کارپوریٹ دنیا
میں غور سے اس کی بات سن رہی تھی۔
اچھا، اب میں چلوں۔ جانسن کچھ مزید بتائے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔
میں نے رُکنے پہ اصرار نہیں کیا اور نہ ہی مزید کچھ جاننے کی کوشش کی۔ مڑنے سے پہلے اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور بولا۔
اگر مناسب سمجھو تو میرے پاس آ کر کافی پیو کسی روز، اچھی کافی بنا لیتا ہوں بلکہ کوکیز بھی۔
ضرور۔ اور آنے کا بہت شکریہ۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔
تنہائی، نارتھ امریکہ بلکہ شاید ہر کیپٹلسٹ معاشرے کا المیہ ہے۔ لوگ آفسیز میں پروفیشنل بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ محلوں پڑوسوں میں رہتے ہیں۔ مگر تعلقات کوصرف مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نہ دوستیاں کرتے ہیں نہ محبتیں۔ خودغرضی اور بے چینی اس معاشرے کے بنیادی اجزاء ہیں۔ یہ لوگ مارگیج پہ تمام تر مشینریاں خرید کر زندگی کو پُرآسائش بنانے کا خواب دیکھتے ہیں اور اپنا آرام، سکھ چین سب کچھ گروی رکھ کران آسائشوں کے حصول کے لیے لی جانے والی مصنوعی خوشیوں کے لیے دولت کماتے ہیں۔ پوری زندگی۔ کماتے کماتے اور سود بھرتے بھرتے گزر جاتی ہے۔
پہلے ذہن گروی رکھتے ہیں، پھر جسم، پھر رُوح، پھر کسی کتے کی طرح اپنی دُم پکڑنے کی کوشش میں ساری عمر ایک دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ نہ دُم پکڑ پاتے ہیں نہ خود کو روک پاتے ہیں۔
رنگوں، روشنیوں اور پُرتصنع دُنیا کی لالچ میں گرفتار اِس سماج میں کئی جانسن ہوں گے۔ میں نے سوچا۔ ہر ایک اپنی کہانی، اپنا درد، اپنا کرب یا تو کسی نشے میں بھلاتا ہو گا یا جوئے میں۔ ہر چھوٹا بڑا کیسینو، ہمہ وقت مصروف نظر آتا تھا۔ ایک بار سوشیالوجی کے ایک پروفیسرنے کیسینوز کی کنسٹرکشنز گہرے پانیوں کے قریب ہونے کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے بتایا تھاکہ دلبردا شتہ افراد کو خودکشی کرنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ ان خودکشیوں کی خبریں اخبارات میں کیوں نہیں آتیں، پروفیسرصاحب کا کہنا تھا کہ یہ خبریں نہیں بلکہ روزمرہ کے واقعات ہیں، لہاذا انہیں پریس غیر اہم گردانتا ہے۔
جانسن سے میری اگلی ملاقات لفٹ میں ہوئی جب وہ اپنی سالگرہ تنہا منانے کا اہتمام کر رہا تھا۔ یہ بات اُس نے مجھے بڑی اُداس مسکراہٹ کے ساتھ بتائی تھی۔ لفٹ میں کھڑے کھڑے میں نے اس سے کہا، ٹھہرو۔ میں آتی ہوں تمہاری سالگرہ کا کیک کھانے کے لیے۔
اس نے بے یقینی کی سی کیفیت سے مجھے دیکھا۔
نویں منزل پہ لفٹ رُکی اور میں اس سے چند منٹوں بعد آنے کا کہہ کر اپنے گھر آ گئی۔
اس دن، جانسن نے مجھے اپنی کہانی سنائی کہ کس طرح انھیں مشرف بہ عیسائیت کیا گیا۔ وہ جو فطری اور قدرتی چیزوں سے محبت کرتے تھے اور جن کے لیے دُنیا کا ہر انسان۔ قابلِ احترام اور قدرت کی ہر چیزقابلِ محبت تھی۔ وہ جو بارش، آسمان، ستاروں، چاند، سورج، ہوا، مٹی اور پودوں سے خود کو جوڑتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ ہر اِک انسان میں، خدا بستا ہے۔
جب انگریزوں نے ہمارے وسیع و عریض ملک کو فتح کیا تو انھیں ہمارے ملک کی ہر چیز اچھی لگی۔ معدنیات سے لے کر آب و ہوا تک، جو چیز انھیں نہایت مکروہ لگی، وہ تھے ہم! لحیم شحیم، بے ڈھنگے، جٹادار بالوں والے، بدوضع، غیرمہذب، غیرتعلیم یافتہ وحشی نما لوگ! مکرفریب، جھوٹ، دغا بازی، لوٹ مارسے دور، دوسروں کی زمینوں اور دولت پہ قبضہ گیر ہونے کی ہوس سے بے نیاز، ہم سادہ لوح لوگ! وہ آئے تھے، غاصبوں اور لٹیروں کی طرح۔ اور بہت اچھا ہوتا اگر وہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو مار دیتے، ہمارا مال و متاع چھین لیتے، ہمیں خوفزدہ کرتے اور چلے جاتے مگر انھوں نے ہمیں ہمیشہ کے لیے غلام بنانے کی ٹھانی۔ اور ہماری خوبصورت زمین اور اس کی صحت مند فصلوں کو اپنے نام کر لیا۔ یہ ایک مچھر مار قسم کی مہم تھی ہمارے خلاف۔ گورے آبادیوں میں فائرنگ کرتے آتے، کھڑے افراد کے سر قلم کر دیتے۔ لیٹے ہوؤں پر اپنے گھوڑے دوڑا دیتے۔ اور تمام بچوں کو وہاں سے نکال کر لے جاتے۔ مائیں روتی پیٹتی، گھوڑوں کے ساتھ ساتھ دوڑتیں اور پھر تھک ہار کر گر جاتیں۔ وہ ہمارے حوصلوں کو پست کرنا چاہتے تھے اور ہمارے اصل کو ہم سے چھیننا۔
پھرسویلائزیشن کے نام پرہمارا استحصال شروع ہوا۔ وہ بچوں کو ہاسٹلوں میں رکھتے تھے۔ سب سے پہلے ان کے بال کاٹے جاتے، بال جو ہمارے لئے زمین، آسمان، چاند، سورج، ہوا، مٹی، اور پانی کی طرح مقدس تھے۔ جن سے ہمیں فطرت سے قریب ہونے کا حوصلہ ملتا تھا۔ ان بچوں کے بالوں کو بے دردی سے کاٹنے کے بعد، انھیں مذہبی بنانے کے جتن ہوتے۔ انہیں سالہاسال ہاسٹلوں میں رکھا جاتا۔ جسمانی و جنسی تشدد عام تھا۔ کئی ماؤں کو اپنے بچے پھر کبھی نہیں ملے۔ کوئی اسکول داخلہ کا ریکارڈ کسی ریڈانڈین کو نہیں دیتا تھا۔ عورتیں خودکشی کرلیتی تھیں اور مرد طرح طرح کے نشے، جو بھی مِل جاتے۔
تمہیں معلوم ہے۔ عام کینیڈین جو اس اکیسویں صدی کے کینیڈا کو اپنا مُلک سمجھتے ہیں وہ اِس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کہ یہ مُلک کس کا تھا اور ہم لوگ کون ہیں؟
خیر۔
اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا Are you getting bored
ارے بالکل نہیں۔ تم بات جاری رکھو پلیز۔
تم جاننا چاہتی تھیں نہ کہ لوگ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔ یا پھر میں قیدی کی زندگی کیوں گزار رہا ہوں؟
نفرت، میں نے آہستگی سے کہا۔ نفرت تو نہیں، تم جانتے ہو آج کی دنیا میں لوگ بہت مصروف ہوتے ہیں۔
جانسن آج پہلی بارکھل کر مسکرایا۔ مصروف؟
تم نہیں جانتیں میں کتنا حقیقت پسند ہوں یا ہو چکا ہوں۔ یہ نفرت کرتے ہیں مجھ سے۔ ہم سے۔ انہیں ہماری زمین، ہمارا آسمان اور ہمارا سرمایہ چاہیے، ہم نہیں۔ خیر۔ میں کہہ رہا تھا کہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب میں نے اپنی پہلی نوکری شروع کی، ایک ڈے کیئرمیں۔
ڈے کیئر میں اور وہ بھی مرد ہو کر۔ میں ہنسی۔
بس یوں سمجھو یہ میرا شوق بھی تھا اور مشن بھی۔ میں گھرمیں، خاندان میں، ظلم کی داستانیں سن سن کر بڑا ہوا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ جن کے ساتھ یہ ہرظلم روا رکھے گئے تھے اور جو اِس تہذیب وخود ساختہ ماڈرن سماج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مذہب کی آڑ میں ہمارے ساتھ یہ بدمعاشی کی گئی ہے، جب کہ میں چاہتا تھا کہ کسی طرح اپنے لوگوں کے دلوں سے یہ خیال نکال دوں اور انھیں اِس دُنیا کا حصہ بنانے ہیں ان کی مدد کروں۔ حالانکہ میں خود اسکول میں کئی باربلی ہوا ہوں گورے سٹوڈنٹس ہم سے اورایشین سٹوڈنٹس سے نفرت کرتے تھے۔ اورہمیں ایذا پہچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ مگر کچھ اساتذہ بہت اچھے اورغیرمتعصب تھے۔ انہی کی وجہ سے میں نے سوچا کہ اب ہمیں بھی اپنا رویہ ترک کرنا ہو گا۔ میرے باپ نے میرے خیالات سن کر مجھے کہا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

