کارپوریٹ دنیا
ہمارا مذہب امن تھا۔ اور ہے۔ محبت ہے اور تھا۔ موسیقی میرا مذہب ہے۔ موسیقی ہم سب کا سانجھا، مگر بھولا ہوا مذہب ہے۔ ہم سب کا، ہم بد نصیبوں کاجو اپنے قاتلوں، رہزنوں اور لٹیروں کو ہیروماننے پہ مجبور ہیں۔ ہم جو ہمارے مُلک پہ قبضہ کرنے والوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے پر مجبور ہیں۔
یہ موسیقی ہمارے قبائل کا قدیم ترین مذہب ہے جس کی آہنگ اور لَے پہ پوری کائنات رقص میں ہے۔ مدھم مدھم رقص میں، ہمہ وقت رقص میں۔ یہ موسیقی کائنات کی رُوح ہے، زندگی کا مذہب ہے۔ باقی سب بدمعاشی ہے۔
جانسن نے بولتے بولتے۔ کیسٹ پلیئر کے قریب جا کر۔ چند بٹن گھمائے۔ ایک لمحے میں کمرے کی ساری فضا بدل گئی۔ ایک مدھم لَے تھی جو نہایت آہستگی سے بلند ہو رہی تھی۔ وہ اجنبی زبان کا کوئی گیت تھا یا سوزوغم میں ڈوبا ہوا نوحہ۔ ڈھولک کی تھاپ اور ہُو کی سی کُوک کے ساتھ ہوش و خرد سے بے گانہ کر دینے جیسا ایک نعرئہ مستانہ تھا، روح کو جھنجھوڑ دینے جیسا گیت۔ اس گونج اور چیخ کے ساتھ کمرے کی پوری فضا، پورا منظر بدل گیا تھا۔
جانسن نے مڑ کرکھڑکی کھولی اور اپنے دونوں ہاتھ، باہر کی طرف کھلنے والی کھڑکی پہ رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ چاند کا گولہ ایک چھوٹی سی چمکتی گیند کی طرح، کسی غیرمرئی تار کے سہارے اس کی کھڑکی کے درمیان ٹنگا معلوم ہو رہا تھا۔ جانسن کا وجود اس کی دونوں کُہنیوں کے درمیان اِیستادہ تھا۔ چند منٹوں تک وہ یونہی کھڑا رہا۔ گیت کی دُھن اور لَے بڑھتی جا رہی تھی، جیسے سارے ساز ایک ساتھ بین کر رہے ہوں۔
خنک ہواؤں نے پندرہویں فلور پر بنے اس خوشنما ڈبے میں برفیلے ریزے بھر دیے تھے۔ جانسن کا جسم وہیں کھڑے کھڑے لرزنے لگا۔ کیا پتھر بھی روتے ہیں؟ میں نے دیکھا، اچانک اس سیاہی مائل پتھر کے ترشے ہوئے بت میں کہیں موجود جوار بھاٹا پھوٹا اور آنکھوں کے رستے بہنے لگا۔ میرے لیے زیادہ دیر وہاں ٹھہرنا محال تھا۔ میں خاموشی سے باہر نکل آئی۔ اس رات میں سو نہ سکی۔
مجھے دمکتی سیاہ رنگت اور شعلہ سی بجھتی آنکھوں والے، تیسرے بلکہ چوتھے درجے کے ڈرے سہمے، مٹی سے خوراک ڈھونڈتے مردہ خور، آسمانی برساتوں سے پیدا ہونے والے خودرو پودوں اور پتیوں پر زندہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے، سندھ کے کولہی، میگھواڑ، بھیل، باگڑی، جوگی، رابڑی اور دراوڑ یاد آنے لگے۔ بلوچستان کے گمشدہ بلوچ بیٹوں کی بلکتی مائیں یاد آئیں، وہ بلوچ جنہیں طاقتوروں نے اقلیت میں تبدیل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ بے پناہ وسائل رکھنے والی سرائیکی دھرتی کے بھوک کے ہاتھوں بلکتے مجبورباسی یاد آئے جو اپنی کم مائیگی، غربت، دُکھوں اور ذِلتوں کے کنویں میں قید ہیں۔ دھرتی کے اصل مالک! نسل در نسل زندہ درگور، مرنے کے لیے زندہ۔ کہ ایک نہ ایک دن دُکھوں کے دن پورے ہوں گے۔
میرا اگلا دن بہت مصروف تھا۔ میں نوبجے گھر سے نکلی۔ بہت سے کام نپٹانے۔ ذہن میں یہی سوچ تھی کہ اتنی گمبھیر ملاقات کے بعد، چند دِنوں تک جانسن سے کوئی رابطہ نہیں کروں گی۔ وہ یقیننا سیلف پروسیسنگ کے مرحلے سے گزر رہا ہو گا۔ یا پھر اس
سے اس کتھارسس کے عمل سے گزر کر خود کو پُرسکون محسوس کررہا ہوگا۔ جانے کب کی سوچوں نے اس کے اندر بھانبھڑ مچا رکھا تھا۔ ان آگ کے شعلوں کو باہر نکلنے کا راستہ مِلا۔ چنگاری اور راکھ کا کھیل تو دیرپا ہوتا ہے۔ اس کی اذیت میں تو شاید ہر اہلِ نفس کو جلنا ہوتا ہے۔
تمام کام کوئی ساڑھے پانچ بجے کے قریب نپٹاتے، اسکوائرون سے ویسٹ کی طرف جانے والی بس نمبر 304 میں واپسی کے لیے بیٹھ گئی۔ گھر کے قریب واقع بس اسٹاپ اورہماری بلڈنگ کے درمیان صرف 300 قدموں کا فاصلہ تھا۔ ہاتھوں میں بیگ اور کاندھوں پہ شاپرز لٹکائے، میں بلڈنگ کے قریب پہنچی۔ فوب کی مدد سے دروازہ کھولا۔
لفٹ کی جانب جانے والی راہداری کا دروازہ خلافِ توقع کھلا ہوا تھا اور لفٹ کے عین سامنے ایک سٹریچر تھا، جسے پیرامیڈیکل کا عملہ دائیں طرف والے دروازے سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے بجائے لفٹ کا انتظار کرنے والی رو میں کھڑے ہونے کے، پیچھے جا کر لابی میں بیٹھنا مناسب سمجھا۔ بیٹھنے سے قبل ریسپشن پہ بیٹھی میگان سے میں نے سٹریچر کے بارے میں پوچھا۔
پندرہویں فلور پر رہنے والے جانسن نے خودکشی کر لی ہے۔ میگان نے اسی دھیمے لہجے میں بتایا جس دھیمے لہجے میں وہ مجھے پیزا والے کے آنے کی خبر دیا کرتی تھی۔
اوہ کب؟
پچھلی رات، شاید۔ یا آج صبح۔ یہ تو پوسٹ مارٹم کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
پچھلی رات۔ یا شاید آج صبح۔ میں سوچ میں پڑ گئی۔ میں خود کو متوقع پولیس تفتیش کے لیے تیار کرنے لگی۔ خواہ مخواہ آنسو اُمڈ آئے تھے۔ میری نظر میں زندگی کے عذاب سے چھٹکارا، ایک اور عذاب گھر میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔ ایمبولینس موت کا اعلان کرتی جا چکی تھی۔ بلڈنگ کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ لفٹ خالی ہو چکی تھی۔ ریسیپشنٹ نے فون کان سے لگایا ہوا تھا۔ دھوکے باز سرمایہ دارانہ نظام کی اسیر، مکمل اجنبیت اور بے گانگی کی کارپوریٹ دُنیا کے ایک حصے پر موجود سیکڑوں افراد کی رہائش گاہ والی بلڈنگ میں قبرستان کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔

