ڈراؤنے خواب کا قلم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مجھ سے اکیلے میں ملنا چاہتی تھی۔ چھوٹا قد اور معصوم سی صورت تھی اس کی۔ ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اس نے اور اس پہ ڈھیلا ڈھلا سا ایپرن ٹائپ کا کوٹ جو نیچے پیروں تک آیا ہوا تھا۔چہرے کے علاوہ تمام جسم چھپا ہوا تھا اس کا۔
وہ میری سیکریٹری کے ساتھ اندر آگئی تھی۔
مگر میں کبھی بھی اپنے خاتون مریضوں سے اکیلے نہیں ملتا ہوں۔ میں نے اس سے خشک لہجے میں کہا ۔
ڈاکٹر صاحب مجھے ڈاکٹرغزالہ نے بھیجا ہے۔
اوہ ۔اچھا غزالہ نے بھیجا ہے تو آجائیں ،میں نے نرمی سے کہا ۔

کل شام کو غزالہ کا فون آیا تھا کہ ایک لڑکی کو وہ بھیج رہی ہے اس کا بہت ہی سنگین قسم کا کوئی مسئلہ ہے اور اس کی ہر صورت میں اس کی مدد کرنی ہے۔میں جلدی میں تھا لہٰذا مزید تفصیلات میں گئے بغیر فون بند کردیا تھا۔

غزالہ میری ایک بہت اچھی اسٹوڈنٹ تھی۔ میرے وارڈ میں ہی اس نے ٹریننگ مکمل کرکے ایم سی پی ایس کا امتحان پاس کیا اور ایک اچھے ایمان دار ڈاکٹر کی طرح کام کررہی تھی۔ میں نے سوچا کہ کوئی خاص بات ہی ہوگی کہ اس نے فون کرکے اس لڑکی کو بھیجا تھا اور جس لہجے میں اُس نے اس کی مددکے لیے کہا اس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ معاملہ بہت گھمبیر ہے۔ ایسا مسئلہ ہے جس نے غزالہ کو بھی پریشان کردیا ہے اور اب اسے مدد کی ضرورت ہے۔

وہ سہمی سہمی سی کرسی پر بیٹھ گئی۔اس کے چہرے پر کچھ خوف کچھ سراسیمگی عیاں تھی۔ ماتھے پر پسینے کی بے شمار ننھی ننھی بوندیں نمایاں تھی اور وہ بار بار جیسے تھوک نگل رہی تھی۔
ہا ں بولیے کیا بات ہے ڈاکٹر غزالہ نے بتایا تھا کہ آپ آئیے گا۔ میں نے بڑی نرمی سے سوال کیا ۔میں کس طرح سے آپ کی مدد کرسکتا ہوں ۔
ڈاکٹر صاحبہ نے آپ کو نہیں بتایا ہے؟ اس نے نیچے دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں سوال کیاتھا ۔

نہیں،ان سے زیادہ بات نہیں ہوسکی تھی میں کسی ایمرجنسی کے لیے جارہا تھا۔ صرف تھوڑی سی بات کرکے میں نے فون بند کردیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آپ خود ہی مجھے بتادیں گی۔ میں نے جواب دیا۔
ڈاکٹر صاحب !ڈاکٹرصاحب، بات دراصل یہ ہے کہ میں حمل سے ہوں…… یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی اور جیسے اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے والے ہوں۔
میں سمجھ گیا کہ وہ شادی شدہ نہیں تھی اور اب بغیر شوہر کے حمل سے ہوگئی تھی۔ اب غزالہ نے اسے میرے بھیجا تھا کہ کسی طرح سے اس کی مدد کی جائے۔

مجھے حیرت سی ہوئی کیونکہ ابارشن وغیرہ کا کام میں نہیں کرتا تھا۔ غزالہ کو یہ بات پتہ تھی اسے یہ بھی پتہ تھا کہ شہر کے کئی کلینک میں بھاری فیس کے عوض حمل گرانے کا کام ہوتا ہے جہاں وہ اسے بھیج سکتی تھی۔ سارا کام رازداری سے ہوتا ہے اور کسی کو کچھ پتہ بھی نہیں چلتا ہے۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی آواز آئی:
دیکھئے میں بڑی مشکل میں پھنس گئی ہوں او رحمل اب بہت آگے جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا تھا اس مرحلے پر کسی بھی کلینک میں کچھ بھی نہیں ہوسکے گا بلکہ جان کا بھی خطرہ ہے لیکن انہوں نے کہا تھا کہ آپ ضرور میری مدد کریں گے ۔ میں تو ڈاکٹر صاحب ویسے بھی مرنا چاہتی ہوں لیکن ڈاکٹر غزالہ نے مجھے حوصلہ دیا ہے اور ڈاکٹر صاحب خود کشی سے بھی خاندان بدنامی سے تو نہیں بچ سکے گا ۔ ڈاکٹر صاحب، میری تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں…… اس نے رُک رُک کر ٹہر ٹہر کر آہستہ آہستہ کہا تھا۔کتنے ہفتوں کا حمل ہے آپ کا۔ کیا تاریخ تھی پچھلی ماہواری کی ،کچھ یاد ہے تمہیں۔ میں نے ہمدردی سے پوچھا ۔

جی یاد ہے ڈاکٹر صاحب!ڈاکٹر غزالہ نے حساب لگا کر بتایا تھا کہ میں بائیس ہفتے کے حمل سے ہوں انہوں نے ایک الڑاساؤنڈ بھی کیا تھا اس کی رپورٹ ہے میرے پاس…… اس نے کئی تہوں میں تہہ کیا ہوا ایک کاغذ میری طرف بڑھایا ۔

رپورٹ کے مطابق وہ ستائس ہفتوں سے تھوڑا زیادہ کے حمل سے تھی۔ میں نے سوچاکہ اتنے آگے بڑھے ہوئے حمل کو ضائع کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے ۔نہ تو ماں بچے کی صحت کے لحاظ سے اور نہ طبی دنیا میں رائج اخلاقی اصولوں کے مطابق۔ یہ بے وقوف لڑکی کیوں اتنی دیر سے آئی ہے۔ چار چھ آٹھ ہفتے کا حمل ہو تو آسانی سے ضائع کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ قدرت کے نظام میں تو نہ جانے کتنے ہزاروں لاکھوں حمل اس عرصے پر خود بہ خود ضائع ہوجاتے ہیں اور بعض صورتوں میں تو ماں کو پتہ بھی نہیں لگتا ہے۔

تم اتنے دیر سے کیوں آئی ہو۔ تمہیں پتہ تھا کہ تم حمل سے ہو اور پھر جب اس حمل کو ضائع ہی کرانا تھا تو اتنی دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی، میں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر صاحب میری سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں، کہاں جاؤں، کس سے کہوں ،کیوں کر کہوں، مرجاؤں، خود کشی کرلوں، پریشان ہوتی رہی دُعائیں کرتی رہی اور وقت نکلتا چلا گیا تھا، اس نے مجھے جواب دیا ۔

اس طرح کے چکروں میں پڑنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔ نہ جانے کیوں بے ساختہ میرے منہ سے یہ جملہ نکل گیا ، مجھے افسوس بھی ہوا لیکن بات نکلنے کے بعد تو میں صرف افسوس ہی کرسکتا تھا۔
اس کا چہرہ جیسے ویران ہوگیا۔ مجھے لگا جیسے وہ زمین پر ڈھیر ہوجائے گی۔ اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو پھیلنے لگے تھے۔ وہ کچھ کہنا چارہی تھی اور کہہ نہیں پارہی تھی۔ لیکن پھر تھوڑے وقفے سے وہ دھیرے دھیرے بولی تھی:

ڈاکٹر صاحب ایسا نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میرا کوئی قصور نہیں ہے، میں پھنس گئی ہوں ،ڈاکٹر صاحب میں پھنس گئی ہوں اس چکر میں۔یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی تھی اور میں دل ہی دل میں پریشان ہورہا تھا کہ اس مسئلے کو کیسے حل کروں۔مجھے بھروسہ تھا کہ غزالہ نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی اسے میرے پاس بھیجا ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب ہم لوگ بہت غریب ہیں۔ میں نے بی اے پا س کیا ہوا ہے اور اب پرائیوٹ ایم اے کررہی ہوں۔ دو چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں۔ میرے ابو کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا ۔ ایک ٹرک ان کے اسکوٹر پر چڑھ گیا تھا۔ اسکوٹر بھی چکنا چور ہوگیا اور ابو نے تو سڑک پر ہی دم توڑ دیا تھا۔ انہوں نے ہیلمٹ بھی پہنا ہوا تھا اور صحیح سمت میں جارہے تھے۔ لوگوں نے بتایا تھا کہ ٹرک ڈرائیور نشے میں تھا اور سڑک پر غلط سمت پر ٹرک چلاتا ہوا آرہا تھا۔ ٹرک کو کچھ نہیں ہوا۔ ٹرک ڈرائیور بھی کبھی نہیں پکڑا گیا مگر ہم لوگوں کا سب کچھ ختم ہوگیا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کہ اس کی اُداس سی آواز دوبارہ آئی۔

ڈاکٹر صاحب اس واقعے کو چار سال ہوگئے ہیں تب سے میں ٹیوشن پڑھا پڑھا کر گھر کا ماں کابھائی بہنوں کا خرچ چلا رہی ہوں۔میرے علاوہ کوئی نہیں ہے اس گھر کا۔ اس دن بھی میں ٹیوشن پڑھانے جارہی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا ۔ منی بس میں صرف دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور دو اسٹاپ کے بعد وہ دونوں بھی اُتر گئے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا تھا۔ چیخنے چلانے منتیں کرنے کے باوجود وہ منی بس رکی نہیں تھی۔ کنڈیکٹر نے میری آواز بند کرنے کے لیے میرے گلے پر بڑا سا چھرا رکھ دیا تھا۔ مجھے تو پتہ بھی نہیں ہے کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ بس ایک ویران سی جگہ تھی اور دور دور تک کوئی نہیں تھا وہاں پر۔ اس منی بس کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں نے ہی باری باری میری عزت لوٹی تھی ڈاکٹر صاحب میری عزت………… یہ کہہ کر وہ پھر خاموش ہوگئی ۔ آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر ہوگیا تھا اور میں اپنی کرسی پر سن سا ہو کر بیٹھا ہوا اسے تک رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *