کارپوریٹ دنیا
جانسن جذباتی ہو چلا تھا۔ اس نے پھر اپنا گلاس بھرا۔
میں نے ماحول کی تلخی کم کرنے کی غرض سے کہا۔
یہ تو پوری دُنیا میں ہوا ہے، جہاں جہاں دُنیا میں کھیتیاں تھیں، زرخیزی تھی، غلہ وافر تھا، وہاں وہاں ہوس پرستوں اور طاقت کے زعم میں مبتلا گروہوں نے ظلم و نفرت کی کاشت کی ہے۔ معصوموں کے ساتھ ظلم روا رکھا ہے۔ بلکہ آج بھی دیکھ لو، سونے اور تیل کے ذخائر پرقابض ہونے کے لئے ان سفاک حکومتوں نے ممالک تاراج کر دیے، ثقافتیں تباہ کر دیں، لاکھوں، کروڑوں افراد بے خانماں کر دیے۔ اس حساب سے دیکھو تو تم لوگ خوش قسمت ہو کہ تمہارے پاس انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں جو ان مظالم کے خلاف نہ صرف احتجاج کرتی ہیں بلکہ ریسرچ پیپرز لکھ کر بھی دنیا کو ان زیادتیون کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔
جانسن نے قدرے حیرت سے مجھے دیکھا پھر بولا،
کیا واقعی تم لوگ ان انسانی حقوق کی تنظیموں کو آزاد اور خود مختیار تنظیمیں سمجھتے ہو؟ میرا خیال تھا ایشیا اور افریقہ کے لوگ اب تک ان حربوں سے واقف ہو چکے ہوں گے۔ امریکاعراق میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر کس قدر پریشان تھا کہ دس لاکھ سے زیادہ افراد جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں، انہیں قتل کر کے انسانی حقوق کا احترام کیا۔ لیبیا کے پاس پوری دنیا کا دو فیصد آ ئل تھا۔ بجلی، تعلیم، پانی سب فری۔ لیبیا پر 0 فیصد قرضہ تھا اور وہ کسی بھی مد میں امریکا سے قرضہ نہیں لینا چاہتا تھا لہاذا امریکا بہادر کولیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تشویش شروع ہوگئی اوراس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ جانسن کی ذہنی کیفیت بھانپتے ہوئے میں اس موضوع کو طول نہیں دینا چاہ رہی تھی سومیں نے گویا بات کو ختم کرنے کی غرض سے کہا،
لیکن کچھ نہ کچھ تو بہتر ہو رہا ہے، مثال کے طور پرابھی حال ہی میں کینیڈا کے وزیراعظم اسٹیون ہارپر نے تم لوگوں کو فرسٹ نیشن کا درجہ دیتے ہوئے تم لوگوں سے معافی مانگی ہے۔
زہرخند مسکراہٹ جانسن کے لبوں پہ پھیل گئی۔
معافی؟ تم نے ہارپر کے چہرے کے تاثرات دیکھے تھے، جب وہ اپنے بزرگوں کے گناہوں کا اقرار کر رہا تھا؟ اور تم اسے معافی کہتی ہو؟ کیا ایسے انسانیت سوز کرائمز۔ جس میں تم نے ہزاروں برس پہ محیط تہذیب کو برباد کرکے رکھ دیا۔ بے شمار افراد کو بے گناہ قتل کیا۔ ناجائز طور پر ہماری زمین کے مالک بن بیٹھے اور قبضہ چھوڑنے کا کوئی اِرادہ نہیں ہے۔ اور تمہارا ایک لفظ سوری تمہارے ایسے تمام بھیانک جرائم کی پردہ پوشی کر دیتا ہے۔ کیسا انصاف ہے یہ؟ کیسی معافی ہے یہ؟ جانسن شدتِ جذبات کی وجہ سے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو نہ پا سکا۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ سب سے زیادہ تعداد میں انسان نازی جرمنی کے ہاتھوں مارے گئے۔
ہمارے آباواجداد کا نہیں! زمین پہ اتہاس کا سب سے بڑا قتلِ عام، یہاں امریکہ کی زمین پر ہوا۔ ہماری تاریخ پڑھو جو ہمارے بزرگوں نے انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود رقم کی۔ 100 ملین نیٹوامریکنز کی گردنیں اُڑائی گئیں۔ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوئے ان کے گھر تباہ کر دیے گئے۔ آج بھی سیکڑوں کی تعداد میں ہماری عورتیں مسنگ ہیں۔ ہزاروں بچوں کا کبھی کوئی سراغ نہ مِلا۔ ان بد نصیبوں کا کبھی کوئی سراغ نہیں ملتا جنہیں اسٹیٹ کی سرپرستی میں ظم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوری۔ اگر تم لوگ پورا سچ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس نے چند ثانیے اپنی سُرخ آنکھوں سے مجھے دیکھنے کے بعد آنکھیں موند لیں۔
میرے لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ میں نے بڑی ہمت جمع کر کے پوچھا۔
تمہارا کیس کب تک ختم ہو جائے گا۔ مجھے یقین ہے اس کے بعد تم کوئی اچھی سی جاب حاصل کر کے بہتر طور پر رہنا شروع کرو گے۔
کیس؟ وہ ہنسا۔ بہت تکلیف دہ ہنسی تھی جانسن کی۔ میرا دِل دُکھ سے بھر گیا۔
اس کیس کی حقیقت جاننا چاہو گی؟ جانسن نے مجھ سے سوال کیا۔ اور جواب کا اِنتظار کیے بغیر بولا،
تمہیں معلوم ہے۔ جس دن اس بچی نے مجھ پہ الزام لگایا تھا اس سے تین روز قبل کیا ہوا تھا؟ میں کچن میں بچوں کے لیے ٹوسٹ گرم کر رہا تھا کہ وہ بچی اچانک کچن میں آ گئی اور کھٹاک سے میرے گلے میں بازو ڈال کر میرے ہونٹوں کو چومنے لگی۔ میں بُری طرح گھبرا گیا اور اسے خود سے پرے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا، مگر وہ بے اِنتہا جذباتی ہو رہی تھی اور
Kiss me، Fuck me
کی گردان کیے جا رہی تھی۔ آخر مجھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آنا پڑا۔
کوئی اور بچہ آ جاتا تو مصیبت ہو جاتی۔ میرے سختی سے ڈانٹنے پروہ نہایت غصے میں باہرچلی گئی۔
اوہ! تو تم نے پولیس کو بتایا کیوں نہیں؟
وہ صرف گیارہ سال کی بچی تھی۔ محض گیارہ سال کی معصوم بچی۔ اسے شاید اِن لفظوں کا مطلب تک نہیں معلوم تھا۔
اوہ کم آن، مطلب نہیں معلوم تھا تو وہ تم سے اِس قسم کی گفتگو، میرامطلب ہے۔ کیا وہ وہائیٹ تھی؟
وہائیٹ، بلیک، ییلو، ریڈ، اٹ ہرٹس می۔ انسان کو رنگوں میں بانٹ کر ہم نے دھرتی پر بہت انتشار پھیلایا ہے۔ وہ ایک بچی تھی، محض ایک بچی۔ ۔
میرے پوچھنے کا مقصد تھا کہ۔ ۔
جانسن نے مجھے بات ختم کرنے نہیں دی۔
میں اُس وقت 21 سال کا تھا اور کینیڈا کی فضاؤں میں رہ کر بھی کنوارا تھا
”How ’s it possible؟ “ بغیر کسی وجہ کے میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
ممکن ہے۔ کم از کم میرے اور میری طرح کے دوسرے گھرانوں میں بالکل ممکن ہے۔ بہت سے نیٹو امریکنز آج بھی اپنے بزرگوں کے طور طریقوں پر چلتے ہیں۔ ہمارے گھر میں بُرائی اوراچھائی کا تصوّریہ تھا کہ گناہ کی سزا مرنے کے بعد نہیں بلکہ اس کے عذاب زمین پر ہی سہے جاتے ہیں۔ یہ عقیدہ میرے ذہن میں بھی پختہ تھا، بلکہ یوں سمجھو کہ اِسی فلسفے کے تحت ہماری زندگیاں گزرتی تھیں۔ میرے ہر دوست کی والدہ سے میری امی لازمی ملتی تھیں۔ انہیں کھانے پر مدعو کرتیں اور جس قدر ممکن ہوتا میری ہر نقل و حرکت پہ نظر رکھتیں۔ اب تو لگتا ہے کہ شاید ہم کسی اوردنیا کے باسی تھے۔ انہوں نے ہم سے ہماری دنیا چھین کر ہمیں ہماری اپنی نظروں میں اجنبی بنا دیا ہے۔
جانسن مجھے نہیں معلوم تمہارا مذہب کیا ہے اور کیا کہتا ہے۔ ہمارے مذہب کے ماننے والوں کا فلسفہ ہے کہ جب انسان کسی شدید ذہنی اُلجھن یا خلفشار میں مبتلا ہو تو اسے مذہب کی طرف یا خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ یکسوئی کے ساتھ معاملے یا مسئلے کو حل کرنے میں راہنمائی ملے۔
جانسن چند لمحوں کے لیے میری طرف دیکھتا رہا۔ پھر اپنی مخصوص مسکراہٹ سے قدرے تاکید کے سے انداز میں گردن ہلا کر بولا۔ مذہب؟ جس کا نام لے کر ہم پہ یہ تہذیب مسلط کی گئی ہے۔ ہم سے ہمارا مُلک چھینا گیا ہے؟ ہماری اقدارچھینی گئی ہیں وہ مذہب ہمیں کیا دے سکتا ہے؟ کوئی مذہب تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب کا ڈھونگ سکھاتا ہے۔ جن کے ذہنوں میں شعور یا آگہی کی بجائے مذہب کی کاشت کی جاتی ہے وہ فطرت اور خدا دونوں سے دورہوتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

