گھریلو ملازمین اور ان کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mujahid

کہنے کو تو حکومت کی جانب سے مزدور کی کم سے کم تنخواہ گذشتہ برس میں مقرر کردہ چودہ ہزار ماہوار سے بڑھا کر پندرہ ہزار ماہوار کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن یہ نہیں طے کیا گیا کہ ”مزدور“ کی تعریف کیا ہے۔ یعنی جس کو جو چاہے جو بھی کام کرے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم تنخواہ اور وہ بھی ماہوار دی جائے، وہ مزدور کہلائے گا۔ پھر یہ کہ لفظ مزدور یا محنت کش، حکومت کئے خیال میں مذکر ہی ہوگا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ عام مزدور جو دیہاڑی کی بنیاد پر کام کرتا ہے اگر وہ مہینے کے تمام ایام میں کام کرے، جو عموماً ممکن نہیں ہوتا تو وہ شاید کم سے کم ماہانہ اجرت سے دو ڈھائی ہزار زیادہ ہی بنا لے۔ مگر ضروری نہیں کہ روزانہ کام ملے۔ ایسے کام جو عارضی بنیادوں پر کرائے جاتے ہیں جیسے تعمیراتی مزدوری، سامان ڈھوائی اور اسی قبیل کے دوسرے کام، وہ کسی بھی وقت تمام ہو سکتے ہیں یعنی اس میدان میں ہائر اینڈ فائر کا خالصتاً سرمایہ دارانہ انداز روا ہے، پھر ان کاموں کے دوران پہنچنے والے جسمانی نقصان کا معاوضہ دیے جانے بارے نہ تو طے ہے اور نہ ہی دیا جاتا ہے ماسوائے اس کے کہ کام کرانے والا کوئی بہت ہی خدا ترس نہ ہو۔ ایسا شخص بھی ترس کھاتے ہوئے رحم کے ضمن میں جو دے گا سو دے گا، ویسے اس کے لیے ایسا کیا جانا لازم نہیں۔

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والوں سے متعلق روح فرسا خبریں کم نہیں ہوتیں جو عموماً سننے میں آتی ہیں۔ ایسی جگہوں پر بانڈڈ لیبر یعنی مجبوری کے عالم میں مزدوری اور قالین بافی اور دیگر غیر رجسٹر شدہ صنعتوں میں بچوں سے مزدوری لیا جانا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بلکہ یہ کام سرعام لیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی ماہوار اور کم سے کم تنخواہ دیے جانے کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی ایسی صنعتوں پر نگاہ رکھی جاتی ہے مثلاً ورکشاپوں اور چھوٹے چھوٹے ریستورانوں میں کام کرنے والے بچوں کے استحصال پر۔

مزدوروں کی ان اقسام کے علاوہ ایک قسم ایسی ہے جن کے بارے میں ماسوائے ایک آدھ غیر سرکاری تنظیموں کے نہ کوئی سماجی فلاحی ادارہ مشوش ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ان کے معاوضے، روزگار کے تحفظ اور جسمانی صحت سے متعلق کوئی قانون سازی کی گئی ہے وہ ہیں گھریلو ملازمین۔

گھریلو ملازمین کی ایک بڑی تعداد تو شہروں اور قصبات میں بسے ہوئے درمیانے اور بڑے زمینداروں کے گھروں میں کام کرنے والے ان کے مزارعین کے بیٹوں بیٹیوں کی ہے۔ وہ زمینداروں کے لیے ایک طرح کی بانڈڈ لیبر ہی ہوتی ہے کیوں کہ ان کے والدین یا کم از کم ان کے باپ ان کی زمین کے ساتھ بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ دوسری بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی ہے کیونکہ ایک تو وہ پڑھے لکھے شاید ہی ہوں دوسرے ایسے لوگوں کے تفریح کے مواقع، وسائل، دستیابی مسدود ہونے کی وجہ سے واحد تفریح مجامعت کے سبب بچے کثیر تعداد میں ہوتے ہیں یوں ایسے گھروں کے بچے بچیاں گھریلو ملازمین کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسی بچیوں اور بچوں پر بعض لوگ تشدد بھی کرتے ہیں۔ شدید تشدد کی وجہ سے بچوں کے زخمی تا حتٰی مر جانے کے واقعات بھی میڈیا میں سامنے لائے جا چکے ہیں۔

تیرہ سال کی ایک بچی ہے۔ چلیں اس کو ہم شیبا کہہ لیتے ہیں۔ وہ صبح نو بچے کام پر پہنچتی ہے اور سات بجے شام کو جب اس کی ماں لینے آتی ہے تو گھر جاتی ہے۔ جس گھر میں کام کرتی ہے اس گھر میں موجود پانچ چھ افراد کی صدا بہ صدا پر لبیک کہتی ہے۔ مشین میں کپڑے ڈال کر دھوتی ہے، پھر پلاسٹک کے ایک بڑے سے ٹوکرے میں ڈال کر ایک ایک سیڑھی بوجھ اٹھا کر چڑھتے ہوئے چھت پر سوکھنے کی خاطر ڈال کر آتی ہے۔ روٹیاں پکاتی ہے۔ جھاڑو دیتی ہے۔ پانی پالتی ہے، ناشتہ کھلاتی ہے اور معاوضے میں بمشکل چھ ہزار ماہوار پاتی ہے۔ بعض اوقات جھڑکیاں اور ڈانٹ بھی سنتی ہے۔ مگر کیا کرے وہ تینوں بہنیں کام کرتی ہیں اور باپ کچھ نہیں کرتا، بیمار رہتا ہے اور آوارہ گردی کرتا ہے۔ شیبا ذہین ہے، انگریزی میں بولے گئے لفظ جلدی سیکھ جاتی ہے اور معانی یاد رکھتی ہے اگرچہ اسے پہلی جماعت سے اٹھا لیا گیا تھا، ضرورت پڑے تو ان لفظوں کا مناسب استعمال بھی کر لیتی ہے۔

ایسے ملازمین (مزدوروں؟) کو کام پر رکھنے والا طبقہ درمیانہ طبقہ ہے جنہوں نے اپنی ضرورت کی چادر کو پھیلایا ہوا ہے مگر آمدنی بس اتنی ہے کہ وہ مزدور کو جتنا دے سکنے کے اہل ہیں اتنا ہی دے سکتے ہیں۔

معاملہ درمیانے طبقے کے کام کرنے والے ان افراد کا نہیں ہے جو ایسے ملازمین اپنی ضرورت یا عادت کے تحت رکھتے ہیں۔ معاملہ شیبا جیسی بچیوں کا ہے۔ ان کے ”ہیو ناٹس“ والدین کا ہے۔ اگر درمیانے طبقے کی بہوئیں بیٹیاں گھروں کے کام خود کرنے لگ جائیں گے تو شیبا جسیی بچیاں اور ان کے والدین کے سے نادار (ہیو ناٹس) غربت کی لکیر سے بہت نیچے گر جائیں گے اور ایسے لوگوں کی تعداد اس ملک میں کم نہیں ہے۔

معاملے کا حقیقی حل حکومتیں ہی کر سکتی ہیں۔ جب تک صنعتیں بہتات میں نہیں ہونگی جہاں غریب مناسب معاوضے پر مزدوری کرنے لگیں۔ جب تک نظام تعلیم اور نظام صحت متوازن نہیں ہونگے جہاں صنعتوں میں کھپنے والے مزدور والدین اپنے بچوں کی صحت اور تعلیم سے متعلق فکر مند نہ رہیں، تب تک گھریلو ملازمین پسے ہوئے دوسری سماجی پرتوں میں شامل ایک پسی ہوئی پرت رہیں گے۔ گھریلو ملازمین کی تنظیمیں بنانا اور ان کو حق مانگنے پر مائل کرنا ایسے ہوگا جیسے انہیں بیروزگار کرنا۔ ملک کے معاشی اور سماجی حالات کو بہتر بنانے کی خاطر ہم سب لوگوں کو حکومت پر زور دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply