کم سنی کی شادی اور اسلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا سلطان احمد اصلاحی ایک بے باک، مخلص، صاحب طرز اور دور اندیش عالم دین تھے۔ وہ ہندوپاک کے ایک معروف محقق ومصنف تھے۔ انہوں نے ہمیشہ متنوع اور اچھوتے موضوعات پر کام کیا اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی وتحقیقی موتیاں بکھیرتے رہے۔ مولانا موصوف بلند پایہ علمی سوچ کے حامل تھے۔ وہ روایتی رکھ رکھاؤ، سطحی تحقیق اور پرانی چیزوں کو پھر سے دہرانے کے قائل نہیں تھے۔

مولانا سلطان اصلاحی 26 فروری 1950 ء میں اعظم گڑھ (یوپی) کے ایک گاؤں بھور مؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایک قریبی مدرسہ سے حاصل کی، اس کے بعد مشہور ومعروف دینی درسگاہ مدرسۃ الاصلاح میں داخلہ لیا، جہاں سے 1971 ئمیں فضیلت کی سند حاصل کی۔ ان کی طالب علمانہ زندگی علم وفکر کی جستجو میں نہایت متحرک رہی اور ان کے زمانہ طالب علمی میں ہی ان کے اساتذہ نے ان کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ مستقبل میں یہ نوجوان منفرد کام کرے گا۔

مولانا موصوف اصلاح سے فارغ ہونے کے بعد علم کی مزید پیاس بجھانے کے لیے علی گڑھ تشریف لائے یہاں انہوں نے پہلے یونیورسٹی سے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی سے اپنا علمی وتحقیقی سفر شروع کیا جو 2008 ئتک جاری رہا۔ ادارہ تحقیق وتصنیف کا نام علم وتحقیق کی دنیا میں بلند اور روشناس کرانے میں مولانا موصوف کا اہم کردار رہا ہے۔

مولانا سلطان اصلاحی کو سماجی مسائل پر گہری نظر وبصیرت حاصل تھی اور یہ ان کا پسندیدہ موضوع بھی تھا۔ انہوں نے 25 کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں اسلام ایک نجات دہندہ تحریک، اسلام اور آزادی فکر وعمل، مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار، اسلام کا تصور جنس، مشترکہ خاندانی نظام اور اسلام، پردیس کی زندگی اور اسلام، کمسنی کی شادی اور اسلام، بندھوامزدوری اور اسلام، بچوں کی ضرورت، امت مسلمہ کاکردار، جدید ذرائع ابلاغ اور اسلام، چند شاہکار کتابیں ہیں۔

زیر نظر مضمون میں مولانا موصوف کی کتاب ”کمسنی کی شادی اور اسلام“ پر کچھ باتیں رکھنی ہیں۔ اس اہم علمی تحریر سے کچھ استفادہ کرنا ہے۔ مرحوم کی دور رَس فکری بصیرت پر انہیں ممنون خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ مولانا مرحوم نے اس موضوع پر طوالت اختیار کرنے اور اسے دائرۃ المعارف بنانے سے گریز کرتے ہوئے چند صفحات میں ہی اپنی ساری باتیں کہہ دی ہیں، جس سے ایک قاری کا اِن چند صفحات کے مطالعہ سے ہی ذہن صاف ہوجاتا ہے۔

اسلام نے عمومی طور پر شادی کے لیے بالغ و عاقل عمر ہونے کو ہی راجح اور زن وشو کے لیے معاشرتی اور طبی نقطہ نظر سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام کے ابتدائی ادوار میں بھی جب جہالت عام تھی اور جہل و ظلمات کو ختم کرنے کے لیے زمین کی پشت پر خالق کائنات نے مذہب اسلام کے ساتھ انسانیت کے سب سے عظیم محسن جناب محمدرسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا تھا۔ اس زمانے میں اہل سلام کے یہاں یہ رواج انتہائی شاذ تھا، چنانچہ آج تاریخ وسیرت کی کتابوں میں یہ انگلیوں پر گننے کے برابر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسلام نے کم سنی کی شادی کی اجازت دیتے ہوئے بھی اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کم عمری میں شادی ہونے کے باوجود مباشرت یا ہم بستری کا عمل اس وقت تک ٹالا جائے گا جب تک ایک لڑکی عورت نہیں بن جاتی۔ یہاں طبی، معاشرتی اور سماجی اعتبار سے اسلام نے کسی مجبوری کی صورت میں کم عمری میں شادی ہوجانے کے باوجود عمل مجامعت کو کئی شرطوں کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ تاکہ لڑکی کی زندگی تباہ نہ ہو اور شادی کے بعد اس کی زندگی خوشگوار مستقبل کے سامان فراہم کرنے کے بجائے تباہی و خسران کا حصہ بننے سے بچ جائے۔ مولانا مرحوم کے قلم سے اس کی توضیح کچھ اس طرح پیش کی گئی ہے :

اسلام فطری دین ہے، بسا اوقات خاندان اور نابالغ لڑکی کے مصالح کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کی شادی کم سنی ہی میں کردی جائے۔ سورۂ طلاق کی آیت جس میں خاص طرح کی عدت کی مدت کا بیان ہوا ہے، کم سنی کی شادی کے جواز کے بارے میں صریح ہے۔

واللئی یئسن من المحیض من نسا ئکم ان ارتبتم فعدتہن ثلاثۃ اشہر والّٰئی لم یحضن۔ (الطلاق : 4 )

ترجمہ: اور تمہاری عورتوں میں سے جو (عمر کی زیادتی کے باعث) حیض سے مایوس ہوچکی ہوں۔ اگر تم کو شک ہو تو (طلاق کے بعد ) ان کی عدت تین ماہ ہے۔ اسی طرح وہ عورتیں بھی جنہیں کم سنی کے باعث حیض نہ آ یا ہو (ان کی عدت بھی تین ماہ ہے )۔

(کم سنی کی شادی اور اسلام صفحہ 7 تا 8 )

اس آیت کریمہ میں عدت کی تفصیل پیش کرتے ہوئے والّٰئی لم یحضن کہہ کر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ کبھی حالات ایسے بن سکتے ہیں کہ شادی کم عمری میں ہی کرنی پڑے۔ البتہ اس عمل کو صرف جائز کی حدتک باقی رکھا گیا ہے۔ مذہب اسلام نے کم سنی کی شادی کی ترغیب نہیں دی ہے، بلکہ مستحسن یہی رکھا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی شادیاں عقل و شعور اور مکمل بلوغ کے بعد ہی کی جائیں جب عورت کا جسم ہرطرح سے پورا ہوچکا ہو اور جن جسمانی حصوں کی نشوو نما تولد وازدواج کے ساتھ خاتو ن کی صحت کے لیے ضروری ہے ان کی نشوو نما کا عمل بھی مکمل ہوجائے۔

تاکہ معاشرتی زندگی میں آ ئندہ کسی بھی قسم کا نقص باقی نہ رہے۔ اسی کے سا تھ کم سنی کی شادی کی اجازت دے کر مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس گناہ سے روک دیا جس سے خلاف عادت کم عمری میں ہی مردوعورت کو سامنا ہوتا ہے۔ وہ ہے عرف عام میں معلوم وقت سے پہلے مردو عورت کا سن بلوغ کو پہنچ جانا اور شدت کے ساتھ شہوانی ضرورت کا محسوس ہوجا نا۔ اگر ایسے حالات ہوں تو گناہ سے بچانے کے لیے ضروری یہی ہوگا کہ دونوں کی شادی کرکے معاملہ پورا کردیا جائے، تاکہ اسلامی معاشرہ گناہ کے الزام سے محفوظ رہے۔

15 فروری 2009 کو برطانیہ سے آنے والی ایک خبر نے پوری دنیا کو چونکا دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ایک بارہ سالہ لڑکی اور تیرہ سالہ لڑکے کے جنسی تعلقات نے کم سنی میں ’والدین‘ بننے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ خبر انٹرنیٹ پر آج بھی موجود ہے اور دنیا بھرکی متعدد سائٹوں پر دیکھی اور پڑھی جاسکتی ہے۔ مگرالمیہ یہ ہے کہ اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کو مغربی قانون ”شادی“ کی اجازت نہیں دیتا۔ جس کا مطلب ہے کم سنی کا یہ ریکارڈ برطانیہ کی اس ’ہونہار‘ لڑکی نے اپنے ’بوائے فرینڈ‘ کے ساتھ ناجائز رشتہ کے ذریعے قائم کیا ہے۔

مگر یہ وہ ’ناجائز‘ ہے جس کے لیے برطانیہ کی لغت میں فی الوقت کوئی لفظ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ’ناجائز‘ کے لیے آپ وہاں illegal کا لفظ بولیں گے یا Prohibited یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ۔ ایسے کسی بھی لفظ سے برطانیہ میں رہنے والے ایک شخص کے ذہن میں اس کا ’قانونی‘ حوالہ ہی آئے گا، کیونکہ عرصہ ہوا ان الفاظ کا ’مذہبی‘ حوالہ لوگوں کے سننے اور بولنے میں نہیں آتا۔ جبکہ اِس رائجِ عام حوالہ کی روسے اس لڑکے اور لڑکی نے کوئی illegal یا Prohibited کام نہیں کیا تھا۔

یعنی پیمانے سر تا سر بدل گئے۔ یہ معاملہ بظاہر جتنا دلچسپ دکھائی دیتا ہے اور مغرب زدہ روشن خیالوں نے جس طرح چٹخارے لے کراسے قابل توجہ بنانے کی کوشش کی ہے، حقیقت میں اس سے زیادہ شرمناک ہے۔ مگر یہ شرمناک اور قابل ملامت برائی اسی وقت تک کسی سماج یا معاشرہ کو تہذیب کے دائرہ تک محدود رکھ سکتی ہے، جب تک اس سماج یا معاشرہ میں اس جنسی آوارگی کو ناجائز اور مستوجب سزا جرم تصور کیا جاتا ہو۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی توقع بنی نوع انسان سے کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *