مریم نواز کی آزادی: ڈکٹیٹر مشرف اور موجودہ حکومت کا تقابل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، اور جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت جیل میں جرمِ بغاوت کی سزا بھگت رہے تھے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے کئی افراد جیل کی سلاخیں توڑ کر جدہ جا چکے تھے۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر بنائے گئے۔ راجہ ظفرالحق کو چیئرمین کا منصب سونپا گیا، دونوں اپنے اپنے رنگ میں اپنا اپنا نقش جمانے لگے۔ جاوید ہاشمی جلد ہی گرفتارِ بلا ہو گئے۔ وہ براہِ راست جنرل پرویز مشرف کی زد میں تھے، اور ان کے ساتھ ہمدردی یا تعلق کا اظہار موصوف کو ناگوار گزرتا تھا۔

انہی کے اقتدار کے دوران جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہ واردات لاہور کے ایک تھانے میں ہوئی، اور شنید یہ تھی کہ اس کی نگرانی ایک افسر کر رہے تھے۔ جنرل پرویز مشرف لاہور آئے تو گورنر ہاؤس میں میڈیا کے ارکان سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ مَیں نے اس جسمانی تشدد کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پہلے تو انہوں نے آئیں بائیں شائیں سے کام چلانے کی کوشش کی، لیکن میرے الفاظ اور جذبات کی شدت پر ان کے منہ سے نکل گیا: یہ بھی تو دیکھیں وہ کیا کر رہے تھے؟ اس طرح یہ راز آشکار ہو گیا کہ جنابِ صدر اپنی ”رعایا“ کے معاملات سے بے خبر نہیں ہیں۔ میرے الفاظ سے وہ بد مزہ تو ہوئے لیکن پھر معاملے کو سنبھال لیا، اور بات دوسرے موضوعات کی طرف مڑ گئی۔

جاوید ہاشمی کی بیٹی کی شادی ہو رہی تھی، لیکن وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ رات گئے خیال آیا کہ اگر اُنہیں رہا کر دیا جائے تو وہ اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کے لیے ملتان پہنچ سکتے ہیں، اور یوں باپ اور بیٹی کو آسودگی کے چند لمحات میسر آ سکتے ہیں۔ مَیں نے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو ٹیلی فون کر کے گزارش کی کہ اگر پیرول پر رہائی کا حکم جاری کر دیا جائے تو کل صبح لاہور سے روانہ ہو کر ملتان پہنچا جا سکتا ہے اور یوں ایک باپ اور بیٹی کو مسرت کے چند لمحات پیش کیے جا سکتے ہیں۔

چودھری صاحب نے پہلے تو اِس بات پر خفگی کا اظہار کیا کہ یہ خیال رات گئے کیوں سوجھا ہے؟ دفتری اوقات میں اگر ان کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی جاتی تو فیصلہ آسان ہوتا۔ وہ ایک طاقت ور وزیر اعلیٰ تھے، لیکن جاوید ہاشمی کو کوئی سہولت فراہم کرنے کے لیے جنرل پرویز مشرف کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری تھا، انہیں اندیشہ ہوا کہ تاخیر ہو چکی ہے، اب شاید صدر صاحب سے رابطہ ممکن نہ ہو پائے، اس کے باوجود انہوں نے انتظارکرنے کے لیے کہا۔

چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ ان کا فون آیا، جنرل پرویز مشرف کو وہ اعتماد میں لے چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کے پیرول پر رہائی کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، وہ علی الصبح لاہور سے روانہ ہو کر بآسانی دوپہر کو ملتان پہنچ کر اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں رخصت کر سکیں گے۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے وہ خود بھی مسرور تھے کہ اچھا جیسچر (Gesture) دکھانے کا موقع مل گیا کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، انہیں سیاست کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ چودھری صاحب اس حوالے سے پنجاب کی روایات کے بارے میں بڑے حساس تھے، اور ان کی پاسداری کا اہتمام کرگزرے تھے۔ ان کے اندر کا چودھری بھی ان کی بلائیں لے رہا تھا۔ انہوں نے پُر مسرت لہجے میں میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے خدا حافظ کہا۔

جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں لندن سے یہ خبر عام ہوئی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز، جو وہاں رہتے ہیں، ایک پیچیدہ اعصابی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ 2006 ء کے آغاز کی بات ہے۔ نواز شریف کو جدہ رہتے ہوئے پانچ سال ہو چکے تھے، اور کہا یہ جاتا تھا کہ انہیں دس سال تک وہیں رہنا ہے۔ ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کیا جا چکا تھا۔ جب حسن نواز کی بیماری کی خبر اسلام آباد پہنچی تو یہاں بھی ہل چل مچ گئی۔

جنرل پرویز مشرف نواز شریف کو اپنا حریفِ اول سمجھتے تھے۔ ان کا اقتدار ختم کر کے ہی موصوف نے اپنا جھنڈا گاڑا تھا۔ نام نہاد ہائی جیکنگ کیس بنوا کر اس میں عمر قید کی سزا دلوائی تھی۔ یہ اور بات کہ بعد ازاں حالات سے مجبور ہو کر انہیں سعودی عرب بھجوانا پڑ گیا۔ اس کے باوجود ان کے اندر کا انسان جاگا، اور انہوں نے نواز شریف صاحب کو لندن جانے کی اجازت دے دی۔ ان کا پاسپورٹ واپس کر دیا گیا، اور وہ اپنے بیمار بیٹے کی عیادت کے لیے سعودی عرب سے برطانیہ پہنچ گئے۔

آج جب مریم نواز کو ان کے بیمار والد کی عیادت کے لیے لندن جانے کی اجازت دینے کی بات ہوئی ہے تو اس پر تحریک انصاف کے وزیروں اور رہنماؤں کی طرف سے جس رد عمل کا اظہار ہوتا ہے، اس پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ دنیا اس سے واقف ہے کہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ دگرگوں ہے۔ حکومت کے اپنے بنائے ہوئے میڈیکل بورڈ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ یہاں کوئی ڈاکٹر ان کے علاج کی ذمہ داری اپنے سر لینے کو تیار نہیں تھا۔

حکومت نے اس پر بانڈ بھرنے کی شرط لگا کر جانے کی اجازت دی، تو عدالتِ عالیہ نے ایک حکم کے ذریعے دودھ میں ڈالی ہوئی مینگنیاں نکال دیں، اور وہ باعزت طور پر بیرون ملک جانے کے قابل ہوئے۔ مریم نواز ان کی صاحبزادی ہیں، اپنے والد کے ساتھ ان کی محبت اور کمٹ منٹ کے لیے کسی کو کوئی دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہیں، ان پر جو مقدمے قائم ہوئے، عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ وہ اپنے والد کی سیاست کی امین سمجھی جاتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اندر اور باہر اُنہیں اسی حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر وہ چند ماہ کے لیے بیرون ملک چلی جائیں اور اپنے والد کی دلجوئی کر پائیں تو اِس سے کون سی قیامت برپا ہو جائے گی؟ بدتمیزی کا ایک طوفان ہے جو اِس حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی سیاست ہوتی ہے۔ اسے داؤ پر لگانا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ مریم نواز کے بارے میں یہ سمجھنا کہ وہ ایک بار ملک سے باہر چلی گئیں تو پھر واپس نہیں آئیں گی، پاکستانی سیاست سے نا واقفیت کی دلیل ہے۔

یہ خود کشی کا راستہ ہو گا، اور ظاہر ہے وہ اس کا ارتکاب نہیں کر سکتیں۔ اگر وسیع الظرف لوگ اقتدار کی صفوں میں موجود ہوتے تو وہ فوراً آواز اٹھاتے کہ مریم نواز کو اپنے والد کے پاس بھجوا دیا جائے۔ سیاست میں ایک دوسرے کے خون سے پیاس بجھانے کے لیے جو بھی جتن کیے جائیں، ہم سب ایک ہی ملک کے شہری ہیں۔ ہمارا مرنا جینا ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ سیاست میں دوست اور دشمن بدلتے بھی دیر نہیں لگتی۔ عمران خان صاحب کے آج کئی حلیف ایسے ہیں، جنہیں ایک زمانے میں وہ اپنا جانی دشمن سمجھتے تھے، اسی طرح ان کے مخالفین میں ایسے افراد بھی شامل ہیں، جو کل انہیں مسیحا قرار دیتے تھے۔

انسانوں کے ساتھ انسان کے طور پر پیش آنا انسانی معاشروں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے مریم نواز کی درخواست عدالت میں زیر سماعت ہے، وہاں سے جو بھی فیصلہ آئے، وہ اپنی جگہ، لیکن اس تکلف میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے۔ حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی شہری کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ختم کر دے۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے ذریعے بنیادی حقوق کا مذاق بنانا کسی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔

یہ تو آمرانہ حکومتوں کے ہتھکنڈے ہیں، جو وہ استعمال کرتی رہی ہیں لیکن ان کا نتیجہ ان کے حق میں بھی کوئی اچھا برآمد نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ ہماری تاریخ کے اوراق پر سیاہ دھبوں کی صورت میں موجود ہے۔ ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ آزادیاں چھیننے والوں نے ہماری قومی ساکھ کو مجروح کرنے کے سوا کوئی اور کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ اربابِ حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز نہیں کرنا چاہیے جن سے تلخیاں کم ہوں۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دِل نہیں ہوتا، اگر اسے مان لیا جائے تو بھی سیاست دانوں کے سینے میں تو دِل بہرحال ہونا چاہیے، اور اسے اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتے رہنا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ پاکستان۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *