پیرخانہ: گدی نشینوں کی ایک کمین عورت کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج غروب ہوتے ہی ہر طرف دھندلکا چھانے لگا۔ پیڑوں کے بڑھتے ہوئے سائے اندھیر نگری کے کوٸی دیوہیکل جن معلوم پڑتے تھے۔ خاموشی گلا پھاڑ کر چیخنے لگی تھی۔ ان گنت حشرات یکلخت فضا میں چھاٸی اداسی پر ماتم کرنے لگے۔ چند برس قبل پیر شہاب الدّین نے اپنے سگے بھاٸی کو گدّی کے راستے سے ہٹانے کے لٸیے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ دربار پر تالے پڑے رہے۔ خوف اور سناٹا کچھ دن چھایا رہا۔ درسگاہ بھی بند رہی۔ کچھ دن تک پولیس گاٶں کے چکر لگاتی رہی۔ مریدوں کا دیا تو بہت تھا اور یوں بھی آستانہ کبھی خالی نہیں پڑتا تھا۔ ایک دن پیر شہاب الدّین نے پولیس کو بھی خرید لیا تھا۔

اس دن سے گاٶں میں پیر شہاب الدین کا راج تھا۔ کسی کی مجال جو گدی نشیں کے سامنے گردن اٹھائے۔ گاٶں والوں کو ورغلائے۔ یہ تو کفر کے برابر تھا۔ پیر شہاب الدین نے قبضہ گروپوں کی مدد سے ایسے تمام پنڈ واسیوں کی زمین ہتھیا رکھی تھی جو کسی قسم کا اثرو رسوخ نہیں رکھتے تھے۔ جو مزاحمت کرتا اُسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ اگلا ٹارگٹ ڈاکٹر اسلم تھا۔ قرب و جوار کے گاٶں سے بھی لوگ ڈاکٹر اسلم کے پاس آتے۔ ڈاکٹر اسلم کا نام ہی ڈاکٹر ڈاکٹر پڑ گیا تھا۔ کچھ تجربہ کچھ ذہانت۔ کچھ اچھے ڈاکٹروں کی صحبت۔ گاٶں میں کوٸی پڑھا لکھا ڈاکٹر تو تھا نہیں۔ ڈاکٹر اسلم کا کاروبار چل نکلا تھا۔ طِب کو کاروبار بنانے کا ایسا لالچ بھی اُسے کہاں تھا۔ وہ تو ڈاکٹر ہوئے بنا سچ مچ کا مسیحا تھا۔ ان غریبوں کے لٸیے وہ پورا ڈاکٹر تھا۔ جس غریب کے گھر میں چولہا نہیں جلتا اوپر سے بیماری نے آ لیا۔ ڈاکٹر اسلم ایسے مریضوں سے پیسے نہ لیتا۔ آدھا مرض تو اسکی میٹھی باتوں سے جاتا رہتا۔ حالات کے مارے ہوٶں کے لٸیے یہ بڑی دولت تھی۔ ڈاکٹر اسلم نے مزاحمت کرنے کی جرأت کی تھی۔ نہ صرف زمین چھوڑنے سے انکاری تھا اس کا جرم بہت بڑا تھا۔ گاٶں والوں کو باغی کرنے کا جُرم۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا جرم۔ اس جرم کی سزا دیر یا سویراُسے کاٹنی تھی۔

ایک کفر نازو جیسی کمین عورت نے بھی کرڈالا تھا جو گدی نشیں سے جسم سانجھا کرتے خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھی کہ اب وہ ذات کی کمین نہیں رہے گی۔ اس کی برابری گدی نشینوں سے ہوگی۔ حجرے کے باقی مرد ملازم جب اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کرتے تو وہ غرور سے ان کا ہاتھ جھٹک دیتی۔ کہ وہ تو پیر کی رکھ ہے کسی ملازم کی کیا جرأت جو اس کی برابری کرنے کا سوچے بھی۔

نازو کا غرور دن بدن بڑھتا گیا۔ پیر شہاب الدّین اور نازو کے ناجاٸز تعلق کے قصّے پورے گاٶں میں مشہور ہونے لگے۔ آستانہ پاک تھا۔ حجرے کے صحن میں کسی کو جوتیوں سمیت قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ آستانے کی طرف پیٹھ کرنا بےادبی تھی۔ ملازموں اور مریدان کو الٹے قدموں واپس لوٹنا پڑتا۔ نازو جب شام کے بعد کمرہِٕ خاص میں داخل ہوتی تو پیر شہاب الدین حسبِ معمول کمرے کا تالا لگا کر چابی نازو کی نظروں سے اوجھل کر دیا کرتا۔ پیر شہاب الدّین کی تین بیویوں میں سے کوٸی بھی گدی کا وارث پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ برابری کا بیج بونے والی نازو اس دن سے پیر شہاب الدّین کے دل پر راج کر رہی تھی جس دن سے پیر شہاب الدین نے اس کی شاخ جیسی کمر پر نظر رکھی تھی۔ نازو کا بدن ندی کے پانی میں ایسے ڈوبتا جیسے سورج دور پانیوں میں غروب ہورہا ہو۔

پیر شہاب الدین نازو کے خوابوں کی دنیا سے بالکل بے خبر تھا کہ ایک دن نازو نے پیر شہاب الدین کی یاقوتی انگشتوں کو اپنے شکم پر پھیرتے ہوئے ایک ایسا سچ اُگل دیا جو پیر خانے کی بنیادیں ہلا دینے کے لٸیے کافی تھا۔ ایک کمین عورت کے بطن میں گدی نشینوں کا وارث پل رہا تھا۔ پیر شہاب الدّین نے نازو کو چوٹی سے پکڑ کر پیچھے کی طرف گھمایا۔ نازو حواس باختہ ہو کر چلانے لگی ”تم نے کیا کہا گاٶں والوں سے؟ تم میری برابری کرو گی؟ تم پیر شہاب الدّین کی برابری کروگی؟ ذات کی کمین عورت گدی نشینوں کی برابری کرے گی؟“ پیر شہاب الدین غصیلے لہجے میں چِلّانے لگا۔ “یہ بچہ ناپاک ہے۔ یہ اس دنیا میں نہیں آ سکتا۔ یہ بوجھ ہے دھرتی کے سینے پہ۔ گناہِ کبیرہ۔ اگر تم نے اس بچے کو ختم نہ کیا تو تم سلامت رہو گی نہ یہ بچہ“

پیر شہاب الدّین کی انا کو بڑی ٹھیس لگی تھی۔ نازو کا جسم خوف سے لرزنے لگا تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اپنی ذات کی بقا اور اپنے وجود میں پلنے والی ننھی جان کو بچانے کی ترکیبیں سوچنے لگی۔ یکدم ایک خیال اُس کے دماغ سے ٹکرایا اور اس کے وجود میں خوشی کی لہر دوڑنے لگی۔ تڑکا ہونے سے پہلے وہ سیدھی ڈاکٹر اسلم کے گھر جا پہنچی اور اُسے ساری کہانی بتا دی۔ ڈاکٹر اسلم نے اس کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔ پیر شہاب الّدین تک ڈاکٹر اسلم کی لوگوں کو باغی کرنے کی خبریں پہلے بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ زمین ہتھیانے سے کہیں زیادہ ڈاکٹر اسلم کو رستے سے ہٹانا ضروری ہو چکا تھا۔ ایک اور اچھاٸی کی طاقت کو ختم کرنے کی ترکیب پیر خانے میں لڑاٸی جانے لگی۔ ”اپنا رستہ بدل لو ڈاکٹر اسلم۔ یا وقت سے پہلے گھر لوٹ جایا کرو۔ ہمیں غروبِ آفتاب کے بعد تمہیں مارنے کا حکم ہے” رات کے اندھیرے میں ایک اجنبی آواز اُس کے کانوں سے ٹکراٸی۔ ” تم خدا ترس انسان ہو۔ تم پر گولی چلانے کو دل نہیں چاہتا۔ ناحق خون ہوگا۔ “

ڈاکٹر اسلم اس واقعہ کی سوچ میں مبتلا تھا جو اس کے ساتھ کچھ لمحے پہلے پیش آیا تھا۔ ”کیا ڈاکو بھی رحم رکھتے ہیں۔ خدا ترس ہو سکتے ہیں۔“ وہ حیرت زدہ تھا۔ ڈاکٹر اسلم مزید محتاط ہو چکا تھا۔ وہ ہر قیمت پر نازو کو بچانا چاہتا تھا۔ اُس نے نازو کو ایک جاننے والے دوست ڈاکٹر کے پاس بطور ملازم بھجوا دیا۔ نازو نے گاٶں چھوڑ دیا تاکہ پیر شہاب الدّین اُس تک رساٸی حاصل نہ کر سکے۔

ڈاکٹر اسلم کو حسبِ معمول آج پھر کلینک سے دیر ہوگٸ تھی۔ راستے میں اسے کچھ نقاب پوش نامعلوم افراد نے روک لیا۔ وہ سمجھ گیا تھا یہ پیر شہاب الدّین کے آدمی تھے۔ کلاشنکوف کا رخ اس کی طرف موڑتے ہوئے مخاطب ہوئے ”فوراً ہمارے ساتھ چلو۔ تمہیں پیر شہاب الدّین نے بُلایا ہے۔ “ اُسے اسلحے کے سائے میں پیر خانے پہنچایا گیا۔ اُسے پیر شہاب الدین کے حجرے میں لے جایا گیا تھا۔

”نازو کہاں ہے؟ اُسے تم نے چھُپا رکھا ہے۔ اس کا اسقاطِ حمل ضروری ہے۔ کمین کے گھر میں گدی نشین پیدا نہیں ہو سکتا۔ “ پیر شہاب الدّین خوف اور غصّے سے ہانپنے لگا۔ پیسے سے ایسا کیا تھا جو وہ اب تک خرید نہ سکا تھا۔ مگر ڈاکٹر اسلم کو رستے سے ہٹانے میں وہ اب تک ناکام رہا تھا۔ ڈاکٹر اسلم ایک چٹان کی طرح پیر شہاب الدّین کے سامنے کھڑا تھا۔ آج ایک اور باغی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا وقت آ چُکا تھا تاکہ تا قیامت کوٸی اور فتنہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔

 رات کے پچھلے پہر چبوترے کی سیڑھیوں سے خون بہنے لگا۔ پاک حجرے میں ناپاک خون بہتا چلا گیا۔

 ”گاٶں چھوٹی سی کاٸنات ہےان زمینی خداٶں کی۔ ہم مخلوق ہیں ان زمین پر پوجے جانے والےخداٶں کی جو راج کرتے ہیں۔ یہ سلطنت ہے ان کی۔ ہم رعایا ہیں۔ جو ان کا رستہ کاٹے گا۔ کافر کہلائے گا۔ جو ان کی سوچ سے فرار کا راستہ اپنائے گا۔ غدار کہلائے گا۔ “ڈاکٹر اسلم کی باتیں گاٶں والوں کے کانوں میں گونجنے لگیں۔ مگر ابھی قدرت کا انصاف باقی تھا۔

پیر شہاب الدّین کے آدمیوں نے نازو کی تلاش جاری رکھی۔ لیکن اُنہیں کہیں نازو کا سُراغ نہ ملا۔ چھ مہینے کا عرصہ یونہی گُزر گیا۔ آخر ایک دن گاٶں میں برابری کا سُورج طلوع ہوا جو سوا نیزے پر تھا جس کی تپش سے گدی نشینوں کے چہرے جھلسنے لگے۔ نازو اپنی بانہوں میں کمین گدی نشین لٸیے واپس آ چُکی تھی۔ پیر شہاب الّدین کے حجرے کے باہر کھڑی نازو کی آنکھوں میں خُون اُترا تھا۔

“پیر شہاب الدّین! اپنے حجرے سے باہر آٶ۔ دیکھو۔ تمہارے ساتھ قدرت نے کیسا گھناٶنا مذاق کیا ہے۔ قدرت تو تمہاری طبقاتی تقسیم کے نظام کو نہیں مانتی۔ یہ مٹّی سب کی سانجھی ہے۔ یہ خون کسی نیچ کی ملاوٹ سے انکار نہیں کرتا۔ آج سے نوکر اور مالک برابر ہو گٸے۔ “ ناپاک بچہ ”پاک“ آستانے کے دامن میں رکھ کر وہ مسلسل چِلّا رہی تھی۔ ”پیر شہاب الدّین! یہ بچہ نہیں طمانچہ ہے تمہارے منہ پر اور اس تفریق کے منہ پر جو صدیوں سے ہمارا منہ چڑاتی آٸی ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “پیرخانہ: گدی نشینوں کی ایک کمین عورت کی کہانی

  • 07/01/2020 at 1:29 am
    Permalink

    This story seems to be a ”Charba“because many stories like that have been written by many Fiction writers. “ If you read “Mansha Yad Kay Afsany ” you can find plenty of examples of the story written
    above. The stories of class conflict , social injustice, class segregation, and many other themes have been taken by many urdu fiction writers such as Ahmad Nadeem Qasmi, Saadat Hassan Manto, Asmat Chugtai, Kirshan Chander, Baba Yahaya, and many more.
    The writer of the above cited story has tried to imitate Abdullah Hussain to give pictograhical image of the scenery of the village image. If you read Abdullah Hussain and Rahim Gul etc. you will find plenty of images. Overall the story lack genuineity and coherence among the incidents which are happening one after the other. The plot of the story is very loose, and the writer has lost her grip on the characters. Thematically, the story is very weakly fabricated. This sory may appeal the childish minded people but not the intellectual ones who have sound grip on literary criticism.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *