کم سنی کی شادی اور اسلام


سعودی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الحدیثی نے کہا کہ وزارت انصاف اس وقت شادی کی کم سے کم عمر مقرر کرنے کا جائزہ لے رہی ہے لیکن خود کونسل نے اس معاملے پر غور نہیں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر مقررکرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن بعد میں یہ تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیس بن محمد آل الشیخ کا کہنا تھا کہ کم عمر میں لڑکی کی شادی بعض اوقات بہتر رہتی ہے اور والدین اس کو لڑکی کے مفاد میں خیال کرتے ہیں۔ مگر ایساشاذ اور اکا دکا حالات میں ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ تاہم عرب علماء کا یہ رخ اب واضح ہو چکا ہے کہ وہاں بھی شادی کے لیے عمر متعین کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا جانے لگا ہے۔

مذکورہ بالا رپورٹوں اور تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کم عمری کی شادی با لخصوص لڑ کیوں کے لیے قاتل اور ان کی زندگیوں کو تباہ کردینے والی ہے۔ مولا نا سلطان احمد مرحوم کم عمری کی شادی کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے طبی مفاسدپر روشنی ڈالتے ہیں۔

سب سے زیادہ تو اس کا نقصان کمسن لڑکی کے لیے جسمانی اور طبی لحاظ سے ہے۔ ا س لیے کہ جدید طبی تحقیقات سے ثابت ہے کہ لڑ کی کے بدن کا نشوو نما اٹھارہ برس کی عمر تک ہوتا رہتا ہے۔ وہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں جوان ضرور دکھا ئی دیتی ہے، لیکن رحم اور بیضہ دانی کی نشوو نما اٹھارہ برس تک ہوتی رہتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لڑکی اگراٹھارہ برس سے کم عمر میں ماں بن جا ئے تو اس کو درج ذیل نقصان پہنچتے ہیں۔

( 1 ) لڑکی کے بدن کی نشونما رک جاتی ہے۔

( 2 ) چونکہ اٹھارہ برس کی عمر میں رحم اور بچہ دانی جیسے بچہ جننے کے کچھ اعضاء کی نشو و نما مکمل نہیں ہوتی اس سے حمل اکثر گر جاتا ہے۔ ماں بننے میں دقتیں پیش آ تی ہیں۔

( 3 ) پیڑو کی نشوو نما اٹھارہ سال سے پہلے مکمل نہیں ہوپا تی، اس لیے بچہ کا سر بڑا ہوسکتا ہے۔ بچہ جننے میں رکاوٹ سے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے مثانے اور اوجھڑی میں کمزوری آ جا تی ہے۔

( 4 ) کم عمری میں مجامعت سے رحم کے دہانے میں کینسر کے امکان بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ ہندوستانی عورتوں میں یہ کینسر کی بڑی وجہ ہے۔

( 5 ) اس طرح کی شادی کی صورت میں عام طور پر حمل بہت جلد ٹھہر جاتا ہے، جس سے عورت کی صحت برباد ہوجاتی ہے اور وقت سے پہلے اس پر بڑھا پا طاری ہوجاتا ہے۔

(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ 30 تا 32 )

آخر میں اجمالاًعرض ہے کہ اس تحریر میں ان تمام سوالات کا حل ڈھونڈنے کی باکمال کوشش کی گئی ہے جو کم عمری کی شادی کے سلسلے میں اٹھا ئے جا تے ہیں۔ مثلاً عورت کیا ہوتی ہے؟ عورت کی زندگی کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ صرف اتنا کہ وہ جوانی کو پہنچے تو شادی ہوجائے؟ کیا لڑکی کی زیادہ پڑھنے کی خواہش اس کی شادی میں رکاوٹ ہوتی ہے؟ ایک لڑکی کی شادی کس عمر میں ہو جانی چاہیے؟ کیا وقت پر شادی ہو جانا عورت کی صحت مند زندگی کی ضمانت ہوتا ہے؟

لڑکی کی صحت کتنی ضروری ہوتی ہے؟ اچھی صحت کی شناخت کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ بس یہ کہ لڑکی لمبی، چاق و چوبند ہو؟ بجلی کی طرح پھرتیلی؟ کیا مرد کا عورت سے شادی کرنا صرف اولاد کے حصول کے لیے ہوتا ہے؟ اگر مرد کی عمر زیادہ ہے اور لڑکی کی کم تو کیا یہ لڑکی کا قصور ہے کہ وہ ہر سال نیا مہمان گھر لائے؟ کچھ افراد عورت کو صرف مشین سمجھتے ہیں جو ان کی مرضی سے بچے پیدا کرے، کیونکہ اچھی بیوی وہ ہی ہوتی ہے جو شوہر کا ہر حکم بجا لائے، کیا عورت کو شوہر کی ہر بات ماننی چاہیے؟

اگر ایک عورت کو نظر آ رہا ہے کہ اس کا شوہر انتہائی لاپرواہ ہے جسے نہ گھر سے کوئی مطلب ہے نہ بچوں سے، وہ صرف کماتا ہے اور گھر آ کر سو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا عورت اپنے سلسلے میں کچھ فیصلہ لے سکتی ہے۔ ایک عورت کسی کی ملکیت یا کسی کی بیوی ہی نہیں ہوتی، وہ کسی کی بیٹی بھی ہوتی ہے، اس کے ماں باپ نے اسے پال پوس کر بڑا کیا ہوتا ہے، لڑکیوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی ہر بات اور ہر خواہش پر سر تسلیم خم نہ کریں، اپنی صحت پر بھی ذرا نظر رکھیں کہ وہ پال سکتی بھی ہیں یا نہیں، ہر سال آنے والے نئے مہمان کو اور اس شوہر کو جو ہر مسئلے کا حل اپنی بیگم کو ہی سمجھتا ہے۔

برصغیر میں نہ جانے کتنی خواتین غذائی قلت کے باعث موت کو منہ لگا لیتی ہیں، اگر آپ کی صحت اور وسائل اس نوعیت کے ہیں کہ آپ بچوں اور اپنی، دونوں کی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں، کھلانے کو کھانا اور پہنانے کو کپڑے ہیں، گھر والے آپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں، آپ سے اور آپ کے بچوں کا خیال رکھنے کا درد ہے تو ضرور پیدا کریں۔ مگر صحت کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ آپ کی صحت ہوگی تو ہی آپ بچے پال سکیں گی، آپ کی زندگی کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا نہیں ہے، ایک ماں کو بچوں کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، اچھا ہمدرد شوہر چاہیے ہوتا ہے، جسے بحیثیت شوہر اپنی ذمے داریوں کا احساس ہو، اگر آپ کا شوہر اس قابل نہیں تو اپنے وجود اور بچوں کے مستقبل پر رحم فرمائیے، شادی سزا نہیں ہوتی اور شوہر حاکم اور آپ ملازم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاں بس یہی رجحان پایا جاتا ہے کہ بس جلدی جلدی بچے ہوں گے تو ایک ساتھ بڑے ہوجائیں گے، ماں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔

یہ نہیں سوچتے کہ ہر بچہ الگ توجہ مانگتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ سب بچوں کو ایک ساتھ بھوک لگے، نیند آئے، سارے ایک ساتھ کھیلیں اور ایک ساتھ نیند لیں۔ اس مختصر سی کتاب کے سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کم سنی کی شادی کے تعلق سے اٹھنے والے سبھی اعتراضات کا اس کتاب میں بحسن وخوبی جواب پیش کردیا گیا ہے، یعنی مولانا نے کوزے میں سمندر کو سمونے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

One thought on “کم سنی کی شادی اور اسلام

  • 23/12/2021 at 4:20 شام
    Permalink

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    کم سنی کی شادی اور اسلام ۔۔ یہ کتاب جس کے آپ نے حوالے دیے ہیں کس کتب خانے یا سئٹ سے مل سکتی ہے؟
    کافی تحقیق کے بعد بھی یہ کتاب مجھے نہیں ملی؟

Comments are closed.