دو دنیاؤں کے درمیانی پل پر بھیانک حادثے کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مادام۔ میرا نام ماہم ہے۔ میں آج کل اردو سیکھ رہی ہوں۔ میری اردو ٹیچر نے مجھے آپ سے متعارف کرایا کہ آپ لکھتی ہیں۔ پردیس میں دیسیوں پر جو گزرتی ہے آپ کا موضوع رہا ہے۔ فیس بک پر آپ کو دیکھا۔ مسینجر پر رابطہ کر رہی ہوں۔ میں بھی اپنی کہانی سنانا اور شائع کرانا چاہتی ہو۔ میں اردو لکھ نہیں سکتی وائس مسیجز بھیجوں گی۔ آپ ٹھیک کر لیں گی نا؟

پورے دو مہینے ماہم کے قسطوں میں وایئس مسیجز ملے۔ کہانی میں تسلسل بھی نہیں تھا۔ میں نے ٹکڑے ترتیب سے جوڑ کر داستان لکھ دی۔ احتیاط کے طور پر نام، مقامات اور کچھ واقعات میں تبدیلی کی ہے جو بہت ضروری تھی۔ کہانی کا درد سنتے ہوئے اور پھر لکھتے ہوئے بھی محسوس ہوا۔

*** ***

گجرات کے نزدیک ایک گاؤں میں ہمارا گھر تھا۔ ابا کی پرچون کی دوکان تھی جو بس گھسٹ گھسٹ کر چلتی تھی۔ ایک بھینس بھی تھی۔ اماں سلائی بھی کر لیتی تھیں۔ بڑی بہنیں گھر کے کاموں میں مدد کرتیں۔ میں کچھ نکمی سی تھی۔ اسکول اور کھیل میں لگی رہتی۔

رعنا باجی امی کی رشتے میں بھانجی لگتی تھیں۔ وہ بیاہ کر ناروے چلی گیں۔ لیکن جب بھی پاکستان آتیں ہم سے ملنے ضرور آتیں۔ چاکلیٹ بھی لاتیں۔ مجھے وہ بہت اچھی لگتی تھیں۔ میں شاید نو یا دس سال کی تھی جب وہ اپنے دونوں بچوں کو لے کر ہم سے ملنے آئیں۔ اماں اور بہنیں ان کی مدارات میں لگ گئیں اور میں نے ان کے بچے سنبھال لیے۔ وہ بہت خوش ہویں۔

” کاش تو میرے ساتھ ناروے چلتی۔ چلے گی؟ میں تجھے خوب پڑھاؤں گی۔ کسی قابل بنا دوں گی۔ “

میں نے خوشی سے سر ہلا دیا۔ ”بس اب ماہم میری ہے خالہ جی۔ میں اسے اپنے ساتھ لے جاوں گی“ اماں نے بھی مسکراتے ہوئے رضامندی دے دی۔ سب نے اسے ایک وقتی جوش سمجھ کر اہمیت نہیں دی لیکن میرے دل و دماغ میں اب ناروے بس چکا تھا۔ رعنا باجی نے ناروے کی اتنی حسین تصویر کھینچی کہ دل مچل ہی گیا۔ سردیوں میں برف، گرمیوں میں سبزہ ہی سبزہ، پہاڑ، دریا، صاف پانی، تازہ ہوا اور اچھے لوگ۔ رعنا باجی نے جاتے ہوئے کئی نوٹ اماں کو پکڑا دیے۔

اگلے سال رعنا باجی پھر آیں اور اپنی بات دہرائی۔ ”خالہ میں نے الیاس سے بات کر لی ہے۔ آپ اس کا پاسپورٹ بنوایں میں اسے اپنے ساتھ ناروے لے جاوں گی“

اب بات ذرا سنجیدہ ہو گئی۔ اور اس پر غور ہونے لگا۔ مجھے ٹھیک سے تو نہیں پتہ کہ سارے معاملات کیسے طے ہوئے بس اتنا علم ہوا کہ میرا اور اماں کا پاسپورٹ بنا۔ رعنا باجی برابر فون پر رابطے میں رہتیں۔ انہوں نے ویزا بھی بھیجوا دیا۔ اگلے برس وہ اپنے میاں الیاس کے ساتھ آیں۔ اور واپسی پر مجھے اور اماں کو ساتھ لے گیں۔ اماں دو مہینے رہیں اور پھر اکیلی واپس لوٹ گیں۔ رعنا باجی اور بھائی الیاس نے اماں سے وعدہ کیا کی وہ ان کی مالی مدد کرتے رہیں گے اور مجھے اعلی تعلیم بھی دلوایں گے۔ اماں مطمین ہو کر چلی گیں۔

مجھے رعنا باجی کے گھر میں بہت مزا آرہا تھا۔ گھر بڑا تھا، کچن تو بہت ہی بڑا اور ماڈرن تھا۔

رعنا باجی صبح اٹھتیں ندا کو اسکول کے لئے تیار کرتیں پھر اسے چھوڑنے جاتیں۔ واپس آ کر وہ اور میں ناشتہ کرتے پھر وہ دوبارہ اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ ان کے میاں جنہیں میں بھا الیاس کہتی تھی اور رعنا باجی بڑے پیار سے انہیں یاسی کہتی تھیں۔ ان کا ایک اسٹور تھا جس میں حلال گوشت، سبزیاں، دال چاول، مصلحے وغیرہ مل جاتے تھے۔ وہ دس بجے اٹھتے۔ نہا دھو کر ناشتہ کرتے اور گیارہ بجے تک کام پر چلے جاتے۔ اس کے بعد میں اور رعنا باجی خوب مزے کرتے۔ ٹی وی پر پاکستانی اور انڈین چینل پرہم گھنٹوں پاکستانی ڈارامے یا بولی وڈ فلمیں دیکھتے۔ کبھی رعنا باجی گاڑی نکالتیں، اسد اور مجھے ساتھ لے کرشاپنگ پر جاتیں۔ انہوں نے میرے لئے نئے کپڑے بھی لئے ۔ جینز، پینٹس، ٹی شرٹس، سویئٹر، جیکٹس اور جوتے بھی۔ میرا ہر دن عید جیسا ہوتا۔ دوپہر کو رعنا باجی ندا کو اسکول سے لاتیں۔ ہم ہلکا سا لنچ کرتے اس کو بعد ہم پھر ٹی وی دیکھتے۔ پھر رات کے کھانے کی تیاری ہوتی۔ بھا الیاس آٹھ بجے تک آ جاتے۔ سب مل کر کھانا کھاتے۔ بھا الیاس نے نیچے بیسمنٹ میں اپنا ایک دفتر سا بنیا ہوا تھا وہاں حساب کتاب کرتے۔ ان کے دوست وغیرہ بھی آتے تو وہیں بیٹھتے۔ وہیں ایک ٹریڈ مل بھی تھی جس پر وہ واک کرتے اور کبھی کبھی رعنا باجی بھی۔ گھر کے سارے سودے بھا الیاس اپنے اسٹور سے لے آتے۔

رعنا باجی ککنگ بہت اچھی کرتیں۔ میں سیکھنے کے شوق میں ان کا ہاتھ بٹاتی رہی۔ کھانا میز پر لگانا پھر سمیٹنا میں شوق سے کرتی۔ رعنا باجی نے مشین میں کپڑے دھونے بھی سکھا دیے۔ میں ماہر ہو گئی۔ کپڑے دھو کر استری کرنا اور الماریوں میں رکھنا اب میں نے اپنے ذمہ لے لیا۔

گھر میں تین بیڈ روم تھے۔ بڑا تو رعنا باجی اور ان کے میاں کا تھا۔ ایک بچوں کا اور ایک مہمانوں کا۔ بچے رعنا باجی کے ساتھ ہی سوتے لیکن میں نے ندا کو اپنے ساتھ سلانا شروع کر دیا۔ اسے کہانیاں اور گانے سناتی۔ اس کے ساتھ کھلیتی اس کا بھی مجھ سے دل لگ گیا۔ ننھا اسد اب بھی ماں کے ساتھ سوتا۔ صبح رعنا باجی جب ندا کو اسکول چھوڑنے جاتیں تو اسد کو میرے حوالے کر جاتیں۔ رعنا باجی پابندی سے اماں کو فون کرتیں، میری بھی بات کراتیں۔ اماں ایک ہی بات دہراتیں ”اسکول شروع کردیا؟ دیکھ دل لگا کر پڑھنا اور کچھ بن جانا“

اسکول کی بات ہوتی تو رعنا باجی کہتیں ”دیکھ ماہم اب اسکول کا سال شروع ہو چکا ہے۔ اب داخلے نہیں ہوتے۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد نیا سال ہو گا تو داخل کرا دیں گے“ مجھے بھی کونسی جلدی تھی اسکول جانے کی۔ میرے دن تو مزے میں گزر رہے تھے۔ مجھے نہ گھر یاد آتا نہ گھر والے۔

چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں تو میرے اسکول جانے کا سوال پھر اٹھا۔

” ماہم میں نے یاسی سے بات کی تھی اسکول کے داخلے کی۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرے ویزا کا مسئلہ ہے وہ کب کا اکسپایئر ہو گیا ہے۔ “ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔

۔ ”تو اب یہاں غیر قانونی رہ رہی ہے۔ اسکول والے کاغذات منگتے ہیں۔ انہیں اگر بتائیں کہ تیرے پاس یہاں کا ویزا ہی نہیں ہے تو وہ پولیس کو خبر کر دیں گے اور پولیس تجھے واپس پاکستان بھیج دے گی“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *