کافر ممتا


بچوں کو سلانے کے بعد کیتھرینا واپس آئی اور سب کا کھانا میز پر لگادیا، ہم لوگ اپنے اپنے گلاس لے کر کھانے کی میز پر آگئے۔ کھانے کی میز پر بھی باتیں چلتی رہی تھیں۔ وہ پوچھ بیٹھاتھا کہ میرے کتنے بچے ہیں۔

کوئی بھی نہیں ہے۔ پیدا تو چار ہوئے مگر کوئی بھی نہیں بچا۔ پیدائشی نقص ہے ہم دونوں میں۔ ہمارے بچے اگر ہوں گے تو ان میں ایسی خرابی ہوگی کہ وہ بچیں گے نہیں۔ میں نے بتایا تھا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ہم لوگ الگ ہوکر الگ الگ شادی کرلیں تو شاید والدین بن جائیں میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

بچے کے لیے تو الگ نہیں ہوا جاسکتا ہے ہاں محبت نہ رہے تو اور بات ہے۔ لیکن اڈاپشن تو ہوسکتی ہے جیری نے مشورہ دیا تھا۔

ہمارے یہ دونوں بچے بھی اڈاپٹ کیے ہوئے ہیں ہم لوگوں کا بھی بانچھ پن کا مسئلہ ہے اس لیے ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب علاج ولاج کے طویل چکروں کو چھوڑکر بچوں کو اڈاپٹ ہی کرلینا اچھا ہے۔ اس نے مزید کہا تھا۔

مسئلہ میرے ساتھ ہے۔ کیتھرینا نے کہا تھا۔ میرے ٹیوب پیدائشی طور پر بند ہیں اور بچہ دانی بھی مکمل طور پر نہیں بنی ہے میرے بچے کبھی بھی نہیں ہوں گے۔ میں نے تو جیری سے کہا تھا کہ الگ ہوجاتے ہیں اور جبری کسی بھی نارمل لڑکی سے شادی کرکے بچہ پیدا کرسکتا ہے مگر جیری نے منع کردیا۔ کسی بھی صورت اسے یہ قبول نہیں تھا شاید قبول تو مجھے بھی نہیں ہوتا لیکن اگر جیری کے اپنے بچے کسی اور عورت سے ہوجاتے تو شاید اچھا ہوتا۔ انسان کو زندگی میں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں۔ یہ ایک قابل بحث مسئلہ ہے کیا صحیح ہے کیا غلط یہ مجھے نہیں پتہ ہے مگر کچھ سوچنا سمجھنا تو ضروری ہے۔

نہیں کبھی نہیں کرنا چاہیے جیری نے نشے کے سرور کے باوجود بڑے مضبوطی سے کہا تھا۔ الگ ہونے کی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے محبت کا ختم ہوجانا بس۔ باقی ساری باتیں ابسرڈ ہیں بہت معمولی ہیں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نارمل لڑکی سے بھی بچے ہوجائیں گے اس نے کہا تھا۔ اگر محبت ہے تو بچے نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

ارے میں پوچھنا بھول گیا تم نے بچوں کو انجکشن کیوں لگائے تھے اوپر لے جانے سے پہلے، مجھے یکایک خیال آیا۔
ارے وہ تو انسولین تھا۔ اصل میں دونوں بچیوں کو ذیابیطس ہے اس نے مجھے بتایا۔

مگر تم لوگوں کو ذیابیطس والے بچے کیسے مل گئے میں نے حیرت سے پوچھا یہ تو ایک مسئلہ ہی ہے۔ کیا اڈاپشن کے وقت پتہ نہیں تھا کہ یہ بچے ذیابیطک ہیں۔

پتہ تھا کیوں نہیں پتہ تھا بلکہ یہ سب کچھ کیتھرینا کی فرمائش پر ہوا کیتھرینا کی خواہش تھی کہ جو بھی بچہ اڈاپٹ کیا جائے وہ ذیابیطک ہو۔ اسی کو ہمیں اڈاپٹ کرنا چاہیے اور اس وجہ سے ہمیں دیر بھی لگی اڈاپٹ کرنے میں۔ کیونکہ بچپن سے ذیابیطک بچوں کی تعداد سماج میں کافی کم ہے۔ اُس وقت اڈاپشن کا ویٹنگ ٹائم دو سال تھا اور ڈائی بیٹک بچوں کا ویٹنگ ٹائم چار سال سے بھی زیادہ تھا مگر ہماری قسمت سے ہمیں پہلی بچی تین سال میں اور ایک سال کے بعد ہی دوسری ذیابیطک بچی مل گئی۔ جیری نے بتایا تھا۔

میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے حیرت سے کیتھرینا کی طرف دیکھا اور سوال کیا تھا۔

اصل میں بات یہ ہے کہ میں نرس ہوں اور میرے خیال میں اچھی نرس ہوں خاص طور پر بچوں کے وارڈ میں کام سے بہت محظوظ ہوتی رہی ہوں۔ پیدائشی ذیابیطک بچوں کی دیکھ بھال بہت کی ہے میں نے۔ میں نے سوچا کہ ایسے بچے اگر مجھے مل جائیں گے تو میں ان کی بہتر نگہداشت کرسکوں گی میری نرسنگ کا فائدہ میرے اپنے اڈاپٹ کیے ہوئے بچوں کو کیوں نہ ہو؟ اسی لیے میں نے یہ تجویز رکھی۔ جیری کو اس بات پر اعتراض نہیں تھا بلکہ جیری نے میری اس خیال کی بھرپور حمایت کی لہٰذا ہم نے اڈاپشن کے لیے ذیابیطس بچوں کا ہی لکھ کر بھیجا۔ ہماری قسمت کہ ہماری خواہش کے مطابق ہمیں وقفے سے دو بچیاں مل گئیں ہم تو چاہتے ہی تھے کہ لڑکیاں ہو تو اچھا ہے۔ اس کے چہرے پر چمک تھی مامتا کاغرور تھا کامیابی تھی اور نہ جانے کیا کچھ۔ ایسا بھرپور پر وقار، مامتا سے بھرا ہوا، پیار میں لتھڑا ہوا، مغرورچہرہ میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔
مجھے بے تحاشا اس پر پیار آگیا۔ مجھے جیری سے شدید قسم کی جلن ہوئی پہلی دفعہ زندگی میں پہلی دفعہ میں نے سوچا کہ کوثر سے کیوں شادی ہوئی میری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کیوں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5