پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں عوامی تحریکوں پر ہمیں زیادہ مواد یا کتابیں اس لیے نہیں ملتیں کہ ان پر بہت کم لکھا گیا ہے۔  مطالعہ پاکستان میں پڑھائی جانے والی تاریخ زیادہ تر حکم ران طبقات اور سیاسی و سماجی طور پر بالادست مقتدرہ کے بیانیے پر مبنی ہے۔  اس کے علاوہ ہماری ستر سالہ تاریخ کے ماخذ میں سول اور فوجی افسر شاہی کی لکھی ہوئی کتابیں شامل ہیں جن میں عوامی تحاریک کا ذکر تو کجا ہمیں عوامی احساسات کی ترجمانی بھی نہیں ملتی۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی سے لے کر ڈاکٹر صفدر محمود تک اور قدرت اللہ شہاب سے لے کر روئیداد خان تک سب نے تاریخ کو ایک خاص تناظر میں پیش کیا ہے۔  اگر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مذہبی تنگ نظری کا شکار تھے تو ڈاکٹر صفدر محمود پاکستانیت کے دائرے سے نکل نہیں پاتے ان کی تحریروں میں عوامی تحریکوں کی کوئی جگہ نہیں اور اگر ہے بھی تو انہیں ایک مذہبی اور قوم پرستانہ رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔

اسی طرح سول اور فوجی افسر شاہی کے نمائندے خود کو تمام جرائم سے مبّرا قرار دیتے ہیں۔  اگر قدرت اللہ شہاب اپنے فرائض منصبی سے دیانت داری کا ڈھونگ رچاتے ہیں تو روئیداد خان خود کو ایک صاف ستھرا افسر بنا کر پیش کرتے ہیں۔  اس طرح ہمارے پاس عوامی تحریکوں کا احوال افسروں کی زبانی تو نہیں ملتا البتہ کچھ عوامی رہ نماؤں اور دانش وروں نے ضرور لکھا ہے۔

مثال کے طور پر اسلم خواجہ کی انگریزی کتاب People ’s Movements in Pakistan ایک شاندار کارنامہ ہے جس میں انہوں نے ساڑھے چھ سو صفحات میں پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کی تقریباً تمام عوامی تحریکوں کا خلاصہ پیش کیا ہے۔  بلوچستان میں چلنے والی تحریکوں سے لے کر ضیاءالحق کے خلاف سول نا فرمانی کی تحریکوں تک اور مزدور کسان تحریکوں سے لے کر ادب و فن کی تحریکوں تک اسلم خواجہ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے یہ کتاب تحریر کی ہے۔  اور کیوں نہ کرتے اس لیے کہ اسلم خواجہ خود پاکستان میں بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک کے ایک سرگرم کارکن رہے ہیں۔  انہوں نے صحافت بھی کی ہے اور درجنوں کتابوں کے تراجم بھی۔

اسی طرح ہمیں کچھ بڑے سیاستدانوں کی کتابوں میں اچھی تفصیلات مل جاتی ہیں گوکہ ان میں ان کی ذاتی سیاست کا رنگ خاصا جھلکتا ہے۔  ان سیاستدانوں میں ذوالفقار علی بھٹو اوربے نظیر بھٹو کی کتابوں سے لے کر کلثوم نواز، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی، شیر باز مزاری، غوث بخش بزنجو اور ولی خان تک درجنوں کتابیں موجود ہیں۔  اسی طرح مولانا کوثر نیازی، پروفیسر غفور احمد اور دیگر نے کئی کتابوں میں مختلف سیاسی تحریکوں کاچشم دید احوال خود اپنے نقطہ نظر سے بیان کیا ہے۔

شیخ مجیب الرحمان کی کتاب ”ادھوری یادیں“ اور جہاں آرا امام کی ”اکہتر کے وہ دن“ جس کی تدوین احمد سلیم کی ہے۔  اچھی کتابیں ہیں اور ہمیں مشرقی پاکستان کی عوامی تحریک اور علیحدگی کے بارے میں خاصا مواد فراہم کرتی ہیں۔  اسی طرح ”عظیم المیہ در المیہ“ جیلانی چاند پوری کی کتاب ہے جو مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی داستان ہے۔

پاکستان کی مزدور تحریکوں کے بارے میں ڈاکٹر جعفر احمد کا ترتیب کردہ مجموعہ مضامین ”پاکستان کی مزدور تحریکیں نظری اور عملی مسائل“ خاصے کی چیز ہے کیونکہ اس میں نبی احمد اور کرامت علی جیسے مزدور رہنماؤں سے لے کر کامران اصدر علی اور احمد سلیم جیسے دانش وروں کے مضامین شائع کیے گئے ہیں۔  اس میں ہمیں واحد بشیر اور علی امجد کے خیالات و تجربات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں جو پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ کو سمجھنے میں بڑی مدد کرتے ہیں۔

مزدور تحریک پر ایک اور کتاب ظفر شہید کی ”دی لیبر موومنٹس ان پاکستان“ ہے جو 1960 ء کے عشرے کے اواخر سے لے کر 1970 ء کے عشرے کے اوائل تک کراچی میں مزدور تحریک کی تنظیم و قیادت پر مرکوز ہے اور اچھا تحقیقی کام ہے۔  کامران اصدر علی کی کتاب ”سرخ سلام“ جو پاکستان میں کمیونسٹ سیاست کے ابتدائی پچیس سالہ دور یعنی 1947 سے 1972 تک کا احاطہ کرتی ہے ایک بہت اچھی تحقیقی کتاب ہے۔  اسی طرح تیمور رحمان کی کتاب ”دی کلاس اسٹرکچر آف پاکستان“ بھی تاریخی مادیت کے نقطہ نظر سے پاکستان پر موجود مواد میں قابل قدر اضافہ ہے۔

عبداللہ ملک کی ویسے تو درجنوں کتابیں ہیں لیکن یہاں دو کتابیں موضوع کے تعلق سے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔  ایک تو ان کی ”جیل یاترا“ جو جنرل ضیاءالحق کے دور میں ان کے جیل کے دنوں کے شب و روز کی داستان ہے اور دوسری ”فوج اور پاکستان“ ہے یہ دونوں کتابیں ہمارے موضوع پر اچھا مواد ہیں۔

فوجی مارشل لا اور اس کے خلاف انفرادی اور عوامی جدوجہد اور ریاستی جبرپرتحریروں میں میجر اسحاق کی کتاب ”حسن ناصر کی شہادت“ باکمال چیز ہے۔  اس طرح میجر آفتاب کی کتاب ”اٹک قلعے سے“ اور مولانا جاوید نعمانی کی کتاب ”جو مجھ پر گزری“ اذیت و حراست کی دل گداز داستانیں ہیں۔  پروین خان کی دو کتابیں ”مشاہدات“ اور مارشل لاءکے قیدی ”بھی خاصی معلوماتی ہیں۔ “ مشاہدات ”میں پروین خان نے بائیں بازو کے رہنما اور دانش ور رضا کاظم کے مشاہدات و تاثرات تحریر کیے ہیں۔  جب کہ“ مارشل لاءکے قیدی ”میں پروین خان نے اپنے معروف سیاسی رہنماؤں کی بپتائیں لکھی ہیں جو مارشل لاءکے تحت سزا وار ٹھہرے جن میں نصر اللہ خان، ولی خان، بے نظیر بھٹو، معراج محمد خان، رسول بخش پلیجو، مولانا فضل الرحمان، سردار شوکت علی اور درجنوں دیگر قیدیوں کے احوال ہیں۔

سردار شوکت علی سے یاد آیا کہ ان کی کتاب ”بھٹو، ضیاءاور عوام“ فرنٹیئر پوسٹ نے 1993 ءمیں شائع کی تھی۔ اس میں شوکت علی اپنے بائیں بازو کے نقطہ نظر سے پاکستان میں سیاسی و عوامی جدوجہد پر خوب روشنی ڈالتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔  اسی طرح افضل توصیف کی کتاب ”الیکشن، جمہوریت، مارشل لا“ ہے جو قیدوں، کوڑوں اور پھانسیوں کا شکار دنوں کا احوال ہے۔  ڈاکٹر ظفر عارف کی ترجمہ کردہ کتاب ”انسانی حقوق کی پامالی“ پاکستان میں مارشل لاءکے دوران اور فوری بعد جونیجو حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی جیورسٹس کمیشن کی رپورٹ ہے۔  اس میں اس دور کی اچھی عکاسی ہوتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “پاکستان میں عوامی تحریکیں اور مزاحمتی ادب

  • 07/01/2020 at 5:10 pm
    Permalink

    ڈاکٹر ناظر محمود صاحب ۔۔۔ بہت اعلیٰ تجزیہ ، انتہائی دقیق معلومات اور بھرپور توجہ سے تیار شدہ آرٹیکل ہم تک پہنچانے پر تبریک قبول فرمائیں ۔۔
    میں سمجھتا ہوں اس مختصر تحریر میں گذشتہ پچاس سال کے مزاحمتی ادب کا اس خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے کہ ہم جیسے لاکھوں طلباء کےلئے ایک جامع لائبریری جیسی رہنمائی مل گئی ہے اب اسی احاطے میں رہ کر ہم اگر مذکورہ کتب ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہم پاکستانی کے مزاحمتی ادب پر بھرپور جانکاری حاصل کر سکتے ۔۔ آپ پر سلامتیاں نازل ہوں اور علمی و قلمی تاثیرات میں اضافہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *