مجید نے مضمون لکھا: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی
پرنسپل سر نے جب یہ دیکھا کہ میں بری طرح ڈرا ہوا ہوں تو ان کے دل میں رحم پیدا ہوا۔ مسکرا کر کہنے لگے، ”کوئی خاص بات نہیں ہے۔ مت ڈرو۔ میرے خیال میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے جسے دور ہو جانا چاہیے۔ اب جاؤ میں خود پرنسپل میڈیم کو فون کر کے بتاتا ہوں کہ تم ایک شریف اور پاک دامن شاگرد ہو۔ “
مجھے تھوڑا اطمینان ہوا اور کہا، ”آغا۔ پھر مجھے اجازت دیں کہ میں گھر جا کر بی بی کو ساتھ لیتا آؤں تاکہ وہاں خود کو اکیلا اور بے کس) محسوس نہ کروں۔ یا پھر اِن آغا سے کہیں کہ مجھے جیسا ثابت سالم لے کر جا رہے ہیں ویسا ہی واپس لائیں، بنا کسی عیب و علت کے۔ “
موٹی گردن والے اس آدمی نے میری بات پوری نہ ہونے دی۔ اس نے میرا بازو کھینچا اور مجھے دفتر سے باہر لے آیا۔ میں نے بہت عجز و التماس کی کہ، ”یہاں لڑکوں کی موجود سائیکلوں میں سے ایک سائیکل پر چلتے ہیں۔ “ لیکن وہ نہ مانا کہ، ”بالکل نہیں، اگر سائیکل پر گئے تو تم چھلانگ لگا کر ضرور دوڑ جاؤ گے۔ پھر میں میڈیم کو کیا جواب دوں گا؟ “
اس کی گرفت سخت تھی۔ میرا بازو دُکھنا شروع ہو چکا تھا۔ اس نے میرے بازو کو اپنے ہاتھ میں سختی سے جکڑ رکھا تھا اور ذرا سا بھی ہلانا ممکن نہیں تھا۔ اور بدتر بات یہ تھی کہ مجھے شرم آ رہی تھی، اس حالت میں لوگوں کے سامنے سے گزرنے پر مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اگر کسی جاننے والے نے مجھے یوں دیکھ لیا تو میری کوئی عزت نہیں رہے گی۔
میں نے کہا، ”سڑک کے بجائے پچھلی گلیوں میں سے ہو کر چلتے ہیں۔ “ وہ نہ مانا اور کہا، ”رستہ لمبا پڑ جائے گا۔ “
رستے میں میں نے اس سے درخواست کی کہ دکان سے چیز لینا چاہتا ہوں۔ اس نے اجازت دے دی۔ دو ’قرن‘ میری جیب میں تھے۔ ان کے میں نے کچھ بتاشے لے لیے۔ ایک بتاشہ میں نے اپنے منہ میں ڈال لیا اور باقی لفافہ اس کے سامنے کیا، ”بفرمائید، اپنا منہ میٹھا کر لیں۔ بالآخر ہم ایک ہی شہر کے رہنے والے ہیں۔ ہمارا آپس میں تو کوئی جھگڑا نہیں ہے اور آپ ایک زحمت کش انسان ہیں۔ “
اس نے لفافے میں ہاتھ ڈالا، دو بتاشے اٹھائے اور اپنے بڑے سے منہ میں ڈال کر چوسنے لگا۔ ہاتھ کی گرفت کچھ ڈھیلی کر لی۔ میرا بازو سُن ہو چکا تھا اور اس میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے کہا، ”دراصل یہ لفافہ آپ کے لیے ہی ہے۔ “ اس نے قبول نہ کیا۔ میں نے کہا، ”اپنے بچوں کے لیے رکھ لیں اور اس کے بدلے میں میرا بازو چھوڑ دیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی نوکری کو خطرے میں ڈالنے اور دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کروں گا۔ میں شاعر اور لکھاری ہوں، مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ “
اس نے لفافہ تو نہ پکڑا البتہ میرا بازو چھوڑ دیا اور چوکنی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگا کہ کہیں میں کوئی چالاکی نہ کروں۔
اسی طرح ہم چلتے جا رہے تھے۔ میں نے آہستہ آہستہ اس کے ساتھ بات چیت کرنی شروع کی اور مش رضا، ہمارے سکول کا فراش، کے بارے میں اور اس کی مشکلات کے بارے میں بتانے لگا۔
میں نے کہا، ”جب بھی ہمارے گاؤں سے انار، اخروٹ، کشمش اور دوسری سوغاتیں آتی ہیں ان میں سے مش رضا کا حصہ دینے میں میں نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اب جب کہ ہماری آپس میں جان پہچان ہو چکی ہے، انشاءاللہ آج کے بعد آپ کا حصہ بھی آپ کو پہنچ جایا کرے گا۔ جیسا کہ آپ ایک اچھے اور مہربان انسان ہیں، میری خواہش ہے کہ کاش میری ایک بہن ہوتی جو آپ کے سکول میں پڑھا کرتی اور پھر اس بہانے میری آپ سے ہر روز ملاقات ہوا کرتی۔ “
لڑکیوں کے سکول میں پہنچنے سے پہلے اس نے دیکھا کہ میں ایک سیدھا سادھا انسان ہوں تو وہ بھی آہستہ آہستہ میرے ساتھ باتیں کرنا لگا اور کہا، ”میرا خیال میں یہ نہیں تھا تم یوں اِس طرح کے ہو گے۔ میرا خیال تھا کہ تم دوسری ٹائپ کے ہو گے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آخر لڑکیاں آپس میں کس بات پر لڑی ہیں؟ “
سکول کے پاس پہنچے۔ تفریح ہو چکی تھی۔ سب لڑکیاں میدان میں جمع تھیں۔ اور ان کے ہنسنے چہکنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ انھوں نے پورا سکول سر پر اٹھا رکھا تھا۔
دروازے کے بالکل پاس پہنچ کر میں آہستہ ہو کر بولا، ”مجھے اندر جانے سے ڈر لگ رہا ہے۔ اگر یہاں میرا سر قلم کر کے میری بوٹی بوٹی کر دی گئی تو ان کا گریبان کون پکڑے گا؟ “
وہ ہنسا اور کہا، ”ڈرو مت۔ مجھے بھی تمہاری فکر ہو رہی ہے۔ “ اور میرا بازو اپنے مضبوط ہاتھ میں کھینچا۔ بدقسمتی سے، میری پتلون کا پائنچہ، دروازے کی چوکھٹ میں ایک کیل سے اڑا اور اسے اوپر تک چیرتا گیا۔ تاہم وہ رکا نہیں بلکہ مجھے اپنے پیچھے پیچھے کھینچتا چلا گیا۔
لڑکوں نے دیکھا کہ ان کے سکول کا فراش، ایک دبلے پتلے لڑکے کو، جس کا رنگ ڈر کے مارے اڑا ہوا ہے جبکہ پتلون چیری ہوئی ہے، اپنے پیچھے کھینچ کھینچ کر لا رہا ہے۔ وہ سب اپنا کھیل کود بیچ میں ہی چھوڑ کر میرے ارد گرد آن جمع ہوئیں۔
”بابا یہ کون ہے؟ اس نے چوری کی ہے؟ “
بابا نے انہیں مطلع کیا کہ میں چور نہیں بلکہ وہی مجید ہوں۔
جب تک لڑکیاں اس کی جان چھوڑتیں، وہاں موجود سات آٹھ لڑکیاں جھگڑنے لگیں۔ ان کے حلیے بگڑے ہوئے تھے اور چہرے ایسے لگ رہے تھے جیسے انہیں نے ایک دوسرے کے منہ نوچے ہوں۔ ”یہ مرغا مرنے والا ہے۔ “ سب نے ایک ساتھ ہنسنا شروع کر دیا۔ کاش میری شکل وصورت اچھی ہوتی اور عمدہ لباس پہن رکھا ہوتا۔ یا میرا کوٹ لمبا اور چوڑا ہوتا جس میں میرا ناتواں جسم گم ہوتا۔ میری پتلون کے گھس چکے پائنچے دھاگہ دھاگہ ہو رہے تھے جو ابھی تازہ تازہ ہی اوپر زانو تک چر چکی تھی۔ اس میں سے میری لاغر پنڈلی نظر آ رہی تھی۔ میری شکل بگڑی ہوئی تھی اور بال ڈر کی وجہ سے گویا اکڑے ہوئے تھے۔ اس حالت میں، بالکل زندان کے کسی قیدی کی طرح میں لڑکیوں میں سے گزرا اور اپنے متعلق ہرزا سرائی سنی۔
ہم پرنسپل میڈیم کے کمرے میں پہنچے۔ لڑکیاں دفتر کے باہر کھڑکی سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ انھوں نے اپنے سر کھڑکی کے شیشے کے ساتھ لگائے ہی تھے کہ میڈیم نے انھیں گھور کر دیکھا تو وہ وہاں سے ہٹ کر میدان میں بکھر گئیں۔
پرنسپل میڈیم اور دوسری استانیوں کی نظر جب مجھ پر پڑی تو انھیں بہت تعجب ہوا۔ دراصل انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ مجید باغبانی اس وضع قطع کا ہو گا۔ بہرحال میرا ظاہر اور باطن یہی تھا۔ پانچ چھے لڑکیاں دفتر میں ایک طرف کھڑی تھیں۔ ان کی بھویں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور آنکھوں کے کونوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ ان میں سے تین کو میں پہچان لیا۔ زہرا، کل ربابہ کی بیٹی۔ جن کا گھر ہماری گلی میں ہی تھا۔ طاہرہ، شاطر آغا کی بیٹی اور ہمارے ہمسایوں کی بیٹی نرگس، جن کے لئے میں نے مضمون لکھا تھا۔ ان میں سے کچھ کے چہروں پر خراشیں تھیں۔ نرگس کے ماتھے پر بھووں کے نزدیک جگہ سوجی ہوئی تھی، میرے خیال میں اس کا سر میز کے کونے سے ٹکرایا ہو گا۔ کچھ کچھ سمجھ آ گئی کہ اس سب قضیے کا سبب کیا ہے۔ انہی تینوں کا کام کرنے کے وجہ سے مجھے یہاں کھینچ کر لایا گیا ہے۔
پرنسپل میڈیم جو کہ قد آور اور غصہ ور معلوم ہوتی تھیں، نے مجھے اچھی طرح دیکھا اور جب یقین ہو گیا کہ میں وہی مجید آشوب گر اور مضمون نگار ہوں تو بولیں، ”تم نے ان کے لیے مضمون لکھا ہے؟ “ اور زہرا، طاہرہ اور نرگس کی طرف اشارہ کیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

