کافر ممتا
اس میلے میں خوب لطف اُٹھایا تھا میں نے۔ آئرش ڈانس کلب میں آئرش ڈانس جو ایک طرح کا اجتماعی ڈانس ہوتا ہے۔ جس میں سب مل کر ڈانس کرتے ہیں۔ وہاں جھوم جھوم کر ناچے تھے ہم لوگ۔ زندگی اتنی خوبصورت لگی تھی زندگی ایسی بھی ہوسکتی تھی میں نے نہیں سوچا تھا۔
لیکن زندگی اتنی حسین نہیں تھی۔ حقائق کچھ اور تھے اور خواب کچھ اور۔ فیصلے کچھ اور ہوچکے تھے اور میں نیا فیصلہ نہیں کرسکتا تھا۔ اتنی ہمت، اتنی جرات نہیں تھی مجھ میں۔ میں آج تک ان دنوں کے اس حصے کو نہیں بھلاسکا ہوں۔
اس نے بڑی بہادری سے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ قبول کرلیا۔ ہم دونوں کے ہی آنسو بھر آئے تھے آنکھوں میں۔ ہم دونوں نے ہی رو دیے تھے بے قراری سے اور ہم دونوں جدا ہوگئے تھے سمجھتے بوجھتے ہوئے کہ اب پھر کبھی نہیں مل سکیں گے۔
شاید اچھا یہ ہوا کہ مجھے اگلے دو سال کی نوکری کریملن ہسپتال ڈبلن میں ملی۔ یہ بچوں کا بڑا ہسپتال ہے یہاں کام بہت ہے اور سیکھنے کے مواقع بھی بے شمار۔ میں نے یہاں لگ کر کام کیا۔ یہاں کام کرتے ہوئے ہی میرا فائنل امتحان بھی پاس ہوگیا اور مجھے انگلستان میں نوکری بھی مل گئی۔ انگلستان کی نوکری کے ساتھ زندگی میں بہت ساری نئی نئی باتیں ہوئیں۔
میں پاکستان گیا اور کوثر سے میری شادی بڑے دھوم دھام سے ہوگئی اور ہمارے خاندان والوں نے دل کھول کر ارمان نکالے اتنے مان سے ہمارا رشتہ طے ہوا تھا پھر شان تو دکھانا ہی تھا خاص طور پر جب گھرمیں مال و دولت کی بھی فراوانی تھی۔
شادی کے بعد زندگی نے عجیب کروٹ لی۔ ابتداء لندن میں ہنستے کھیلتے ہوئی میں ماضی کو بھلاکر نئی زندگی شروع کررہا تھا۔ لندن میں ہی کوثر کا چار بار حمل ٹھہرا اور ہر دفعہ حمل ضائع ہوگیا۔ پہلی دفعہ تو چھبیس ہفتوں تک پہنچ گیا مگر یکایک مردہ بچے کی پیدائش ہوئی جس کی آنکھیں نہیں تھیں اور دونوں پیروں میں بھی کئی خامیاں تھیں۔ دوسرا حمل آٹھ ہفتے میں، تیسرا حمل بھی آٹھ ہفتوں میں ضائع ہوگیا۔ چوتھا حمل بھی چوبیس ہفتوں تک پہنچا اور پھر ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جس میں بے شمار خامیاں تھیں۔
میں اور کوثر بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ کوثر پر ان تمام ناکامیوں کا بہت برا اثر پڑا۔ وہ جذباتی طور پر بہت پریشان رہنے لگی۔ اس نے دُعائیں بھی کرائیں، خود بھی دُعا کی تعویز بھی باندھے پھونکا ہوا پانی بھی پیا اور ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق شروع دن سے مختلف قسم کے دوا بھی کھائے۔ ایک مولانا صاحب کی ہدایت پر ہم لوگوں نے عمرہ بھی ادا کیا اور وظیفے بھی پڑھے مگر نتیجہ کوئی خاص نہیں نکلا تھا۔
کیمبرج میں اس قسم کے مسائل کا شکار ہونے والے جوڑوں کے لیے ایک بہت بڑا سینٹر ہے۔ وہا ں ہم دونوں کے بہت سارے ٹیسٹ ہوئے۔ یہاں تک کے ابا جان چچا جان اور امی جان اور چچی جان کے خون کا بھی ٹیسٹ ہوا۔ ایک دن وہاں کے پروفیسر رالف روبنسن نے بڑے تفصیل سے ہم دونوں سے بات کی اور بتایا کہ ہمارے ہونے والے بچوں میں ہمیشہ ایسی خرابی ہوگی جس سے کے وہ بچ نہیں سکیں گے۔ یہ خرابی کچھ خاندان میں کزن کے درمیان شادیاں ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
کچھ اتفاق ایسا ہوا ہے کہ خرابی کا یہ جین جو دادا جان میں تھا وہ چچا کے توسط سے کوثر میں اور ابا جان کی وجہ سے مجھ میں آگیا تھا۔ اب ہمارے ہونے والے ہر بچے میں یہ جین جائے گا اور خرابی کرے گا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم دونوں الگ ہوجائیں مگر یہ بات واضح تھی کہ اگر ہم دونوں کی شادی غیر رشتہ داروں میں ہوتی تو خرابی کا امکان ختم ہوجاتا یا بہت کم ہوجاتا کیونکہ دوسرے مرد اور عورت کے صحیح جین کی وجہ سے خراب جین کا اثر ذائل ہوسکتا تھا۔
شادی کیسے ختم ہوسکتی تھی۔ بچے نا ہونے کی وجہ سے ہم دونوں میں محبت کا جذبہ گہرا ہوا اور اس کی پرورش ہوئی ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہنے بھی لگے یہ سوچنا نا ممکن تھا۔ ہم دونوں نے ایک لمحے کے لیے یہ سوچا بھی نہیں۔ زندگی کے فیصلے بار بار تو نہیں کیے جاتے ہیں یہ صحیح ہے کہ شادی کے وقت کوثر سے مجھے کسی بھی قسم کی محبت اور انسیت نہیں تھی مگر یہ بھی صحیح ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ میں اس میں سما گیا تھا اور وہ میری روح کا حصہ بن گئی تھی۔ یادوں کے کسی لمحے کسی اداس شام کو کبھی خوابوں کے پردے پر کبھی کہیں کیتھرینا ضرور موجود ہوتی مگر میں کوثر کو نہیں چھوڑ سکتا تھا محض اس لیے کہ ہمارے بچوں میں ہمیشہ خرابی ہوگی یا یہ کہ ہم لوگ کبھی بھی والدین نہیں بن سکیں گے۔
اڈاپشن ہی ہمارے مسئلے کا حل تھا۔
انگلستان میں تو ایڈاپشن کا ایک نظام ہے، چار پانچ سال انتظار کرنے کے بعد بچہ ملتا ہے اوربچہ ملنے سے پہلے سوشل سروس کے سرکاری افسران آکر دیکھتے ہیں کہ گھرکیساہے، میاں بیوی کی آمدنی کتنی ہے اوریہ پتہ کیا جاتا ہے کہ میاں بیوی بچے کے ساتھ ماں باپ جیسا سلوک کریں گے۔ ملک کا قانون ایڈاپشن کو تسلیم کرتا ہے اوربچے کے وہی تمام حقوق ہوتے ہیں جو سگے بچے کے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں معاملات مختلف ہیں جو مجھے بعد میں پاکستان آکر پتہ چلا۔ یہاں بچہ ایڈاپٹ نہیں کیا جاتا ہے، بچے کے لیے شاپنگ کی جاتی ہے۔
میرا کام انگلینڈ میں ختم ہوگیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان واپس چلے جائیں۔ یہاں میرے لیے کام بھی بہت تھا اور پھر خاندان مالی طور پر اتنا مستحکم کہ کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی ہمارے گھروں میں۔ مجھے سرکاری نوکری بھی مل جاتی۔ آغا خان ہسپتال کے دروازے بھی کھلے ہوئے تھے میرے لیے۔ چچا جان کا تو خیال تھا کہ مجھے اپنا ایک اچھا سا بڑا سا ہسپتال کھولنا چاہیے۔ سب کچھ ہوسکتا تھا۔
کراچی آکر جمنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ بڑے ہسپتالوں کے جھنجٹ سے دور رہوں، کلفٹن میں اپنا آفس بنا کر میں نے کام شروع کیا اور جلد ہی میرا کام چل نکلا۔ اگر بیمار بچے کو داخلے کی ضرورت ہوتی تو مڈایسٹ ہسپتال میں داخل کرتا ورنہ روزانہ کی بنیاد پر ہی آنے والے مریضوں میں وقت نکل جاتا تھا۔ بہت جلد میرا شمار بھی کراچی کے اچھے ڈاکٹرز میں ہونے لگا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

