لوگ، لفظ اور انا


فوزیہ کی محلے کے ہر گھر میں آمدورفت پہ پابندی۔
اس کے گانے سننے پہ پابندی۔
غیرملکی چینلز دیکھنے پہ پابندی۔
باہر گھومنے پھرنے پر پابندی۔
بغیر دوپٹے یا چادر گھر سے جھانکنے سے پابندی۔
فیشن ایبل کپڑوں پہ پابندی۔
اور بھی نہ جانے کتنی چھوٹی، بڑی پابندیاں۔

میں نے بمشکل تمام انہیں یقین دلایا کہ فوزیہ اب امتیاز صاحب کی بیوی کے پاس نہیں جائے گی نہ ہی اسے حقوق نسواں ٹائپ کہانیاں سُناکر گمراہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ کُرید کُرید کر سوالات تو کیا۔ اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کے خلاف کچھ کہے گی بھی تو فوزیہ اپنے کان بند کرلے گی۔ اور یہ بھی کہ۔ ”طلاق“ کا مکروہ لفظ کسی بھی طور محلے کی کسی بھی عورت کی زبان سے ادا ہوگا تو بغیر کسی تحقیق کے مکمل ذمہ داری فوزیہ پہ عائد ہوگی۔

اور۔ جب آنکھیں دکھاتے، لفظوں کے نشتر چلاتے، سب لوگ واپس ہوئے تو میں وہیں صوفے پہ لیٹ گیا۔ اور ماوٴف ذہن کو سنبھالنے لگا ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے میں بھیگا۔ میں بڑی نقاہت محسوس کر رہا تھا کہ۔ سرخ چہرہ لیے فوزیہ برآمد ہوئی۔

مجھے اندازہ کرنے میں ذرا دیر نہیں ہوئی کہ وہ اندر والے دروازے کے باہر کان لگائے سب سن رہی تھی۔
”کتنے بدمعاش ہیں اس محلے کے لوگ حرامی کہیں کے، لچے، لفنگے، سالے، الوکے پٹھے، مردود۔ کتے کے بچے۔ “

یہ حیرت انگیز انکشاف میرے لیے ایک اور بڑا شاک تھا کہ فوزی گالیاں دینے میں اتنی مہارت رکھتی ہے اور اتنی روانی سے بے دریغ ان کا استعمال کرسکتی ہے۔
میں مزید گھبرا اٹھا اور ذہن نے فوراً مجھ سے سوال کیا ”کیا اس کی اصل زبان یہی ہے؟ “

میں خود سے بھی سوال جواب کی پوزیشن میں نہیں تھا کجا کہ جواب طلبی یا وضاحت جیسے مشکل عمل سے گزرتا۔

مگر فوزیہ جس نے نہ معلوم کیسے الفاظ منہ میں بند کر رکھے تھے برس پڑی۔ تمہیں معلوم ہے امتیاز کی بیوی کتنی مظلوم ہے ارے وہ کمینہ، روز اس کو ٹارچر کرتا ہے نہ کہیں آنے، جانے دیتا ہے، نہ کسی سے ملنے دیتا ہے اور تو اور وہ ایک اس کا کزن ہے بیچاری کا، جو نوکری کے سلسلے میں چھ مہینے ان کے گھر آکر رہا تھا اس قدر شک کرتا ہے کہ حد نہیں۔ کہتا ہے اگر کبھی اس سے بات کرتے دیکھا تو طلاق دے دوں گا۔ نہ خرچہ دیتا ہے نہ ہی عزت۔ اور طلاق، طلاق، کی دھمکی علیحدہ۔ بے غیرت، ذلیل کہیں کا۔ وہ خود سلائی کرکے اپنی گزراوقات کرتی ہے۔

لیکن بھئی یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔

”ہاں ہے تو۔ مگر وہ غریب اس طرح رو رو کر بتا رہی تھی کہ مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے سمجھایا کہ جب تم کام کرتی ہو، اپنا خرچہ بھی خود اٹھاتی ہو اور اس جانور کی خدمت بھی کرتی ہو تو پھر تم آخر اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ “

”لیکن تمہیں یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی، اس نے تو ایک ایک لفظ اپنے شوہر کو بمع مرچ، مصالحہ بتا دیا۔ یہ عورتیں خود بھی تو مظلوم بننے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ جھوٹی سچی ہمدردی حاصل کرکے انہیں تسکین ہوتی ہے اب دیکھو بدنام ہوگئے نہ ہم لوگ۔

اس میں بدنامی کی کیا بات ہے؟

فوزیہ ہٹ دھرمی پہ اُتری ہوئی تھی اور میں شرمسار اور غصے کے احساس سے بھرا۔ تھکن نے منتشر ذہن کو بری طرح خیالوں کی آماجگاہ بنا ڈالا میرا نڈھال وجود، ان پے درپے ہونے والے واقعات پہ غور کرنے کے قابل نہیں تھا سوجسم اور ذہن دونوں کی کشمکش میں، خود کو پارہ پارہ ہوتے محسوس کرنے لگا۔

نئی نویلی دلہن کو سخت لفظ کہنا بھی برا تھا، مجھے فوزیہ کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہیں تھی مگر اندازہ ضرور تھا اس نے فلاسفی میں ماسٹرز کیا تھا۔ کہیں کہیں چھوٹے موٹے آرٹیکلز بھی لکھتی رہی ہے۔ کالج کے زمانے میں اپنے کالج سے نکلنے والے ”مجلہ“ کی ایڈیٹر بھی رہ چکی تھی۔ اس کے علاوہ میں نے جب بھی کسی موضوع پہ اظہار خیال کیا مجھے اس کی ذہانت اور معلومات کے بارے میں جان کر دبی دبی مسرت ہوئی۔ کئی مبہم چیزوں کے بارے میں وہ بڑا صاف واضح اور جدید نکتہ نظر رکھتی تھی۔

”دراصل میری بڑی بہن نے اسے پسند کیا تھا اور کہا تھا تمہاری سروس کی نوعیت ایسی ہے کہ تمہیں کسی سمجھدار، پڑھی لکھی اور تیز لڑکی کی ضرورت ہے۔ جو کہ تنہا بھی حالات کا مقابلہ کر سکے۔ “

مگر۔ ۔ ۔ میں نے آنکھیں موندے موندے سوچا، کچھ زیادہ ہی سمجھدار لڑکی سے واسطہ پڑ گیا ہے۔
اگلے دن سے ہی سمجھو کہ میرے اور فو زیہ کے درمیان چھوٹی چھوٹی تکراریں معمول بن گئیں۔

یہ کرو، یہ نہ کرو، یہاں جاوٴ، وہاں نہ جاوٴ
یہ پہنو، یہ اوڑھو۔ یہ لباس بے ڈھنگا ہے۔
نوکر کے بجائے خود کوکنگ کرو ٹیپ ریکارڈر کی آواز کم رکھو ڈش پر صرف چند پروگرام دیکھو اور بھی لوگ دیکھتے ہیں آخر۔
اور ہر بار فوزیہ تنک کر جوابات دیتی رہی۔

”میں لطیف اسرار والوں کے پاس نہیں جاوٴں گی بے تکے نان سنس لو گ جنہیں کسی سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔ میں باورچی خانے میں کام نہیں کر سکتی، مجھے ایک دم خارش شروع ہو جاتی ہے۔ میں اپنی مرضی کے پروگرام کیوں نہ دیکھوں، محلے والے اپنا ٹی وی آف کردیں۔ کمال گلی سڑی سبزی لاتا ہے۔ ٹیپ ریکارڈر آہستہ سننے سے میرے سرمیں درد ہوتا ہے۔ مسز کرمانی کو خواہ مخواہ بدنام کررکھاہے سب نے۔ She is so nice مجھے لمبے چوڑے دوپٹے زہر لگتے ہیں دوپٹہ سرپہ لینے سے بال خراب ہوتے ہیں۔ ٹی شرٹ بہت آرام دہ ہے۔ میں کسی کی پروا نہیں کر سکتی۔ “

ہر روز صبح کے اخبار کی طرح ایک عدد جھڑپ لازمی ہوگئی تھی بعض اوقات تویہ بھی ہوتا کہ میں خودکسی پروگرام سے لطف لے رہا ہوتا کہ اچانک کسی جذباتی سین کو دیکھ کر تھرا اُٹھتا خوف کی گھنٹیاں میرے ذہن میں بج اٹھتیں اور میں فوراً ”محلے والے کیا کہیں گے۔ “ کے فوبیا میں گرفتار ہوجاتا۔

فوزیہ پہ جھنجھلاہٹ کا شدید دورہ پڑتا اور پھر موڈ آف ہوجاتا کئی کئی دن تک یہ ہوتا رہتا۔

فوزیہ سکون سے ٹہلتی ہوتی اور کسی نہ کسی بات پہ اس کا زوردار قہقہہ گونج اٹھتا۔ میری سٹی گم ہو جاتی اس قہقہے کی خوبصورتی اور کھنکھناہٹ کسی بھاڑ میں جلنے لگ جاتی اور مجھے محسوس ہوتا، گویا دیواروں میں لاوٴڈ اسپیکر نصب ہیں جن میں دیر تک اور دور تک بازگشت پھیل گئی ہے۔

میں شعوری طور پر مزاح یا ہنسی مذاق سے پرہیز کرنے لگ گیا تھا۔

میں فوزیہ کے ذوق وپسند کی دل ہی دل میں داد دیتا جب وہ کسی انوکھے اور منفرد رنگ کے جدید تراش خراش کے لباس میں مسکراتی مسکراتی نمودار ہوتی۔ میرے اندر کہکشاں کے نقرئی رنگ لہرانے لگتے۔ میں اس کے سراپے میں چھپی نسوانیت، دلکشی اور چمکتی آنکھوں اور گلابی رنگوں کے سحر میں کھوسا جاتا۔ اور جب وہ میرے قریب آتی۔ اسے چھوتے ہی مجھے خوف سا لگ جاتا۔ بڑی مشکلوں سے آنکھوں میں بسے جادو اور لبوں پہ کھلتے کنول اس سے چھپا پاتا اور مصنوعی خول سا خود پہ چڑھا کر پوچھتا۔

”اس لباس کی آستینیں کیوں نہیں ہیں؟
یا یہ کہ اس لباس کے ساتھ دوپٹہ کیوں نہیں بنوایا؟
یا یہ کہ اس قمیص کا گلا مجھے فحش معلوم ہورہا ہے؟ ”

یہ مکالمات فوزیہ کو سلگا دیتے اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی خود پہ کنٹرول نہیں کر سکتا تھا۔ ابتدائی چند دنوں میں جس رومانس کاتصور وابستہ ہے وہ خوف اورپڑوسیوں کی نظروں کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔

فوزیہ کے چہرے پہ وہ پہلے والی رونق، شگفتگی اور دلکشی نظر نہ آتی تھی۔ چنچل پن، خوش مزاجی، دلربائی، جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی، اب کہیں گم ہو چکی تھی میں نے کئی بار اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی کی کاٹ اپنے اندر تک محسوس کی۔ بستر میں دیر تک اس کا ہلنا اور ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں مجھے تڑپانے لگیں۔ ہر شے میں عدم دلچسپی نے اس کی شخصیت کو کمہلا سا دیا تھا۔

میں محسوس کر رہا تھا کہ میرے خیالات فرسودہ ہوتے جارہے ہیں، محلے والوں کے نظریات مجھ پر حاوی ہورہے ہیں۔ میں بہت ڈرنے لگا۔ اڑوس پڑوس سے الگ، اپنی بیوی سے الگ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3