گندہ پنجابی اور پراجیکٹ پٹھان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نسل پرستی، نفرت پر پلنے والی بیمار ذہنیت کا بدبودار اظہار ہے۔ اپنی قوم کے لئے بہتری، برابری اور خوشحالی مانگنا اور اس کے لئے کوشش کرنا قوم پرستی ہے۔ جس کی بنیاد پر یہ ملک بنا ہے۔ لیکن اپنے آپ کو اپنے کسی ظاہری وجہ یا تصوراتی خوبی کی بنا پر دوسروں سے برتر سمجھنا اور دوسری قوم کو تمسخر، استہزا اور نفرت کا نشانہ بنانا، اس کی تاریخ، روایات اور طرز زندگی کو مسخ کر کے پیش کرنا، اور محض اس لئے کہ وہ آپ سے مختلف ہے، کسی بھی سطح پر اس کا استحصال کرنا، نسل پرستی ہے۔

چند دنوں پہلے محسن داوڑ کی کسی تقریر سے ”گندہ پنجابی“ اخذ کر کے اچھے خاصے دانشور دوستوں نے جواب در جواب کا ایک طوفان برپا کردیا تھا۔ میں محسن داوڑ کا وکیل صفائی نہیں۔ لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی میں مذکورہ تقریر کو ڈھونڈھ نہیں سکا۔ میں نے اپنے تین دانشور پنجابی بلاگرز دوستوں اور دو یوٹیوبروں سے مذکورہ تقریر کے لنک بھی مانگے لیکن کوئی لنک ملا نہ جواب۔ صرف ایک دوست نے بتایا کہ اس نے پوسٹ کہیں سے کاپی کی تھی۔ تلاش کے باوجود جب ان الفاظ کی تصدیق نہیں ہوسکی تو ڈیلیٹ کر دی۔

اگر محسن داوڑ نے واقعی ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو قابل مذمت تھے۔ (اب تو اس نے تردید بھی کر دی) یہ سچ ہے کہ ماضی میں ان کے جلسوں میں کچھ نسل پرستانہ نعرے لگتے تھے لیکن اب سننے میں نہیں آرہے ہیں۔ جن کی میں نے ہمیشہ مذمت کی ہے۔

گذشتہ دنوں اسلام آباد میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے میں، بڑی مدت کے بعد، پختون اور پنجابی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مل کر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے ایک ساتھ آواز اٹھائی۔ جس کی پاداش میں پختون اور پنجابی مظاہرین کو بلاتفریق پکڑ کر ان پر غداری کے مقدمات قائم کیے گئے۔ جس کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں قانون کے کوڑے دان میں ڈال دیا۔

ریاست کے کارپردازوں کی انگریزی حکمت عملی یعنی لڑاؤ اور حکومت کرو، ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے وطن عزیز میں مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی بجائے خلیج بڑھائی جارہی ہے۔ ایک صوبہ دوسرے کو غدار اور دوسرا پہلے کو غاصب کہتا ہے۔ اور یوں، “تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں”۔

جس احتجاجی مظاہرے میں پختونخوا کے محسن داوڑ کے ساتھ پنجاب کے حبیب جالب، عاصمہ جہانگیر اور فیض گرفتار ہوئے تھے، اسی مظاہرے کے بارے میں دیے گئے ایک وضاحتی بیان سے ایسے نسل پرستانہ الفاظ نکالنا سامری کا کمال ہے۔ جس کو سوشل میڈیا کے غیر سوشل حلقوں کے ذریعے دم بھر میں پھیلادیا گیا۔ پولیس کانسٹیبل نے دوران ڈیوٹی، مذہبی اور سیاسی نعرہ بازی کر کے پولیس قواعد کی خلاف ورزی کی، اس سے پوچھ گچھ کرنے کی بجائے عوامی نمائندے سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔

ایک ایسے مظاہرے میں، جس میں پنجاب کے بیٹوں پر پختونوں کے لئے آواز اٹھانے کی پاداش میں غداری کے تہمت لگے، جس کی وجہ سے پختونوں اور پنجابیوں کے درمیان موجود تعصبات کا سمندر ایک لمحے میں پاٹا گیا، باشعور پنجابی نوجوانوں نے پختونوں کی خاطر غداری کے تمغے فخر سے سینوں پر سجا کر نفرت انگیز پروپیگنڈے کے ابولہول کو ایک ضرب خلیلی سے تہس نہس کیا، تو نسل پرست پروپیگنڈے کی توپیں سرحد پر نصب کی گئیں۔ یقین کریں انسانی حقوق، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے آواز اٹھانے والے پنجابیوں کی تعداد جتنی بڑھے گی، پاکستان اتنا ہی مضبوط ہو گا۔

”گندہ پنجابی“ کے الفاظ جتنے گندے ہیں، پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جانے والا، نسوار تھوکنے والا، بندروں جیسی حرکات کرنے والا، غلط سلط اردو بولنے والا اور پرائی کوٹھیوں کی چوکیداری کرنے والا پختون کا کردار تخلیق کرنا بھی گندہ ہے۔ ”گندہ پنجابی“ ایک فرضی پروپیگنڈہ کہانی تھی جو مجھ سمیت سب کو بری لگی۔ تو پوری قوم کو نسوار کی نشئی، چوکیدار اور دہشت گرد بنا کر پیش کرنا کسی کو برا نہیں لگتا؟ کیا نسل پرستی کچھ اور ہوتی ہے؟

میں نے زندگی بھر پشتو زبان کی فلم یا ڈرامے میں پنجابی قوم، کلچر یا زبان کی تضحیک نہیں دیکھی۔ پشتو زبان کی کلاسیک فلم جوارگر، طاقتور طبقے کے ستائے ہوئے انسانوں کی کہانی ہے۔ جو پولیس کے ڈر سے مفرور ہوکر ایک غار میں رہتے ہیں۔ ایک ساتھی سب کی تعارف کراتے ہوئے ایک ہاتھ سے معذور ایک مفرور کے بارے میں کہتا ہے، کہ ”یہ بہت بہادر اور غیرت مند پنجابی نوجوان ہے۔ دشمن کی ظلم سے تنگ آکر ہمارے پاس آیا ہے“ فلم کے اختتام پر اسے بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ بھارت کی فلم کا نام ”مائی نیم از خان آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ“ ہوتا ہے لیکن پاکستانی فلم میں پختون ٹیررسٹ ہوتا ہے۔

پاکستان میں پختون اور سکھ کو مختلف اظہاریوں کے ذریعے عموماً تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اوّل الذکر کے ساتھ نسلی تعصب اور آخرالذکر کے ساتھ محض مذہبی بنیاد پر ایسا کیا جاتا ہے۔ جبکہ سکھ خود بھی نسلاً پنجابی ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان پنجابی تو عقلمند ہو اور سکھ پنجابی بیوقوف؟

کچھ لوگ، ملک کی مختلف اقوام کے درمیان بھائی چارے اور ہم آہنگی کے علاوہ، چوالیس اعشاریہ سات فیصد پنجابیوں (وکیپیڈیا) کی زبان اور چودہ فیصد پختونوں کی شناخت کو بھی اس ملک کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے پوری کوشش کرتے ہیں کہ پنجابیوں کی زبان اور پختونوں کی شناخت کو مختلف طریقوں سے ختم کرے۔ پنجابی زبان کو کن طریقوں سے نابود کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ البتہ پختونوں کی شناخت مٹانے کے بارے میں یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔

لفظ پختون اور پشتون میں فرق صرف پشاوری اور قندھاری تلفظ میں پشتو لفظ (ښ) کی ادائیگی کا مسئلہ ہے۔ ورنہ دونوں الفاظ ہم معنی اور صحیح ہیں۔

پختون ایک وقت میں پورے برصغیر کے باشندے، بادشاہ اور اختیار مند تھے۔ صرف افغانستان یا آج کی طرح پختونخوا تک محدود نہیں تھے۔ پختون بھی انگریزوں، فرانسیسیوں، ولندیزیوں اور ہسپانویوں کی طرح اپنے علاقوں سے نکل کر سلطنتوں کے مالک بنے۔ اس دوران جب یہ وسطی اور جنوبی ہندوستان میں پہنچے تو اپنی پہچان، پختون کے اسم جمع پختانہ کے نام سے کروائی۔ ان علاقوں کے باشندے حرف ’خ‘ کا تلفظ حرف ’ک‘ سے تبدیل کرتے ہیں۔ (جو ہندی فلموں میں خدا کی بجائے کھدا اور خود بخود کی بجائے کھود بکھود سنائی دیتا ہے ) اس لیے ان لوگوں نے پختانہ لفظ کا تلفظ اپنے مخصوص لہجے میں پکھتانہ کرنا شروع کیا۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ ک، حذف ہونے کی وجہ سے پتھانہ پتھان اور پھر انگریزی اثرات کی وجہ سے پٹھان بولا اور لکھا جانے لگا۔

ہندوستان سے متصل پختونوں کا علاقہ قبضہ کرنے کے بعد، اس علاقے کے باشندوں کو نئی شناخت دینے اور اپنی قوم، قبیلے اور ماضی سے کاٹنے کی غرض سے غلط العام اور دشمن کے دیے گئے نام پٹھان کو ایک منصوبے کے تحت کتب اخبارات اور سرکاری طور پر انگریز نے مشہور اور مقبول بنانے پر توجہ دی۔ پاکستان بن جانے کے بعد سرکاری پیسوں سے پختون دشمن انگریز افسر اولف کیرو، سے مخصوص مقاصد کے تحت ایک نیم تاریخی کتاب لکھوائی گئی۔ جس کا نام اسی پٹھان پروجیکٹ کے تحت ’دی پٹھان‘ رکھا گیا۔

اس کتاب کے مصنف اور سرکاری منطق کے مطابق پاکستان میں رہنے والے پختون پٹھان ہیں۔ جبکہ بارڈر کے پار رہنے والے افغان ہیں۔ یہی پٹھان نام اب اتنا زبان زد عام ہو گیا ہے کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ پختون بھی خود کو پٹھان کہلواتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے پختونخوا سے باہر بہت کم پختون خود کو پختون کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری اقوام میں لفظ پٹھان ایک برائی کا نام سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ درحقیقت لفظ پٹھان، افریقی امریکیوں کو سفید فام امریکیوں کی طرف سے نفرت کے اظہار کے طور پر کہا جانے والے نام nigger کے برابر حقارت آمیز (derogatory) نام ہے۔

جو پختونوں نے بھی کم علمی کی بنا پر اپنایا ہوا ہے۔ اگر پختون بلوچ کو بلوچ سندھی کو سندھی اور پنجابی کو پنجابی کہتے ہیں تو پختون کو بھی اس کے قومی، ذاتی، عزت والے نام سے پکارا جانا چاہیے۔ جب بھی کسی شخص کو اہمیت نہیں دی جاتی یا توہین کرنا مقصود ہو تو اس کو اپنی مرضی کا نام دیا جاتاہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے پختون کسی مخصوص سال میں مارکیٹ میں آنے والی گاڑی ہے جیسے کرولا، ایکس ایل آئی، یعنی خان پٹھان، جس کا ان کا اپنا کوئی ذاتی نام نہیں، بس ماڈل ہے۔

انگریز کے چلے جانے کے بعد پٹھان پراجیکٹ کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے علاقے کو این ڈبلیو ایف پی کے بے مقصد سمتوں والے نام سے موسوم کیا گیا۔ جبکہ باقی صوبے بھی تو کسی نہ کسی سمت میں موجود تھے۔ لیکن ان کو قومی ناموں سے پکارا گیا۔

قوم پرست سیاسی جماعت اے این پی نے اس مسئلے کو سمجھا اس لیے عشروں پر محیط ایک بھرپور مہم چلائی۔ یوں سرکار نے این ڈبلیو ایف پی، خیبر پختونخوا میں تبدیل ہوا۔ ”خیبر پختونخوا“ اپنے مشکل، نامانوس تلفظ اور ادائیگی کی بنا پر پراجیکٹ پٹھان والوں نے بڑے غور و فکر کے بعد منتخب کیا تھا۔ اس لیے کہ پراجیکٹ پٹھان، ختم نہیں ہوا تھا۔ ملک کے کسی بھی اخبار، ٹی وی ریڈیو، سرکاری تقریب اور تقریر میں پختون کی شناخت مٹانے کی خاطر پختونخوا کا لفظ ادا نہیں کیا جاتا۔ پختون کو سندھی بلوچ کے ساتھ لپیٹ کر پٹھان کہا جاتا ہے اور پختونخوا کو کے پی کے۔ جبکہ پختونخوا کے لفظ میں دوسرا کے ہے ہی نہیں۔ چند دنوں پہلے ایک صحافی دوست کو اس کی اخباری رپورٹ میں لفظ کے پی کے، کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائی تو اس نے کہا ایسا ہی لکھنے کا حکم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *