مجید نے مضمون لکھا: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی
ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کی مضمون نگاری کے بارے میں ہے۔

٭٭٭ ٭٭٭
ایران کے سکولوں میں ایک پیریڈ نگارش یا انشا کا ہوتا ہے جس میں نثر لکھنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔
اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بننا چاہتا۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ میں مضمون نگاری اچھی کر لیتا تھا۔ خدا شاہد ہے کہ صرف اس کام میں میں برا نہیں تھا ورنہ دیگر کوئی چیز ایسی قابل ذکر نہیں تھی جس کی نشاندہی کر سکوں۔

باقی مضامین میں میری کارکردگی کوئی خاص نہیں تھی۔ ریاضی میں تو بہت بدنام تھا۔ شکل و صورت بھی کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس پر ناز کیا جا سکتا۔ اپنی جسمانی طاقت کے بارے بھی کیا عرض کروں۔ آپ کی ایک پھونک ہی سے میں لڑکھڑا سکتا تھا۔ کہیں ذرا سی ٹھوکر لگتی اور میرا سر دیوار میں جا لگتا۔ دنیا کے مال ومتاع سے ہمیشہ تہی دست اور ہمیشہ رب رب کرنے والا بندہ تھا۔ ہر عمدہ چیز دیکھنے پر صرف یہی کہہ سکتا تھا کہ واہ! کتنی خوبصورت چیز ہے۔

ماں باپ نہیں تھے اور نہ ہی کوئی دولت مند رشتے داروں کا سہارا حاصل تھا کہ ان کی مدد سے دنیا اور آخرت میں کچھ راحت حاصل ہوتی۔ رشتے داروں میں لے دے کر ایک آمیز کمال تھا، جو میرا بہنوئی تھا۔ وہ ایک دیانت دار انسان تھا لیکن، اس کے اپنے الفاظ میں، ’اس کی جیب میں پیسوں کی جگہ دو رومال ہیں جن میں سے ایک سے وہ ناک صاف کرتا ہے اور دوسرے سے ہاتھ منہ خشک‘ ۔ بازار میں اس کی ایک چھوٹی سی دکان تھی جس میں وہ کتابوں کی جلد، ان کی مرمت اور کتابت کرنے کا کام کرتا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی معمولی آمدنی سے میری بہن اور اپنے دو بچوں کا پیٹ پالتا۔

جب کبھی میں ان کے گھر جاتا تو میری بہن اس سے چھپا کر، پانچ قرن یا ایک تومان، میری مٹھی میں دبا کر کہتی، ”کسی کو بتانا مت، اچھا! ۔ “ وہ بیچاری اپنے گھر کے خرچ اور بچوں کے حصے سے مجھے دیتی تھی۔ بی بی کا بھی یہ حال تھا۔ جب کبھی بھی اس کے سامنے کوئی پیسوں کا نام لیتا تو اس کا غم ہرا ہو جاتا۔ اس کی آنکھوں میں سے آنسو نکل کر، سورج کی تپش سے جھلسی جلد اور جھریوں والے چہرے پر بہنے لگتے۔

بہرحال، یہ میری زندگی کی حالت تھی۔ اس وجہ سے ان کمیوں اور محرومیوں کو پورا کرنے کے لیے میں مضمون نویسی اور شاعری کرنے لگا۔ میں نے اپنا دھیان کتابیں پڑھنے اور انشا، مضمون، شعر اور کہانیاں لکھنے کی طرف لگا لیا تھا۔ میرے لکھے مضمون اور شعروں میں اِن ناقابل حصول آرزوؤں اور محرومیوں کا ہی ذکر ہوتا۔

اتفاق سے میں اس کام میں ماہر ہوتا گیا۔ انشا کے پیریڈ میں میں کلاس میں سب سے نمایاں ہوتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرا کام بہتر ہوتا گیا اور میں نے انشا کے معلموں سے بہت کچھ سیکھا۔ آہستہ آہستہ میری مضمون نگاری کا دائرہ پھیلتا گیا اور میں سکول اور محلے میں رہنے والے بچوں سے، اپنے کام کے بدلے معاوضہ بھی وصول کرنے لگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کام بی بی ہی کی وجہ سے شروع ہوا۔ وہ جہاں جاتی وہاں بیٹھ کر یوں گویا ہوتی، ”یہ خیال ہرگز مت کرنا کہ میرے بچے مجید کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ مضمون اس طرح کا لکھتا ہے کہ پتھر کا پتہ بھی پانی ہو جائے۔ “

اب آپ سے کیا چھپانا، مضمون نگاری اور کہانی نویسی کی میری پہلی معلم بی بی ہی تھی۔ رات کو جب میں اس کے سامنے ذوق و شوق سے اپنی لکھی ہوئی چیز کو اونچا اونچا پڑھ کر سناتا۔ وہ سر ہلاتی اور جہاں اچھا نہ لکھا ہوتا، وہاں لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف بتا دیتی۔ بعض موقعوں پر ہنستی اور کہانی کے غمگین حصوں پر آنسو بہاتی اور رونے لگتی۔ بہرحال، روزہ خوانی کی مجلسوں، حمام میں اور دکانوں میں اور ہر جگہ وہ میری تشہیر کرتی اور لوگوں کے کانوں تک یہ بات پہنچاتی کہ میں اب تک مضمون اور کہانی لکھنے کے میدان میں فتح کے کون کون سے جھنڈے گاڑ چکا ہوں۔

میرے گاہک کچھ کچھ بڑھنے لگے۔ ایک ہفتے میں قریبا چار سے پانچ مضمون بچوں کے لیے لکھتا اور انہیں اُن کے سکول میں انشا کے پیریڈ میں سرفراز کرتا۔ یہی سلسلہ چلتا رہا کہ ایک رات اچانک تین گاہکوں کے طرف سے مضمون لکھ کر دینے کی درخواستیں موصول ہوئیں اور کام دشوار ہو گیا۔

پہلا مضمون بی بی لے کر آئی۔ وہ صبح بازار گئی تھی اور دوائیوں کی دکان ’آغ علی عطار‘ سے، پاؤں میں ہونے والے درد کے دوا لینے گئی۔ وہاں ’کل ربابہ‘ سے ملاقات ہو گئی، جو ہماری گلی میں ہی رہتی تھی۔ کل ربابہ نے حال احوال پوچھنے کے بعد کہا، ”بی بی! مجید سے کہنا کہ زہرا کے لئے ایک مضمون لکھ دے۔ “ زہرا اس کی بیٹی کا نام تھا۔ بی بی بہت خوش ہوئی کہ کل ربابہ بھی یہ جانتی ہے کہ مجید کیسے عمدہ مضمون لکھتا ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے کہا، ”ہاں، بالکل۔ اگر چاہو تو میں اس سے کہوں کہ دو مضمون لکھ کر آپ کے گھر پہنچا آئے گا۔ میرے بچے کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ “

مختصر یہ کہ، سہ پہر کے وقت میں سکول سے گھر واپس آیا۔ بی بی نے زہرا کی انشا کی کاپی دی اور مجھے اس بارے میں بتانے لگی۔ مضمون کا عنوان کاپی کے ایک صفحہ پر لکھا تھا، ”ایک مثالی ماں کو کیسا ہونا چاہیے۔ “

دوسرا مضمون، نانبائی کی دکان پر، میرے پلے پڑا۔ بی بی نے کہا، ”پہلے نان لے آؤ پھر بیٹھ کر مضمون لکھتے رہنا۔ “
نانبائی کی دکان پر رش تھا۔ چنانچہ میں نے پیچھے سے ہی اونچی آواز میں کہا، ”شاطر آغا ہمارے ادھار نان کا کیا ہوا؟ “

شاطر آغا نے گاہکوں کی بھیڑ کی طرف دیکھ کر ان میں سے مجھے تلاش کیا۔ پک کر تیار ہو چکا ایک بڑا سا نان مجھے دیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کر کے میرے کان میں کہا، ”مجید خان! ایک مضمون میری بیٹی طاہرہ کے لیے لکھ دو گے؟ “ اور پھر میری ہاں یا ناں کا انتظار کیے بغیر، اپنے ہاتھ پونچھ کر ٹائم پیس کے پیچھے رکھی ہوئی ایک کاپی، جو کہ ان کی تغاری کے بالکل پاس تھی، اٹھا کر مجھے دی اور کہا، ”دکان سے واپسی پر میں خود ہی تمھارے گھر سے لے لوں گا۔ وہ کل کلاس میں اسے پڑھنا چاہتی ہے۔ “ نان اور کاپی اٹھا کر میں گھر لوٹا۔ مضمون کا عنوان کاپی میں لکھا تھا: ”ایک مثالی ماں کو کیسا ہونا چاہیے۔ “

تیسرا گاہک خود ہمارے گھر چل کر آیا۔ نرگس تھی، ہمارے ہمسائے کی بیٹی، ہماری آپس میں سانجھی دیوار تھی۔ دروازے پر ہی اس نے اپنی چادر کی بُکل کے نیچے سے کاپی نکال کر میری طرف بڑھائی اور کہا، ”میں چاہتی ہوں کہ اس بار بھی تم ویسا ہی مضمون لکھو، جیسا پچھلے بار لکھنے پر مجھے بیس میں سے پورے بیس نمبر ملے تھے۔ یہ کہ جتنا عمدہ لکھنا ممکن ہوا لکھنا۔ “ اور یہ کہہ کر چلی گئی۔

اس مضمون کا عنوان بھی پہلے دو جیسا ہی تھا۔

اُس رات مجھے اپنا بھی بہت سا کام کرنا تھا۔ میں نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ایران کا نقشہ ایک چارٹ پر بنا کر اور اس میں رنگ کر کے سکول میں جمع کراؤں گا۔ تین مضمون لکھنا اور وہ بھی ایک ہی موضوع پر، کافی مشکل کام تھا۔ لیکن، لکھنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ سب سے پہلے نرگس کا مضمون لکھنا شروع کیا۔ میں کافی گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا اور جو بھی خیال یا نکتہ ذہن میں آتا، وہ لکھتا رہا۔ بی بی کے حقہ پینے کی ’گڑ گڑ‘ کی آواز آ رہی تھی اور میں لکھتا جا رہا تھا۔

اللہ بخشے! بی بی ایک کش لگاتی اور میری خاطر مدارت میں لگ جاتی۔ وہ کبھی چاے کی پیالی میرے سامنے رکھتی اور کہتی، ”لکھو، شاباش لکھو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم اس کام میں خوب ترقی کرو گے، خدا کرے کسی کی نظر نہ لگے۔ ابھی تازہ تازہ ہی یہ کام شروع کیا ہے۔ بعد میں اسی کام میں خدا تمھارا رزق کشادہ کرے گا۔ خدا ہی جانتا ہے کہ تمھارے لئے میں نے کتنی زحمت اٹھائی ہے۔ “ اور آخر میں ٹیپ کے بند کی طرح سر ہلا کر یہ ضرب المثل کہتی، ”تا گوسالہ گاؤ بشہ، دل صاحبش آب میشہ۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *