کرونا وائرس پھِیلاؤ میں اتنا کامیاب کیوں ہو رہا ہے؟


اکیکو ایواساکی جو کہ یل سکول آف میڈیسن سے وابستہ ہیں کا کہنا ہے کہ ان وائرسوں کو انسانی جسم میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے جب یہ ہمیں پہلے مرحلے میں باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں خود یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اور وہ اس طرح کے ردعمل کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ردعمل کے طوفان کے وقت ہمارا مدافعاتی نظام مجنونانہ حرکتیں کرتا ہوا بعض دفعہ صحیح جگہ کی بجائے اپنی مرضی سے غلط جگہ پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ جب ایساہوتا ہے تو لوگ اس بیماری کے مدمقابل زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ یہ طوفان پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کو جو پہلے سے دائمی امراض کا شکار ہوں۔ اس سے اس چیز کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ کیوں کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کے امراض اور ثانوی نوعیت کے دیگر امراض پائے جاتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ کووڈ 19 کے کچھ مریض بہت زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں جب کہ کچھ معمولی نوعیت کے یا بالکل بھی نہیں؟ عمر ایک عنصر ہے۔ اسی لیے بوڑھے شخص اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیوں کہ ان کا مدافعاتی نظام بیماری کے شروع میں ہی قابل ذکر ردعمل نہیں دے پاتا جبکہ بچے اس لیے کم متاثر ہوتے ہیں کیوں کہ ان کا مدافعاتی نظام کو حرکیت خلوی کے طوفان کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بہت سارے دوسرے عناصر جیسے ایک شخص میں موجود جین، مدافعاتی نظام کی فعالیت، متاثرہ شخص میں وائرس کی تعداد، اور جسم میں موجود دیگر خوربینی جراثیم بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایواساکی کہتے ہیں عمومی طور پر یہ ایک راز ہے کہ کیوں بہت سارے لوگوں پر ہم عمر ہونے کے باوجود بیماری بہت زیادہ اثر نہیں کرتی۔

کرونا وائرسز انفلوئنزا کی طرز پر سردیوں کے وائرس ہی ہوتے ہیں۔ خشک اور ٹھنڈی ہوا میں، ایک پتلی سے مائع جھلی جو کہ ہمارے پھیپھڑوں اور ہوا کی گزرگاہوں کو ڈھانپے ہوتی ہے مزید سکڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے دھڑکنے والے ان چھوٹے چھوٹے بالوں کو جو کہ وائرسز اور باہر سے آنے والے ذرات کو باہر نکالتے ہیں کو مشکل پیش آتی ہے۔ خشک ہوا ہمارے جسم کے وائرس کے مقابل مدافعاتی عمل کو بھی قدرے سست کر دیتی ہے۔ جبکہ گرما کا مرطوب گرم موسم اس کے بالکل الٹ کرتا ہے جس میں وائرس کو قدم جمانے کے لئے دقت کا سامنا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے کووڈ 19 کی وبا کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ اس وقت یہ وائرس ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کے لوگوں کے مدافعاتی نظام کو پہلے اس نوعیت کی کسے وائرس کا سامنا نہیں رہا جو کہ بغیر کسی موسمیاتی تغیر کے سرایت کرتا جا رہا ہو۔ یہاں تک کہ یہ وائرس سنگاپور جیسے ٹراپیکل علاقوں میں بھی اور آسٹریلیا جیسے علاقے جہاں آج کل موسم گرما ہے وہاں بھی سرایت کرتا جا رہا ہے۔ اور حال میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ناول کرونا وائرس سال بھر کسی بھی مہینے میں پایا جا سکتا ہے۔ گریلنسکی کا کہنا ہے کہ مجھے اس پر خاطر خواہ بھروسا نہیں ہے جیسا کہ لوگ خیال کر رہے ہیں کہ شاید موسم اس وائرس کو متاثر کر سکے گا۔ کسی حد تک کم ہوسکتا ہے لیکن ایک سے دوسرے شخص میں اس وائرس کی منتقلی اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ موسم گرما کی آمد بھی اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ لوگ سماجی دوری نہیں اختیار کرتے جیسا کہ انہیں کہا جا رہا ہے۔

فرائی مین کا کہنا ہے کہ خوفزدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک یہ بھی نہیں پتا کہ ہر سال نارمل کرونا وائرس سے کتنے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس فلو کی طرح کرونا وائرس کے جائزے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ سردیوں میں کیوں چلے جاتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ وائرس ہر سال تبدیل کیوں ہوتے رہتے ہیں۔ اب تک تحقیقی کام کافی سست ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ایک سہ سالہ کانفرنس جس میں دنیا کے کرونا وائرس محققین نے ملنا تھا جو کہ نیدرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاٶں میں ہونا تھی کو کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے معطل کر دیاگیا ہے۔
فرئی میں ن کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس وبا سے یہ نہیں سیکھتے کہ ہمیں وائرسز کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے تو پھر یہ ہمارے لیے بہت برا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3