میری چھاتیوں میں محسوس کرنے کی صلاحیت واپس آ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سارفینا ننسے

سارافینا یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکیلی میں فلکیات میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور جب انھوں نے اپنے آپشنز سے متعلق تحقیق شروع کی تو ان کی سائنس کی تعلیم نے ان کی بہت مدد کی۔ جب سارافینا ننسے کو یہ پتہ چلا کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ انھیں چھاتی کا سرطان ہو سکتا ہے تو انھوں نے اس سے بچنے کے لیے ڈبل میسٹیکٹمی (پستان ہٹانے کی سرجری) اور اس کے بعد چھاتی کی ریکنسٹرکشن( یعنی دوبارہ چھاتی لگوانے) کا فیصلہ کیا۔

اس سرجری سے ان میں کینسر کا رسک تو کم ہو جاتا لیکن ان کی چھاتی میں محسوس کرنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو جاتی۔ 26 سالہ سارافینا بغیر احساس کے جینے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکی تھیں کہ ایک نئی تحقیق نے ان کی دنیا ہی بدل دی۔ جب پہلی مرتبہ سارافینا کو بریسٹ کینسر کے لیے سکرین کیا گیا تھا تو ڈاکٹروں کو کچھ پریشان کن انکشاف ہوا تھا۔ سارافینا کو پہلے ہی معلوم تھا کہ انھیں اپنے والد سے بی آر سی اے 2 جین ورثے میں ملی ہے۔ انھیں یہ اس وقت معلوم ہوا جب ان کے والد کو پتا چلا کہ انھیں پروسٹریٹ کینسر ہے۔ اس وقت سارافینا کی بھی جینیاتی جانچ کی گئی۔

ان کی جین میں اس بات کے امکانات زیادہ نکلے کہ انھیں کئی طرح کے کینسر ہو سکتے ہیں جن میں چھاتی کا سرطان بھی شامل تھا۔ کیلیفورنیا کی رہائشی سارافینا کو بتایا گیا کہ انھیں سال میں دو مرتبہ سکریننگ کرانا ہو گی لیکن ان کے پہلے ایم آر آئی سکین کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی بائیوپسی کرائی۔ سارافینا کہتی ہیں کہ ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار کرتے ہوئے میں بہت خوفزدہ تھی۔ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ کیا ہو گا کہ ہم دونوں کو کینسر ہو۔ کیا ہو کہ اگر میں مر جاؤں۔‘

ان سے لیا جانے والا نمونہ سرطان سے پاک نکلا لیکن سارافینا نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ سکین کے عمل سے نہیں گزریں گی۔ وہ اپنی عمر کے 20 کے اوائل میں تھیں لیکن پھر بھی انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کینسر سے بچنے کے لیے ڈبل میسٹیکٹمی اور اس کے بعد بریسٹ ریکنسٹرکشن کروائیں گی۔ ان کے چھاتی کے ٹشو نکال لیے جائیں گے اور امپلانٹ سے نئی چھاتی بنا دی جائے گی۔

سارافینا ننسے
سرجری کے بعد جب سارافینا ہوش میں آئیں تو انھوں نے سکھ کا سانس لیا اور اب وہ تیزی سے صحتیاب ہو رہی ہیں

عموماً میسٹیکٹومی کے بعد ریکنسٹرکشن کی پیشکش دو طرح کی خواتین کے گروہوں کو کی جاتی ہے۔ ایک جن کو کینسر ہو اور دوسرا جنھیں چھاتی کے سرطان کا بہت زیادہ خطرہ ہو اور وہ اس سے بچاؤ کے لیے آپریشن کروانے کے لیے بھی تیار ہوں۔

برطانوی خیراتی ادارے ’بریسٹ کینسر ناؤ‘ کی کلینیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ایما پینیری کہتی ہیں کہ سارافینا جیسی خواتین کے لیے تجویز کردہ آپریشن ان خواتین کے لیے تجویز کردہ آپریشن سے مختلف ہوتا ہے جنھیں پہلے ہی بریسٹ کینسر ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ کینسر کا علاج مناسب طریقے سے کیا جائے۔‘

ڈاکٹر پینیری کہتی ہیں ’چھاتی کے سرطان کے خلیے نیپل(پستان کے سرے) کے ارد گرد یا پستان کے گرد حلقے میں رہ سکتے ہیں لہذا آپ کو محفوظ رہنے کے لیے سارے کینسر کو نکالنا ہو گا۔‘

’آپ کو کسی کو گلے لگاتے ہوئے کوئی احساس نہیں ہوتا‘

سارافینا یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکیلے میں شعبہ فلکیات میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور جب انھوں نے سرجری کے آپشنز سے متعلق تحقیق شروع کی تو ان کی سائنس کی تعلیم نے ان کی بہت مدد کی۔ وہ کہتی ہیں ’یہ جاننا بہت مشکل تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘

’جو خواتین میسٹیکٹومی اور ری کنسٹرکشن کرواتی ہیں وہ چھاتی میں احساس کھو سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ کو گلے ملتے ہوئے کچھ محسوس نہیں ہو گا، یا اگر آپ سمندر میں ہیں تو آپ اس کی لہروں کو اپنے جسم سے ٹکراتے ہوئے نہیں محسوس کر سکیں گے۔‘

ڈاکٹر پینیری کہتی ہیں کہ انھوں نے جس سرجن کے ساتھ کام کیا ہے وہ کوشش کرتی ہیں کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے کروائی جانے والی میسٹیکٹومی کے کم سے کم مضر اثرات ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ میسٹیکٹومی اور ری کنسٹرکشن کرنے کے لیے سرجن کو اس حصے کے گرد موجود اعصابی رگوں کو کاٹنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ حصہ سن ہو جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر این پیلیڈ
ڈاکٹر این پیلیڈ چھاتی کے کینسر اور پلاسٹک سرجری کی ماہر ہیں

کئی ہفتوں کی تحقیق کے بعد سارافینا نے کیلیفورنیا میں مقیم ڈاکٹر این پیلیڈ کو ڈھونڈا جو چھاتی کے کینسر اور پلاسٹک سرجری کی ماہر تھیں۔ ڈاکٹر پیلیڈ کو بھی چھاتی کا کینسر ہوا تھا۔ ڈاکٹر پیلیڈ نے کہا ’جب مجھ میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی تو میرے لیے فیصلہ کرنا بہت بہت زیادہ مشکل تھا کیونکہ مجھے لگا کہ 37 سال کی عمر میں اس بات کا احساس کہ پوری عمر میری چھاتی کچھ محسوس نہیں کرے گی ایک بہت مشکل سوچ تھی۔

انھوں نے اس کے متبادل سرجری کا فیصلہ کیا اور اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ جو کہ اعصاب سپیشلسٹ ہیں، احساس کی حس کو محفوظ بنانے کے نئے طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر پیلیڈ نے سنہ 2019 کے اختتام پر سارافینا کا آپریشن کیا اور بعد میں بریسٹ امپلانٹس کے ساتھ ریکنسٹرکشن بھی کی۔

سرجری کے بعد جب سارافینا ہوش میں آئیں تو انھوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ وہ تیزی سے صحتیاب ہو رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’اب میں اپنے تمام دائیں طرف اور بائیں طرف کے ایک تہائی حصے میں محسوس کر سکتی ہوں اور دن بہ دن یہ احساس زیادہ آ رہا ہے۔‘ اب سارافینا سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہیں کہ مرض کو روکنے کے لیے کروائی جانے والی میسٹیکٹومی اور ریکنسٹرکشن کے متعلق آگہی پھیلائی جائے۔

وہ اپنی پی ایچ ڈی کی تیاری بھی کر رہی ہیں اور خلا باز بننے کے لیے درخواست بھی دے رہی ہیں۔ یہ ان کے خاندان، خصوصاً ان کے والد کے لیے ایک مشکل وقت ہے کیونکہ وہ ابھی بھی کینسر کے لیے علاج کروا رہے ہیں۔

سارافینا کہتی ہیں ’وہ(والد) بہت دکھی ہیں کہ مجھ میں جینیاتی میوٹیشن (خرابی) ہے، مجھے یہ کروانا پڑا اور ان چیزوں کا سامنا کرنا پڑا جو میرے خیال میں وہ سوچتے ہیں کہ ان کا مجھے کبھی بھی سامنا نہ کرنا پڑتا۔‘ ’لیکن میرے خیال میں انھیں مجھ پر فخر ہے اور وہ شکر کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور میں 100 فیصد بالکل اسی طرح محسوس کر رہی ہوں جیسی میں ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12665 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp