دنیا کا نقشہ بدلنے جا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بدلنے جا رہی ہے، دنیا کا نقشہ بدلنے جا رہا ہے اور اس ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا، آج ہمیشہ ماضی کا حصہ بنتا چلا آیا ہے، یہ قانون فطرت ہے، ہماری پچھلی تین نسلیں تاریخ پڑھتی چلی آئی ہیں اب وہ خود تاریخ کا حصہ بن جائیں گی، الحمد للہ پاکستان قائم و دائم رہے گا، سبز ہلالی پرچم لہلہاتا رہے گا لیکن یہ پاکستان نئے دور کا حصہ ہوگا جو معرض وجود میں آ رہا ہے، ہمیں آج سوچنا پڑے گا کہ کیا مشرق وسطی کا نقشہ تبدیل کرنے کا وقت سر پر آن پہنچا ہے، یہ نقشہ بدلنے کے لئے دہائیوں پہلے بساط بچھا دی گئی تھی، تاریخ عالم پر گہری نگاہ رکھنے والے ایک بار پھر بخت نصر اور سائرس اعظم کے ہیولوں کا دجلہ و فرات اور بابل و نینوا میں نزول دیکھ رہے ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کے زیر سایہ اس وقت کی عالمی طاقتوں نے اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے غریب اقوام کی منڈیاں چھیننے کے لئے دنیا کے نئے نقشے بنائے تھے اور دنیا کی نئی حد بندیاں کی تھیں اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کی چھتر چھایہ میں ایک بار پھر تیسری دنیا کے غریب ملکوں کی بندر بانٹ کی گئی، دنیا کو واضع طور پر دو بلاکوں کی شکل دیدی گئی، مشرق وسطی کی تازہ ترین کشیدگی اب پھر انہی خدشات کو جنم دے رہی ہے، سب سے بڑا جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ کیا سولو سپر پاور اور اس کے حواری مشرق وسطی کا نقشہ بدلنے جا رہے ہیں؟

کیا اس علاقے میں اب نئی سرحدیں قائم ہوں گی نئے خطوط کھینچے جائیں گے؟ حلیفوں اور حریفوں کے حوالے سے نئی پالیسی کا مقصد صرف اور صرف اسرائیل کو محفوظ بنانا اور اس کی طاقت کو بڑھانا ہوگا۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے تازہ ترین خلیجی صورت حال میں اپنے وزیر خارجہ کو متحرک ہونے کی ہدایت تو کی ہے لیکن وزیر خارجہ کا کوئی بھی تحرک معنی نہیں رکھتا، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس کا ثبوت ہمیں کوالا لمپور سمٹ میں حکماًشرکت نہ کرکے مل چکا ہے، ،، دو فریقوں،، کی لڑائی میں ہم کوئی کردارکیسے ادا کر سکتے ہیں جبکہ ہم ایک فریق کے محکوم ہیں، مقروض ہیں، ہم نے پہلے بھی یمن کے تنازعہ پر ،، مصالحت،، کرانے کی کوشش کی تھی جو بے نتیجہ رہی.

دوسری جانب یہ بھی ایک سچ ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ کا کردار ضرور اہم ہو سکتا ہے، آرمی چیف نتیجہ خیز رول ادا کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت دنیا کو بچانے کے فیصلے کی چابی امریکہ ایران، سعودی عرب اور دوسری طاقتوں کی فوجی قیادتوں کی جیب میں ہے، ایران اس وقت خطے میں امریکی موجودگی کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کا بڑا ٹارگٹ اسرائیل ہو سکتا ہے، امریکہ اسرائیل کو بچانے کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔ پاکستان نے بغداد میں جنرل سلیمانی کی موت کے فوراً بعد موقف اختیار کیا کہ وہ غیر جانبدار رہے گا اور ایران امریکہ کشیدگی کا حصہ نہیں بنے گا، اسلام آباد کا اصولی موقف بے شک قابل تحسین ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے اور تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے۔

یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی تازہ ترین کشیدہ عالمی تناظر میں خارجہ پالیسی عوامی امنگوں کی آئینہ دار ہے، کاش یہ موقف جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں بھی اختیار کر لیا جاتا، قوم آج تک نہیں جان سکی کہ آخر وہ کون سی مجبوری تھی جس نے ان دونوں آمروں کو افغانستان، عراق اور شام پر امریکی جارحیت کا شرم ناک ساتھ دینا پڑا جس کے نتیجہ میں آج پاکستان بد ترین معاشی حالات میں مبتلا ہے، ضیاء الحق تو پہلے ہی اردن میں فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک ہو کر ،،بہادری،، کا تمغہ حاصل کر چکے تھے، یہ پاکستان کی بد نصیبی تھی کہ پاکستان میں ایک ایسے آمر کا راج قائم ہو چکا تھا جو جارج بش کی کویت سے صدام حسین کی قابض فوج کو نکالنے کے لئے بنائی گئی کو لیشن آرمی کا حصہ بننے کو بخوشی رضامند ہو گیا تھا.

اس سے پہلے ضیاء الحق کے دور میں ہی پاکستان افغانستان پر قابض روسی فوجوں کو نکالنے کے لئے امریکہ کو ،، مجاہدین،، فراہم کرنے ، طالبان کو تربیت دینے اور پھر انہیں امریکی اسلحہ سے لیس کرکے افغانستان میں داخل کرنے کا وسیلہ بنا اور ہم روس کے خلاف امریکی جنگ میں چاچا خوامخواہ بن گئے، افغانستان میں امریکی جنگ کے لئے فنڈز واشنگٹن کے حواریوں نے فراہم کئے اور اسلحہ عرب دشمن اور اسلام دشمن اسرائیل سے حاصل کیا گیا تھا، افغان جنگ میں پہلی بار روس کے خلاف مہلک ترین ہتھیار اسٹنگر میزائل کا بھی استعمال کیا گیا تھا، اور آج ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اربوں ڈالر مالیت کا ایک ایسا ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو ان کے بقول پہلی بار استعمال کیا جائے گا.

یہ نیا یا جدید ترین ہتھیار ایران اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو صفحہ ہستی سے بھی مٹا سکتا ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ افغانستان میں روس کے خلاف پہلی بار استعمال ہونے والے اسٹنگر میزائل اوجھڑی کیمپ میں ذخیرہ کئے گئے تھے اور سانحہ اوجھڑی کیمپ میں ہماری کتنی تباہی ہوئی تھی اسے بھی کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا، جب امریکہ نے جنگ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کر لئے تھے تو اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کو ٹاسک دیا گیا کہ اب کابل کو مجاہدین اور طالبان سے پاک کر دیا جائے، نائن الیون کا بدلہ لینے کے لئے ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو سبق سکھانا لازم گردان لیا گیا تھا، واشنگٹن سے ایک ٹیلی فون کال،، فرینڈ آر فو،، یعنی ،، دوستی یا دشمنی،، پر پرویز مشرف نے،، یس سر،، کہہ دیا اور پھر امریکی پلان کا یہ سلسلہ اسامہ بن لادن کی موت تک جاری رہا.

کتنے مجاہدین یا طالبان جن میں فلسطینی، افغانی اور عرب شامل تھے بعد ازاں ڈالروں کے عوض واشنگٹن کے حوالے کئے گئے؟ اور یہ ڈالر کیا قومی خزانے میں جمع کرائے گئے؟ عقل و خرد سے عاری ماضی کے حکمرانوں نے پاکستان کے مفادات کو مقدم نہ رکھا اور یہاں دہشت گردی کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا، خود کش دھماکوں جیسی دہشت گردانہ کارروائیوں میں سینکڑوں بے گناہ شہری مارے جاتے رہے، املاک تباہ ہوتی رہیں، بلا شبہ دہشت گردی اور خود کش دھماکوں کی اس لہر کو موجودہ فوجی قیادت نے دفن کیا اس کے لئے جنرل باجوہ ہمیشہ قابل صد تحسین رہیں گے، ملک کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنانے کے لئے بے شمار افسروں اور جوانوں نے شہادتیں پیش کیں، آج مشرق وسطی کی کشیدگی میں پاکستان کی حکومت کا موقف اگر بہت پہلے اختیار کر لیا جاتا تو پاکستان ایک مختلف پاکستان ہوتا.

اب پھر بات کرتے ہیں کہ پاکستان آج کی صورت حال میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے جس سے دنیا کا نقشہ بدلنے سے رک جائے، میں سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف جنرل باجواہ واقعتاً اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ دنیا کی فوجی قیادتوں میں اہم مقام رکھتے ہیں، پاکستان کی فوج اور فوجی صلاحیت کی دنیا معترف ہے، ہماری فوجی قیادت بلاشبہ ایران اور امریکہ سے کامیاب مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہے، حکومت سے درخواست ہے کہ مشرق وسطی کی صورت حال پر ایسی سیاسی بیان بازی سے گریز کیا جائے جو بعد ازاں ملک اور قوم کی شرمندگی کا باعث بنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ سوال یہ بھی سامنے ہے کہ ،، فرینڈز آر فوز،، کہنے والوں نے اگر جنگ افغانستان کی طرح اڈے مانگ لئے تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ The beggers can,t be the choosers”ـ”

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply