اس وقت ہندوستان، پوری دنیا کا سب سے بڑا، کم عمر جوانوں کا دیش ہے۔ اس کی 65 فی صد آبادی، 35 سال سے کم عمر ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہو گا کہ ہندوستان اس وقت نو جوانوں سے بھرا ہوا ہے، جسے کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے اور نو جوانوں کی اسی عددی کثرت کی طاقت کے سہارے، ہندوستان سال 2020ء کے اختتام تک دنیا کا معاشی سپر پاور بننا چاہتا ہے۔ یقیناً کسی بھی ملک کی آبادی کا پینسٹھ فی صد حصہ جب 35 برس سے کم عمر کے جوانوں کا ہو، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے نو جوانوں کی طاقت، ان کی ذہانت و فطانت اور فکر کی بلند پروازی کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کرے کہ اپنے نو جوانوں کی محنت و مشقت اور مستعدی و تندی کو بروئے کار لا کر، وہ ملک معاشی ذخیرہ اندوزی میں ساری دنیا کو مات دیدے گا۔ لیکن ہمارا نو جوان طبقہ جس قسم کی صورت احوال سے نبرد آزما ہے، اسے پیش نظر رکھتے ہوئے نو جوانوں کی عددی قوت کی بنیاد پر معاشی ترقی پا لینے کے حکومت کے دعوے پر ہنسی آتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے نو جوانوں کے سہارے مادی ترقی کی سیڑھیوں پر تیزی کے ساتھ اوپر چڑھ کر ساری دنیا کو پچھاڑ دے گا۔
اس اندیشے کے متعدد محرکات اور اسباب ہیں، جو حکومت کے دعویٰ کو بے معنی اور جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ سب سے پہلے نو جوانوں کی اکثریت کا بے روزگار ہونا اور حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع بہم پہنچانے کی بجائے ان کے جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں جرائم پیشہ اور قاتل بنانا ہے۔ اس وقت ملک میں جو حالات ہیں وہ یہی شہادت پیش کرتے ہیں کہ بے روزگار نو جوانوں کے ہاتھوں میں کام دینے کی بجائے ان کے اندر فرقہ واریت کے جراثیم ڈال کر انہیں دنگائی بنایا جا رہا ہے۔
Read more