کم سنی کی شادی اور اسلام


مگر جب کوئی قوم انسانیت سے رشتہ توڑ لیتی ہے، پھر اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ جس گناہ کو اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے جائز بنانے جارہی ہے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے وہ انسانوں سے اپنا رشتہ توڑ لے، شرم و حیا جو بنی نوع انساں کے خاص زیورات اور خصوصیات ہیں اس قبا کو تار تار کردیا جائے، بعد ازاں ایسا کرنے والی قوم ازخود حیوان بن جاتی ہے اور حیوانوں کو شرمانا یا اسے گناہ سمجھ کر اپنے نفس پرلعنت ملامت کرنا کیسا۔

غالباً گناہ کی اسی لت کو ساری دنیا میں عام کرنے کے لیے مغرب اور اس کے پرستاروں نے بسا اوقات ناگزیر ہوجانے والی کم عمری کی شادی کو بھی حرام باور کرادیا ہے۔ لہٰذایہ بارہ سالہ بچی اگر ”شادی“ کے نتیجے میں ماں بنتی تو برطانوی باشندوں کے ہاں یہ ”ناجائز“ ہوتا۔ حمل کے وقت یہ بچی ظاہر ہے صرف گیارہ برس چند ماہ کی تھی اور اس کا بوائے فرینڈ بارہ برس کا۔ یہ کمسن مرد اور عورت کسی ”نکاح“ کے نتیجے میں جنسی تعلقات قائم کرتے تو یقینی طور پر قانون اور سماج کی زد میں آتے اور ان کا یہ تعلق قطعی ”ناجائز“ قرار پاتا۔

جس پر ’جدید اقدار‘ پر ایمان رکھنے والا برطانوی معاشرہ بلاتاخیر حرکت میں آ جاتا اور اس گھر کے بزرگوں کو جیل میں داخل کردیتا، لیکن چونکہ انہوں نے ”نکاح“ ایسا کوئی گناہ نہیں کیا، اس لیے گیارہ سال کی اِس بچی اور بارہ سال کے اِس بچے کا تعلق جائز ٹھہرا اور اس کے نتیجے میں اولاد کا پیدا ہونا بھی قطعی ناقابل اعتراض۔ رپورٹ کا کہنا ہے ننھے والدین اپنی اس کارگزاری پر بے حد خوش ہیں اور مل کر اپنی بچی کی پرورش کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لوگوں کو تعجب ہے تو ان کی کمسنی پر نہ کہ کسی ’اور‘ بات پر۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے، تصور کیجئے! کہ اگرخبر یہ آتی کہ مسلم ممالک کے کسی پسماندہ سے شہریا دیہی علاقہ کے بدو گھرانے میں ’کمسنی‘ کی شادی کے نتیجے میں ایک لڑکی 12 سال کی عمر میں ماں بن گئی جس کا شوہر ابھی صرف 13 سال کا ہے۔ تو کیا خیال ہے یہاں ’انسانیت‘ کے ہمدرد کیسے کیسے مروڑ کا شکار ہوتے۔ یہ واقعہ اگر کسی ”نکاح“ کے نتیجے میں پیش آگیا ہوتا تو لبرل میڈیا کی چیخ سے دنیا کیسے لرزتی، لیکن برطانیہ میں رونما ہونے والے واقعہ پر ظاہر ہے کوئی ایسا شور نہیں اٹھا۔ ’جدید انسان‘ کو دنیابھر میں اس سے جس قدر غش پڑے، وہ ہم نے دیکھ لیے، ظاہر ہے یہ کوئی ایسی خبر نہیں تھی جس پر کچھ بے تابی کا اظہار یاواویلا کیا جا تا، اس واقعہ پر تعجب ہونا چاہیے تو محض ’بیالوجی‘ کی نظر سے، ”سماجیا ت، اوراخلاقیات کی نظر سے بھلا اس میں کیا انہونی بات ہے؟

تو کیا کسی کو اندازہ ہوا کہ ’کمسنی کی شادی‘ پر پچھلے دنوں ہمارے ہاں جو درد پھوٹ پھوٹ کر آتا رہتا ہے اور اس کے لیے مذہب اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے راستے نکالے جاتے ہیں اور یہ سب اس لیے انجام دیا جاتاہے کہ مذہب فطرت کے ذریعہ کھولے گئے صرف اور صرف حلال کے دروازے بند کروانا ہی مغرب اور اس کے ذہنی وفکری غلاموں اور حیاسوز طاقتوں کا اصل ہدف اور مقصود ہے۔ ۔ ۔ جی ہاں حلال کے دروازے بند ہوں گے تو حرام کے دروازے خودبخود کھلیں گے، کیونکہ انسانی خواہش اور ہارمونز کوبڑھنے سے آپ بیڑیاں ڈال کر نہیں روک سکتے۔

جب آپ ”حلال“ پر قانونی یا ’اخلاقی‘ بیڑیاں ڈالیں گے تو وہ ہارمونز حرام ذریعے سے خودبخود اپنا راستہ بنالیں گے اور کمسنی کی حرام کاری کے واقعات بکثرت ہوں گے۔ طرفہ یہ کہ خود مغرب پرستوں کا یہ کہنا ہے کہ ہارمونز پر اپنا طبعی عمل کرنے کے معاملے میں پابندی لگانا غلط ہے، مگر وہ یہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے ہاں حرام کا راستہ کھلا ہے۔ اپنے ان ’علمائے کرام‘ کو بھی کاش کوئی جا کر بتائے کہ جس کمسنی کی شادی کے خلاف پچھلے دنوں دلائل کے ڈھیر لگائے جارہے تھے، دراصل وہ آپ کے یہاں ایک حرام راستہ کھولنے کا انتظام تھا۔ شاید برطانیہ کا یہ واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے ہوا ہو کہ ’کمسنی کی شادی‘ ممنوع ٹھہرانا، درحقیقت کس قسم کے معاشرے کی تشکیل کرنے جارہا ہے۔

اگر اسلام سے ہٹ کر دیگر مذاہب اور معاشرے میں دیکھا جائے تو کم سنی کی شادی کی رسم کسی نہ کسی شکل اور پیرا یے میں ہرجگہ پائی جاتی ہے۔ مولا نامرحوم نے اس کتاب کی ابتدا کرتے ہوئے جو اس کتا ب کے لکھنے بنیادی مقصد بھی ہے، لکھا ہے کہ

ہندوستان کے سماجی مسائل میں کمسنی کی شادی کا مسئلہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستانی سماجیات کا یہ دلچسپ موضوع ہے اور ایسا ہی پیچیدہ بھی ہے۔ بچپنے کی شادی کا رواج یہاں زیادہ پسماندہ ہندو سوسائٹی اور ہند و قوم کی نیچی برادریوں میں ہے۔ جہاں لڑکی اور لڑکے چار سال پورا کر تے ہی ایک سال پیٹ کا جوڑ کر، پانچ سال کی فرضی عمر میں کمسن لڑکی اور لڑ کے کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔

(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ 5 )

مولانا سلطان احمد اصلاحی نے یہاں اپنی علمی عبقریت اور فراست ایمانی کاثبوت ہوئے اس قبیح رسم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہند وستا ن کے برہمنیت زدہ سماج میں یہاں کے کمزور، غر یب اور پچھڑے طبقات کے استحصال کا یہ ایک بڑ ا مؤ ثر اور کارگر ذریعہ رہا ہے۔ اور طبقا تی نظام کے نا خداؤ ں نے اس سے بھرپور طریقے پر فائدہ اٹھا یا ہے۔ اس لئے کہ اس طرح وقت سے پہلے شاد ی کے جھمیلو ں میں پھنسنے کا مطلب تھا کہ سماجی اور معاشی ترقی اور اٹھا ن کے امکانا ت کو ختم کر کے یہ طبقات ہمیشہ کے لیے پسماند گی اور پست حالی کو اپنا مقدر بنالیں اور ان کی نسلوں کی نسلیں اعلیٰ طبقہ کی غلامی اور چاکری کے دام میں گر فتا ر رہیں۔

(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ 5 تا 6 )

ہندوستان میں اکثریتی طبقہ کے زیر اثریہ معاشرتی برائی مسلمانوں میں بھی ملتی ہے۔ مگر خیال رہے کہ مذہب اسلام نے کم عمری کی شادی کی رخصت ضرور دی ہے۔ مگراس کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے، اس لیے اس شاذ عمل کو وقت وحالات کی جبریت اور ضرورت پر موقو ف رکھا ہے۔ ان ساری حد بندیوں کے باوجود تعلیم کے اوسط میں بھیانک کمی کی شکار قوم شادی کے تعلق سے بھی مذہبی تعلیمات سے کماحقہ آگاہ نہیں ہوسکی اور کم سنی کی شادی کا فیصد ان کے یہاں بھی بڑھتا چلا گیا۔ اس حوالے سے 12 ستمبر 2014 کو عالمی ادارہ یونیسف کی جانب سے ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جو ہندوستان کے لیے بے حد چونکا دینے والی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کی کل آبادی میں سے تقریباً نصف کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ خطے میں اب بھی دس لاکھ سے زائد نومولود صحت کی ناقص صورتحال کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یونیسیف ساؤتھ ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر کرین ہلشوف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں زچگی یا بچوں کی پیدائش کے حوالے سے جنوبی ایشیا خطرناک ترین خطہ ہے جہاں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ نومولود کی اموات ہوتی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق بہت بچیوں کو جنس کا معلوم ہونے پر پیدائش سے قبل ہی قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

One thought on “کم سنی کی شادی اور اسلام

  • 23/12/2021 at 4:20 شام
    Permalink

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    کم سنی کی شادی اور اسلام ۔۔ یہ کتاب جس کے آپ نے حوالے دیے ہیں کس کتب خانے یا سئٹ سے مل سکتی ہے؟
    کافی تحقیق کے بعد بھی یہ کتاب مجھے نہیں ملی؟

Comments are closed.