بھی اس پر فرض ہوجاتی ہے۔ سماج کا اجتماعی شعور ہی قوانین کی تشریح ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں کی آبادی نے اسے اسلامی جمہوریہ ہی بنایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس بات کو آئین میں بہت بعد میں تسلیم کیا گیا لیکن تحریک پاکستان نے اس کے خد و خال واضح کردیے تھے کہ اس خطے کے جن مسلمانوں کو رہنے کے لیے ایک علیحدہ اسلامی ریاست چاہیے تھی انہوں نے ایک جمہوری عمل سے اس کا حصول ممکن بنایا۔
اب کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے تو وہ اس سماج کو اس کے شعوری اور جمہوری حق سے محروم کرنے کی سوچتا ہے۔ اس کے برعکس جب سیکیولرازم کو دیکھتے ہیں تو وہ اقدار جو انسانیت سے متعلق ہیں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان عوام کو فراہم کرتا ہے۔ یہاں عمومی حالات میں مندر بھی محفوظ ہیں اور گرجے بھی۔ ہمارے ساتھ تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، کام کرتے ہیں۔ تجارت، صنعت و حرفت اور ملازمت میں ہم اکٹھے ہیں۔ اگر یہ بات کی جائے کہ کسی خاص محرک کے زیر اثر کہیں کسی عبادت گاہ کا نقصان ہوا ہے تو کیا مساجد محفوظ ہیں؟ انتشار و دہشت گردی نے کس طبقہ کو بخشا ہے؟ بلاتخصیص نسل و مذہب سبھی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب مخصوص محرک کے زیر اثر ہوا ہے۔ ایسا نہی کہ ایسے محرکات کو کوئی قانونی جواز مہیا کیا گیا ہے بلکہ ایسے عناصر کو سزائیں دی جاتی ہیں جو کسی بھی قسم کا انتشار پیدا کرتے ہیں۔
معاملات تب بگڑتے ہیں جب سیکیولرازم ایسی سوچ کو اس معاشرے میں پروان چڑھانا چاہے جو نا تو اس آریائی خطے کی سماجی نفسیات کو قبول ہے اور نہ ہی اس ملک کی اکثریتی آبادی کی مذہبی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اگر کوئی شخص مسلمان نہی ہے تو وہ چاردیواری میں وہ سب کچھ کرے جس سے سماج میں خرابی نہی ہوگی، اسے اجازت ہے لیکن ایک مسلمان کو ایسا کرنے کی اجازت نہی جو اس کے مذہب کے خلاف ہو۔ ایسا کرتا ہے تو اس کے لیے ایک تعذیری نظام قائم ہے۔
یہ اس لہے نہی کہ اس کا ذاتی فعل تھا اور گناہ کیا تو اس کو سزا دی جائے بلکہ ایسے افعال پر سزا دی جاتی ہے جن سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ سیکیولرازم اس ضمن مین منفی کردار ادا کرتا ہے۔ سیکیولرازم ناپختہ اذہان کو بات کرنے کی ایسی آزادی دیتا ہے کہ کم فہم لیکن اپنے تئیں ارسطو بنے پھرتے کل کے چھوکرے مذہب پر تنقید کے چکر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی شان میں گستاخی کر بیٹھتے ہیں۔ انہیں اپنی رائے کے اظہار کا تو پتا ہے لیکن یہ نہی پتا کہ بقائے باہمی کے اصول کیا ہیں۔ انہیں باہمی احترام کا شعور نہی۔ نیا نیا سیکیولر پن اور سماج کی حرکیات و نفسیات سے لاعلمی ان سے ایسی غلطیاں سرزد کرواتی ہے جو کہ قابل تعذیر ہیں۔
آج یہ اظہار رائے کے چکر مین سماج کی نفسیات سے کھیل رہے ہیں کل کو ان کا دل کرے کہ انسان تو بے لباس پیدا ہوتا ہے تو کیوں نا ایسے ہی پھرا جائے اور ایک طبقہ دنیا میں گھوم بھی رہا ہے کسی ملک میں۔ تو بتائیں کہ ایسا کرنے کی اجازت بھی دیدی جائے پھر تو۔ ہے تو یہ بھی فرد جا ذاتی معاملہ۔ اسی طرح جب میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگیں اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کی بات اس پلیٹ فارم سے کی جائے جسے سیکیولر حلقے استعمال کرتے ہیں تو خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ایسا نہی کہ یہ جرائم اس معاشرے میں ناپید ہوں، ہوتا ہے یہ سب لیکن اسے جرم سمجھا جاتا ہے اور لوگ جرائم کو پردے کے پیچھے کرتے بھی ڈرتے ہیں۔ سیکیولرازم شخصی آزادی کی آڑ میں ان جرائم کو قانونی رعایت بلکہ حق دلوانے کی سعی کا ہی نام ہے۔ سیکیولرازم انسانیت کو جنگل راج کی طرف لے جانا چاہتی ہے جہاں جس کا جو کرنے کو دل چاہے کرے۔ ایسا تو اس دنیا میں ناممکن ہے۔ معاشرے بقائے باہمی کے اصول پر کاربند ہیں اور بقائے باہمی کا مطلب قطعاً انفرادیت نہی ہے۔
انفرادیت اجتماعیت کی ضد ہے۔ شعور ہمیں سوچ کی انفرادیت تو دیتا ہے لیکن یہ کہیں نہی کہتا کہ اپنی اس انفرادیت کو دوسروں پر بھی تھونپ دیا جائے۔ بات وہی ہے کہ اگر کسی کو اللہ کے رب ہونے پر اور انبیاء کرام کو اس کی طرف سے مبعوث ہونے پر ایمان نہی تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ جس طرح ماننے والے نا ماننے والوں کو خنجر کی نوک پہ نہی منواسکتے ایسے ہی نا ماننے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ماننے والوں کی دل آذاری حق اظہار رائے کی آڑ میں نہ کریں۔
ایسا کرنے کی صورت میں ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو جب وہ پوری کرتی ہے تو سیکیولرازم کو ناگوار گزرتا ہے اور جب ریاست اس سے پہلو تہی برتے اور فرد یا افرد جذبات کے زیر اثر بالکل ویسے ہی غیر قانونی طریقوں سے اظہار رائے کا جواب اظہار رائے یا عمل حق استعمال کرتے ہوئے دیں تو بھی تشدد جنم لیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سیکیولر حلقے اس اظہار رائے کے حق پر کوئی تعمیری سوچ پیدا کرلیں تو بہت سے معاملات حل ہوجاتے ہیں۔ رہی بات کسی کے ملحد ہونے یا نا ہونے کی تو وہ واقعی اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ بس اتنا خیال رہے کہ ملحد اپنے نظریات کو اپنے تک رکھے، دوسروں کی دل آزاری نہ کرے۔

