کافر ممتا
کراچی میں بس جانے کے دس بارہ ماہ کے بعد ہی میں نے اڈاپشن کے سلسلے میں معلومات جمع کرنی شروع کردی تھیں۔ اڈاپشن کے سلسلے میں کراچی میں کچھ عجیب ہی تجربہ ہوا ہم لوگوں کو بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ میرے لیے یہ تجربہ کچھ زیادہ ہی عجیب و غریب تھا۔
کوثراور چچی جان نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ لڑکی اڈاپٹ نہیں کریں گے۔ انہیں لڑکا اڈاپٹ کرنا تھا۔ پھر ایک اور بات حیرت کی یہ تھی کہ انہیں لاوارث بچہ نہیں چاہیے تھا یعنی ایک ایسا بچہ جو کسی کنواری ماں نے جنم دیا ہو یا کسی لڑکی کی عصمت دری کا نتیجہ ہو۔
میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ لڑکا یا لڑکی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بچہ تو بچہ ہوتا ہے۔ پھر وہ بچہ یتیم ہو کہ کسی کنواری ماں کا بچہ ہو یا کسی لڑکی کے عصمت دری کے نتیجے میں ہوا ہو اس سے کیا لینا دینا ہے۔ روحیں تو معصوم ہوتی ہیں۔ زندگی تو قدرت کا خوبصورت تحفہ ہے۔ کنول کہیں بھی کھلے کنول ہے۔ سڑی ہوئی دل دل ہو کہ صاف ستھرا جھیل کا پانی۔ گلا ب کہیں بھی اُگے گلاب ہے۔ کلفٹن ہو کہ اورنگی مگر مجھے حیرت ہے کہ انہیں کبھی بھی میری بات کی سمجھ نہیں آئی۔
ایک ہسپتال میں ایک ماں باپ ایک بچے کو چھوڑ کر چلے گئے جس کے دونوں ہاتھوں میں تھوڑی سی خرابی تھی۔ بڑا خوبصورت سا معصوم سا بچہ تھا۔ وہ اس جوڑے کے پہلے سے آٹھ بچے تھے۔ اورا نہیں یہ بچہ نہیں چاہیے تھا۔ مجھے خبر ملی تو میں نے کوثر سے کہا کہ اس بچے کو اڈاپٹ کرلیتے ہیں صرف دو آپریشن ہوں گے اور بچے کا باتھ بالکل درست ہوجائے گا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی جب کوثر نے کہا کہ اسے ایک ناقص بچہ نہیں لینا ہے۔ اسے تو بالکل صحیح سالم بچہ چاہیے تھا، مکمل بغیر کسی عیب کے۔ میں حیران رہ گیا کوثر کا یہ نیا روپ دیکھ کر۔
میں پریشان تھا کہ اسے لڑکی نہیں اڈاپٹ کرنی تھی، اسے ایسا کوئی بچہ نہیں چاہیے تھا جو کسی بن بیاہی ماں کا بچہ ہو، لڑکا چاہیے تھا اور لڑکا بھی ایسا جس میں کوئی معمولی سا عیب بھی نہ ہو۔ میں کوثر کے ذہنی حالت کو تو سمجھتا تھا مگر مجھے حیرت اس بات سے ہوئی کہ چچی جان سے لے کر میرے گھر والے بھی اس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے تھے۔ شاید وہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتے تھے یا شاید ان لوگوں کی بھی یہی سوچ تھی۔ مگر کیوں۔ پڑھے لکھے لوگ تھے ہم لوگ۔ ہمیں تو ایسا نہیں سوچنا چاہیے تھا۔ وقت گزرتا گیا بہت سے بے ہم نے دیکھے مگر کوثر کی پسند ناپسند کی بناء پر اڈاپشن کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا۔
سالوں بعد مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے ٹرنٹی کالج ڈبلن جانا پڑ گیا۔ ہم دونوں پہلے لندن آئے۔ کوثر لندن میں ہی رک گئی جہاں اس کی بچپن کی ایک دوست رہتی تھی۔ ہم دونوں اسی کے گھر پر ٹھہرے۔ دونوں سہیلیوں نے ساتھ لندن میں شاپنگ کا پروگرام بنایا اور میں کانفرنس کے لیے ڈبلن چلا گیا تھا۔
کانفرنس کے دوسرے دن ٹرنٹی کالج سے باہر ہوٹل کی طرف جاتے ہوئے مجھے سالوں بعد کیتھرینا مل گئی۔ بڑے محبت سے ملی تھی وہ اسٹفن گرین پر رائل کالج آف سرجن ایک چھوٹے سے پب میں دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے ہم دونوں۔ یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب ڈبلن ایک چھوٹا سا اچھا سا شہر تھا۔ یورپ کے دوسرے شہروں کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھا مگر وہاں آئرش خوش اخلاقی تھی۔ اب تو ڈبلن میں بہت پیسہ آگیا ہے، سارے یورپ کے لوگ اور ساری دنیا جہان کی بدتمیز یاں بھی۔ مجھے اس سے ملنا بہت اچھا لگا۔ میں نے سوچا تھا کہ اسے فون کروں گا، پتہ تو کروں گا زندگی ہمیں کتنے دور لے گئی ہے۔ اس کی شادی ایک آرکیٹیکٹ سے ہوگئی تھی۔ وہ دونوں ڈبلن میں ہی رہتے تھے۔ وہ خود کام نہیں کررہی تھی کہ بچے چھوٹے تھے۔ اس نے رات کے کھانے پر مجھے مدعو کرلیا۔
جیری کیتھرینا کا شوہر بہت دلچسپ آدمی تھا۔ مناسب قد اور مناسب کاٹھ کا خوبصورت آدمی تھا وہ۔ مجھ سے تو یقینی طور پر بہت بہتر شخصیت تھی اس کی۔ ساتھ ہی بہت ہی ہنس مکھ۔ دنیا بھر کے قصے یاد تھے اُسے۔ یہاں تک کہ مجھے شام کو ہوٹل سے اس نے اُٹھایا اور اپنے گھر لے گیا۔ تینوں نے ہنی کن بیئرکی چسکیاں لیتے ہوئے شام کا آغازکیاتھاہم بیئر پیتے رہے۔ گپیں مارتے رہے اور ادھر ادھر کی ہانکتے رہے، پرانے ڈبلن کی کہانیاں اور دوسرے دلچسپ واقعات، بیئر سے اچھا دوست ملنا بہت مشکل ہے۔ بیئر کا ہلکا ہلکا سرور آدمی کو کہاں سے کہاں پہنچادیتا ہے۔ بہت دنوں بعد بہت اچھی کمپنی میں پھر وہی ہنی کن پی رہا تھا جس کے نام کئی شام کیے تھے میں نے۔ اس شام کا لطف بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اسے صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
کیتھرینا دونوں بچوں کو بھی دیکھتی رہی اور ہمارے ساتھ باتوں میں بھی شامل رہی۔ دونوں خوبصورت بچوں کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے مجھے اچھا لگا۔ شام کے ختم ہوتے ہی کیتھرینا نے دونو ں بچوں کو میرے سامنے کھیلتے کھیلتے ہوئے کوئی انجکشن لگایا اور انہیں سلانے چلی گئی تھی۔ جبری مجھے کیری کاؤنٹی کے لطیفے سناتا رہا اور میں جواب میں پاکی لطیفے پیش کرتا رہاتھا۔ پھر باتوں باتوں میں اس نے بتایا تھا کہ اس کی ملاقات کیتھرینا سے اسٹیفن گرین کے پارک میں ہوئی اور ناجانے کیوں اسے بھاتی چلی گئی تھی۔ اس نے ہنس کے کہا کہ اچھا ہوا میں نے اور کیتھرینا نے شادی نہیں کی ورنہ وہ آج بھی کنوارا ہی ہوتا۔ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنس دیا۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ کیتھرینا نے اسے سب کچھ ہمارے بارے میں بتایا ہوا ہے۔
پھر اس نے کہا کہ مجھے اپنی بیوی کو بھی لانا چاہیے تھا۔ بے چاری لندن میں بور ہورہی ہوگی۔ یہاں ہوتی تو وہ بھی شامل ہوتی اس محفل میں۔ میں نے اسے نہیں بتایا کہ کوثر بیئر نہیں پیتی ہے بلکہ شاید میں بھی اس کے سامنے نہیں پیتا۔ کچھ اس قسم کے تعلقات تھے ہم میاں بیوی کے یہ اچھا تھا کہ وہ نہیں آئی تو میں ذرا کُھل کر پی بھی رہا ہوں اور باتیں بھی کررہا ہوں اس کی موجودگی میں ایک مصنوعی خاموشی ہوتی، ایک جھوٹ ہوتا ہم لوگوں کے درمیان ایسے ہی ہیں ہم لوگ، اسی طرح سے رہتے ہیں اپنے اپنے خولوں میں بند کبھی سچ بولتے ہیں تو کبھی جھوٹ۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

