لوگ، لفظ اور انا
دونوں ہی میرے کنٹرول سے باہر کی چیز ہیں۔
باہر محلے یا گلی میں آکر کوئی اپنا گلا صاف کرنے کے لیے بھی کھنکھارتا تو مجھے یوں محسوس ہوتا گویا مجھ پر طنز ہورہا ہے۔ لوگوں کو سلام کرنے کی شرح میں اضافہ ہوگیا تھا اور جواب دینے میں روانی آ گئی تھی۔
پریشانی، خوف فرسٹریشن یا ڈپریشن نے مستقلاً ذہن میں ڈیرہ ڈال لیا۔ ہر بات میں دو یا تین آراء بننے لگیں۔
اگر، مگر، یا، ایسے، ویسے، پھر، لیکن۔ جیسے الفاظ میرے تالوسے چپک گئے۔
”اچھا تو ہے مگر لوگ۔
پہن لومگر لوگ۔ ۔ ۔
چلیں مگر لوگ۔ ۔ ۔
واک کرنا برا نہیں مگر لوگ۔ ۔ ۔
فیصل تمہارا بھائی ہے، تم اس کے ساتھ کہیں بھی جاسکتی ہو مگر لوگ۔ ۔ ۔ ”
لوگ۔ لوگ۔ بھیانک بھیانک لوگ، ماسک چڑھا کر۔ بھوت بن کر میرے اعصاب کو نوچنے اور کھانے لگ گئے بدبخت۔
فوزیہ الگ اپنی اناکی دیوار بنا کر کھڑی ہو گئی۔
اب جب کہ جذبوں کے بہت سے دریا، اتر کر خشک ہو چکے۔ مجھے اپنی غلطی بھی نظر آنے لگی ہے ورنہ اس وقت تو میں صرف یہی سوچتا رہتا تھا کہ ان ہی لوگوں میں، انہی رسوم ورواجوں کے مطابق، اسی تنخواہ میں، اسی گھر میں گزارا کرنا ہے تو پھر کیوں نہ یہ چھوٹے چھوٹے سمجھوتے کرلیں اور زندگی کو سہہ جائیں بس اسی منطق نے ہمارے درمیان روابط کی تمام ڈوریوں کو الجھا کر رکھ دیا۔
”سمجھوتہ، سمجھوتہ۔ “ فوزیہ، بپھر گئی تھی۔
”ایک کے بعد دوسرا سمجھوتہ، دوسرے کے بعد تیسرا۔ زندگی سہنے کانام نہیں ہے۔ خوبصورتی سے گزارنے کا نام ہے ان فضول، جاہل، بوسیدہ، فرسودہ رویوں پہ سمجھوتہ۔ ناممکن۔ ناممکن۔ “ یہ فوزیہ کا فیصلہ تھا۔
میں اس ناممکن کو ممکن کرنا چاہتا تھا۔ اور وہ کیا چاہتی تھی؟
اب جب ریشنل سوچ کی اوٹ میں بیٹھا ہوں تو سمجھ آیا۔
وہ تو کچھ بھی نہیں چاہتی تھی۔ بس اپنا آپ برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ کچھ کتابوں کے ذخیرے سے سیکھی ہوئی باتیں اور اصول اپنانا چاہتی تھی۔ زندگی کے ساتھ عزم سے، پامردی سے چلنا چاہتی تھی اور بس واقعی۔ بس اتنا ہی ہے۔
میں نے اسے کتنی بھیانک سزاسے دوچار کر دیا۔
اس نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں اور پر نم آنکھوں سے اٹیچی کیس تیار کیا اور بولی ”میں جا رہی ہوں۔ “
”شوق سے جاوٴ۔ “ میرا جواب تھا۔
”مجھے روک لو میں گئی تو پلٹ کر نہیں آوٴں گی۔ خواہ مجھے پچھتانا ہی پڑے۔ “
”تمہاری مرضی ہے۔ (میں نے شانے اچکائے ) جانا چاہتی ہوتو جاوٴ اور رکنا چاہتی ہو تو رکو۔ اور باقی رہی بات پچھتانے کی تو پچھتانا تو تم جیسی خود سر اور ڈھیٹ عورتوں کا مقدر ہے۔ “
وہ چلی گئی پیپرویٹ کے نیچے ایک پیپر چھوڑ گئی جس میں الماری میں موجود زیورات کی تفصیل تھی جو ہم نے اسے شادی میں دیے تھے اور کپڑے وغیرہ۔ سب چھوڑ گئی۔
اس کا اپنا نیا نکور جہیز کا سامان۔ سب یہیں رہ گیا۔ بغیر کسی تقاضے کے۔ چلی گئی۔
میں نے اسے بھولنے کی بہت کوشش کی شعوری ولاشعوری طور پر۔ اور اس کا نتیجہ روزانہ خواب میں اسے دیکھنے کی صورت میں برآمد ہوا۔ مگر میری اناکی دیوار اتنی مضبوط تھی کہ ہر جذباتی لمحے کی کاری سے کاری ضرب سہہ گئی۔
نہ جانے کتنی تبدیلیوں کے جھکڑ زندگی کو یہاں سے وہاں پٹختے رہے اور میں مطمئن ہونے کی سع ئی ناکام کرتا رہا۔ میں تمام کوششیں کرتا رہا ہنسنے کی، مسکرانے کی، خود کو نار مل پوز کرنے کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اب میرے ساتھ ادب، فلسفے، آرٹ فلموں اور معاشرتی مسائل پہ گفتگو کرنے والا۔ کوئی نہیں رہا تھا۔ مہنگائی کے اس دور میں دوستوں کو دعوت دے کر رات بھر کچہری کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔
میرے کپڑے بے ترتیب ہونے لگے۔
مجھے ویل ڈریسڈ سمجھنے والے لوگ مجھے غور سے دیکھنے لگ گئے تھے۔
میرے بال سفید ہو کر کن پٹیوں پہ پھیل گئے تھے۔
ہر گزرتا دن، میرے کاندھوں پر ایک نئے اور وزنی پتھر کا بوجھ لاد رہا تھا۔
کتنے ہی دن میری انا میری بے بسی اور میری تنہائی پہ روتے روتے گزر گئے۔ انہیں اعداد وشمار کیا کروں۔ پرانے کیلنڈر اور ڈائری کے اوراق گاہے بگاہے گزرتے وقت اور کہیں کچھ نہ کچھ کھونے کا احساس دلاتے رہے۔
میرے سان وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایک اجنبی دن، (جس دن مجھے زندگی زہر اور اپنا آپ نہایت بدشکل دکھائی دے رہاتھا) مجھے ایسا کچھ دیکھنا پڑے گا۔ میں کال بیل کی آواز پہ بھناتا ہوا باہر نکلا اور لمحہ بھر کے لیے رگوں میں دوڑتا خون تھم گیا۔
وہ کھڑی تھی۔ پیڑی زدہ ہونٹ، بے خوابی کے درد سے بوجھل آنکھیں، ناتراشیدہ، بکھرے بال، ہاتھ میں اٹیچی اور کاندھے پہ بیگ ڈالے، ویران ویران۔
مجھے خود پہ یقین نہیں آیا۔
پورے 10 سال سے بھی زیادہ۔ جب میں اس کی شکل تک بھول چکا تھا۔ اب واپس آئی ہے اور یوں آئی ہے گویا ابھی ابھی گئی تھی۔
جب کہ۔ میں۔ اس کا چھوڑا ہوا ہر خلا پُر کر چکا تھا۔ میرا بسترخالی نہ تھا میرے کپڑے، میرے رومال، میرے موزے، میرے انڈروئیر، شیونگ کا سامان پرفیومز سب اپنی جگہ پر تھے۔ مجھے اس کی کمی کیسے محسوس ہوتی؟
کمی؟
کمی تو کہیں گہرے سائے کی طرح دل کے اندر پیوست تھی۔
مجھے کیسے محسوس ہوتی؟
کچھ بھی تو خالی نہ تھا۔
اس کا اپنا خالی وارڈ روب ہر قسم کے زنانہ کپڑوں سے پُرتھا۔
میک اپ کا سامان ڈریسنگ ٹیبل پہ تھا۔
سارا گھر مختلف قسم کی اشیاء وسازوسامان سے سجا ہوا تھا۔
اور۔ ۔ ۔
اور ایک شکل بھی تھی۔
اس سے ذرا مختلف (مگر اندھیرے میں تو سب ایک سی لگتی ہیں )
وہ آئی۔ سامنے کھڑی تھی۔ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی، گم سم۔
میرے ذہن نے ماضی کے طویل سالوں کو ایک دم پیچھے دھکیل دیا۔ اور کسی ان دیکھی قوت کے ”نہ“ ”نہ“ کرنے کے باوجود۔ میں اس پر برس پڑا۔
”اب کیا لینے آئی ہو؟
مل گیا انجام اپنی ضد اور ہٹ دھری کا۔
یہاں تمہارا کیا ہے اب؟
کس رشتہ کے تحت آئی ہو تم یہاں؟ ”اور دروازہ دھڑام سے بند کر دیا۔
جھوٹ نہیں ہے بالکل سچ ہے اندر آکر بہت تڑپا میں۔ مدتوں سے خشک آنکھوں کے راستے سیراب ہونے لگے۔ مجھے اس کے ٹوٹے ہوئے سپنوں کی کرچیاں میرے وجود میں دکھائی دینے لگیں۔ اس کی چھوٹی سی غلطی کے جواب میں میں نے اسے معاشرے کی بے درد سولی پہ لٹکا دیا۔
”لیکن۔ “ میں مرد ہوں۔
میں صحیح مشورے اور فیصلہ دینے والا۔ عاقل وبالغ شخص تھا۔
”مگر“ وہ بیوی تھی محبوبہ تو نہیں۔
اس ”لیکن“ اور ”مگر“ کے درمیان، میں پھیریاں لینے لگا۔ لیکن ”آگ“ تھا۔
مگر ”پانی۔ ۔ ۔“
دونوں کے درمیان فیصلہ نہ ہو سکا اور صبح کے ملگجے اجالے میں۔ ان خونخوار اور قاتل الفاظ سے پیچھا چھڑا کر باہر کی طرف لپکا۔ ذہن میں خیال ضرور تھا کہ ہوگی یہیں کہیں، کسی دیوار سے پشت لگائے ہوئے، رو رو کر ہلکان ہو گئی ہوگی۔ ہمت جواب دے گئی ہوگی نیند نے آ گھیرا ہوگا۔ ساری انا، غصہ اور عورت پنے کو دفن کر چکی ہوگی۔ خود ملامتی کا شکار ہوگی۔ بھیڑیوں سے بھری دنیا سے سخت شاکی ہوگی اور۔ مجھ سے تمام کردہ وناکردہ گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے بے قرار۔ مگر!
باہر ملگجا اُجالا، سائیں سائیں کرتی َہوا، اِکادُکا تھکا ہوا ستارہ اورکہیں کہیں جھلملاتی اور ڈوبتی روشنیاں تھیں۔
وہ تو کہیں نہیں تھی۔
میں نے یہاں، وہاں دیکھا۔
کوئی سراغ، کوئی نشان چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔

