کارپوریٹ دنیا


یاد رکھو تمہارا ناک نقشہ اس سوسائٹی کے لیے قطعی قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ ہم صرف اپنی کمیونٹی کے لیے قابلِ قبول ہوتے ہیں اور اسی لیے ہم اکٹھا رہتے ہیں۔ میں اِس حصار کو بڑا کرنا چاہتا تھا۔ لامحدود! میرے لیے میری کمیونٹی یہ پورا ملک تھا۔ بلکہ اس سے بھی آگے۔ انسان کو رنگ، نین نقش اور جغرافیہ کے حوالے سے دیکھنے اور پرکھنے کے خیال سے مجھے کوفت ہونے لگی اور شاید اسی لیے میں نے ڈپلومہ مکمل کرتے ہی اپنے ایک اُستاد کی معرفت ایک ڈے کیئر میں اپلائی کیا۔ مجھے معلوم تھا کہ نیٹ ورکنگ کے بغیر اِس مُلک میں نوکری نہیں ملتی۔ تم لوگ شاید اس کو کچھ اور کہتے ہو۔

ہم لوگ اسے کچھ غلط ہی سمجھتے ہیں۔ جیسے کہ سفارش!

ہاں میں نے سنا تھا۔

خیر، تو میں تمہیں اس آفٹر اسکول ڈے کیئر کے متعلق بتا رہا تھا۔ یہاں ہائی پوزیشن رکھنے والے پیرینٹس کے بچے دن گزارتے تھے۔ یعنی وہ بچے اسکولوں سے پڑھائی ختم کرنے کے بعد یہاں آتے تھے۔ اس وقت یہی کوئی ٹوٹل 30 کے قریب بچے تھے۔ مکسڈ گروپ تھا، کسی کے والدین فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر تھے توکسی کے ڈاکٹریا انجینئر۔ سب بہت اچھے گھرانوں کے بچے تھے۔ بہت کم والدین نے سبسڈائزڈ پروگرام کے لیے فارمز بھرے تھے مگر زیادہ تر کے لیے روپیہ مسئلہ نہیں تھا۔ میری کولیگ خاتون جو مجھ سے سینئر تھیں، نے بچوں کودوگروپس میں تقسیم کیا تھا۔ ایک گروپ میں سنبھالتا تھا تو دوسرا وہ، پھر اگلے ہفتے ہم ان گروپس کو ایکسچینج کر لیتے تھے۔ جیسے ہی بچے اسکول سے آتے تھے انہیں سنیکس دیے جاتے تھے۔ سنیکس کے بعد، وہ باسکٹ بال کھیلتے تھے اور اس کے ہم بعد بچوں کو ملٹی پرپزروم میں لے جاتے تھے۔ یہ ایک لمبا چوڑا ہال تھا۔ جہاں بچے سلائی سیکھتے، ڈرائنگ یا ڈیزائن وغیرہ بناتے۔

کچھ بچوں کی عمریں دس سال کے قریب تھیں مگر زیادہ تربچے گیارہ، بارہ برس کے تھے۔ چار لڑکیاں تقریباً گیارہ اور تیرہ برس کے درمیان تھیں۔ اِس دن، ہم باسکٹ بال کھیل رہے تھے۔ سب بچے بہت خوش تھے اور بار بار ایک دوسرے پر گیند پھینک رہے تھے۔ کسی بچے کا پھینکا ہوا گیند کیچ کرتے ہوئے میں دائیں طرف پوری طرح جھکا اور ایک بچی سے ٹکراگیا۔ وہ تو بچ گئی مگر میں گر گیا۔ سب بچے بے اختیار ہنسنے لگے۔ میرے لیے یہ عام سی بات تھی، روزمرہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ تھا۔ مگر جب ہم سب ہال میں جانے کے لیے جمع ہو رہے تھے تو میں نے اس بچی کے منہ سے سنا کہ وہ دوسری لڑکی سے کہ رہی تھی،

He touched me

میں نے اوورہرڈ کیا۔ لیکن وہ بچی مسلسل بول رہی تھی۔ دوسرے دو جملے جو میں نے واضح طور پر سنے۔ وہ تھے،

He touched my breast and I am going to tell my Mom۔

ہم سب نیچے ہال میں آئے۔ وہ بچی باہر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد میری کولیگ نے مجھے آ کر کہا کہ میں اس کے گروپ کے پاس جاؤں۔ کوئی چالیس منٹ کے بعد میری کولیگ واپس آئی اور اس نے مجھے بتایا کہ ایک بچی کا کہنا ہے کہ تم نے اس کے بریسٹ کو ٹچ کیا ہے۔

Come on

میں نے کہا۔ یہ ناممکن ہے۔ بچی کو غلط فہمی ہوئی ہے۔

بہت تکلیف پہنچی مجھے یہ بات سن کر۔

اگلے دن میں کام پہ آیا تو مگر ایک عجیب سی پریشانی میں۔ کچھ دیر بعد ایک انکوائری ٹیم پہنچ گئی۔ مختلف بچوں کے اِنٹرویوز لئے گئے تاکہ صورتِ حال واضح ہو۔

آج اس بچی کا کہنا تھا کہ،

He brushed against my breast

اس کی دوست نے کہا کہ،

He did not touch her on purpose but his hand brushed up her، may be on her shoulder or breast۔

مجھ پہ الزام لگانے والی بچی کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔ اسی انویسٹی گیشن کے دوران پولیس بلا لی گئی۔ پولیس نے تمام بچوں سے فرداً فرداً معلومات لیں۔ میری کولیگ سے بھی انٹرویو ہوا اور طے پایا کہ اب میں بچوں کے ساتھ کام نہیں کروں گا، بلکہ صرف جم تک محدود رہوں گا۔

مجھے دھچکا سا لگا، مگر میں نے سوچا کہ انویسٹی گیشن کے مکمل ہوتے ہی مجھے دوبارہ بچوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع مِل جائے گا۔ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ختم ہوئی۔ پیر والے دن جب میں کام پہ گیا تو مجھے آفس بلا لیا گیا اور جو پہلا جملہ میں نے سنا وہ تھا،

You are fired

میں سناٹے میں آ گیا۔ باقی وضاحت یہ تھی کہ چونکہ انوسٹی گیشن ٹیم کو میں اپنے جوابات سے مطمئن نہیں کر سکا تھا، جب کہ بچی کا بیان زیادہ معتبر تھا۔ لہاذا پولیس نے جو رپورٹ پیش کی اس کی رو سے مجھے اِس بلڈنگ کے اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔ مزید یہ کہ اس بلڈنگ کے چاروں طرف ایک سو میٹر کے احاطے کے اندر نظر آنے کی صورت میں مجھے گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ اسں ساری کارروائی میں بچی کی ماں کا رول بہت اہم تھا۔ حالانکہ پولیس رپورٹ کے مطابق بچی نے اپنا بیان دو بار تبدیل کیا تھا، مگر۔ ”میرا اِرادتاً اس کی بیٹی کے جسم کو ٹچ کرنا۔ “ اس کے لیے ناقابلِ تردید سچ بنا ہوا تھا۔ اس خبر کے بعد جس محلے میں، میں رہتا تھا وہاں اہلِ محلہ نے کچھ ایسی قانونی کارروائیاں کیں کہ مجھے وہ محلہ بھی چھوڑنا پڑا۔ جس خجالت، خفت، ذِلت اور اذیت کا سامنا، بغیر کسی قصور یا گناہ کے مجھے کرنا پڑا۔ اس کی شدت شاید ہی کوئی اور محسوس کر سکے۔

حالانکہ میں جانتا تھا کہ میرے ماں باپ پولیس کی تفتیش یا میرے خلاف الزام کو کبھی سچ نہیں مان سکتے نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلتا مجھ پر الزام ثابت ہوتا یا نہیں۔ میرے بہن بھائی سٹیٹس میں سیٹل تھے، انھوں نے مجھے وہاں آنے کے لیے کہا مگر میں ایک مجرم کی حیثیت سے کہیں بھی جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس الزام اور تفتیش کی وجہ سے مجھے کسی جگہ ملازمت نہیں ملی۔ میں نے اَن گنت جگہوں پر نوکری کے لیے درخواستیں دیں۔ مسلسل ناکامیوں نے مجھے ڈپریشن کا مریض بنا ڈالا۔ میں نے ڈاکٹرزسے رجوع کیا۔

باربار دوائیں تبدیل کرنے کے باوجود مجھے ذہنی پریشانی سے چھٹکارا نہیں ملا۔ ِ

مگر پھر یہ گھر تم نے کب خریدا؟ میں نے پوچھا۔

۔ یہ میرے والد کی ملکیت ہے۔ اچھے دنوں میں انھوں نے بہت کم مارگیج میں خریدا تھا اور کرائے کے پیسوں سے مارگیج ادا کرتے تھے۔ ان کی مہربانی سے مجھے یہ گھر مِلا ہے۔ وہ دونوں تو چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ رہوں مگر میرے لیے اس شدید ڈپریشن میں کسی کے ساتھ رہنا بھی مشکل تھا۔

حالانکہ سوچتا ہوں کہ شاید یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہیں۔ میں نے تو جیلوں میں لوگوں کو پوری پوری زندگی گلتے سڑتے دیکھا ہے۔ کرتا کوئی ہے سزا کسی اور کے حصے میں آتی ہے۔ بہت پرانا دستور ہے اور اکیسویں صدی کے اس مصنوعی مہذب معاشرے میں بھی جاری و ساری ہے۔

یہ قوتیں مزید طاقتور بننے کی کوشش میں دنیا کے قدیم تہذیبی باشندوں کے ساتھ ہر طرح کا ظلم اور جبر روا رکھیں گی۔ یہ ہمیں اِتنا کچل دیں گی کہ ہم خود بھی بھول جائیں گے ہم کون ہیں یا کیا تھے۔ کینیڈا کا کوئی اسکول ہماری زبان نہیں پڑھاتا۔ ہمارے بچے ہماری زبان بھول رہے ہیں۔ اپنا تشخص کھو رہے ہیں۔ ہمارے بچے اپنے آباؤاجداد، ہمارے ہیروز، ہماری تاریخ اور ان قبضہ گیروں کے ظلم کی کہانیوں سے زیادہ ان جابروں اور وحشیوں کی جھوٹی، منافقت بھری کامیابیوں کو رٹ رٹ کر سچ سمجھ رہے ہیں۔ یہ نفسیاتی جنگ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6