کرونا اور ہماری مذہبی و اخلاقی ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں (ایسا نہ ہو) کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے (الحجرات 61 ) ۔

آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس کو جہاں سے بھی کوئی پیغام، تصویر یا ویڈیو کرونا کے بارے میں موصول ہو وہ اسے بغیر تصدیق کے فارورڈ کرنا فرض عین سمجھتا ہے اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو قرآن میں درج ہے یعنی ”قوم کا نقصان“۔ قرآن کی پشین گوئی کے مطابق ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں افریقہ میں ڈیٹول پینے کی وجہ سے 59 لوگوں کی موت کی شکل میں دی جاسکتی ہے اور دوسری مثال ایران سے ہے جہاں کسی نے یوٹیوب سے کسی کی ویڈیو دیکھ کر ڈیٹول سے ملتا جلتا محلول کئی لوگوں کو پلا کر انہیں موت کے منہ دھکیل دیا۔ اس کا دوسرا نقصان خوف و ہراس اور مایوسی کی صورت میں نکل رہا ہے اور مایوسی تو ایسی بیماری ہے جو جنگیں ہرا دیتی ہے۔ غزوہ احد میں جب کسی نے اعلان کردیا کہ حضورﷺ شہید ہوگئے ہیں تو تمام صحابہ ہمت ہار گئے اور مسلمانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔

جنگ احد کی ہی دوسری مثال لیتے ہیں کہ جب حضورﷺ کے منع کرنے کے باوجود فتح کا جھوٹا اعلان سن کر درے پر متعین گروہ نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ یہی صورتِ حال آج کل ہماری عوام کی ہے۔ ہم حکومت کا حکم نہیں مان رہے جس کی وجہ سے آئے روز کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں میرا مقصد کسی کو بھی حضورﷺ سے تشبیہ دینا نہیں بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ لیڈر یا حکومت ہمیشہ بہترین فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اور ہمیں حکومت کے وضع کردہ حفاظتی اصولوں پر ہر ممکن عمل کرنا چاہیے، کم ازکم اس صورتِ حال میں یہ گزارش ہے کہ خدارا صرف وہ پیغام آگے پہنچائیں جو کسی قابلِ اعتبار ذرائع سے آپ تک پہنچا ہو۔

جس میں ملکی اور غیر ملکی حکومتیں اور صحت کے ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں کے علاوہ معلومات کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ ہو وہ معلومات خاص کر تکنیکی معلومات آگے پھیلانے سے گریز کریں۔ اس وقت حکومت پر تنقید کی بجائے اس کا ساتھ دیں۔ پاکستان کی قدر ان سے پوچھئے جو پڑوس میں بیٹھے ہیں جہاں جا کر آپ کو شدید احساس ہوگا کہ اپنا ملک اور مذہبی آزادی کیا چیزہے۔ جیسا بھی لولا لنگڑا نظام چل رہا ہے کم از کم حکومت کوشش تو کررہی ہے

بہت سے لوگوں کے ذاتی صحت یابی کے تجربات میرے سمیت یقیناً آپ کی نظروں سے بھی گزرے ہوں گے جو کہ میری رائے میں معلومات کا انتہائی ناقابلِ یقین ذریعہ ہے۔ ہر شخص کا مدافعتی نظام اور جسمانی ہئیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس کا حتمی فیصلہ ڈاکٹر ہی کرسکتے ہیں کہ کس شخص کے لئے کون سا علاج مناسب ہے۔ لہذا ایسے تجربات اور ماہرانہ تجزیات پھیلانے سے گریز ہی کریں۔

یہ ایک عالمی وبائی مرض ہے اس کی مزاحیہ ویڈیو بنانے اور پھیلانے سے گریز کریں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کے لئے یہ محض تفریح کا ذریعہ ہو لیکن یہ ویڈیو ایک ایسے شخص تک پہنچ جائے جس نے اپنے کسی عزیز کی جان اس میں کھوئی ہو تو وہ ویڈیو اس کی تکلیف میں اضافے کا باعث بن جائے۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ”اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“۔ ہمیں حددرجہ اس صورتحال میں حساس رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

جتنے مذہبی ٹوٹکے پاکستان کی سطح پر اپنائے جارہے ہیں کہیں بھی آزمائے نہیں جارہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر ایک شخص اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اللہ کے حضور دعا گو ہو مگر میں سوشل میڈیا پر حضورﷺ سے منسوب کرکے ایسی دعائیں اور ٹوٹکے شئیر کیے جارہے ہیں کہ انسان پریشان ہوجاتا ہے کہ بندہ پورا کرے یا نہ کرے اسے۔ پورا کرنے کے لئے تصدیق کا کوئی وضع کردہ نظام نہیں۔ پورا نہیں کرتا تو گناہ کا خوف۔ دعائیں نہ صرف شئیر کی جارہی ہیں بلکہ شئیر کرنے کی صورت میں اجر کی خبر اور نہ کرنے کی صورت میں سزا کی تنبیہہ بھی کی جارہی ہے۔ براہ کرم کبھی تو اس طرح کی غیر ذمہ داریوں سے باز رہا کریں۔

اسی ضمن میں ایک تکلیف دہ نقطہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دوسرے کے لئے ایمان اور عذاب کی سند جیب میں رکھی ہوتی ہے جب مرضی کسی کو بھی تھما دی۔ جب چین میں یہ وباء آئی تو ہم نے کہا حرام کھانے کا نتیجہ ہے اور اب پاکستان میں یہ وباء پھیلی تو اسے حکومت کی نا اہلی اور لوگوں کے گناہوں کا سبب بتا دیا۔ جب ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں اور مسلم ممالک کو امان میں رکھ تو کیوں بھائی صاحب دوسروں کا کیا قصور ہے زندگی تو سب کی اہم ہے۔ سب سے اہم یہ بات ہے کہ یہ آزمائش ہے کسی پر بھی آسکتی ہے۔ کل کہیں اور تھی آج اپنے ملک میں آگئی۔ آج کسی دوسرے شخص پر ہے تو آنے والے کل یہ خدانخواستہ ہم پر بھی آسکتی ہے۔ اس پر کسی قسم کا طعنہ دینا یا اس پر کسی قسم کا فتویٰ لگانا مذہبی علم کی بجائے کم علمی کا ثبوت دیتا ہے۔

انسانوں پر فتوے تو ایک طرف اللہ کی طرف سے فیصلہ بھی لوگ خود ہی سنادیتے ہیں کہ ”بھائی اللہ نے گناہوں کی سزا دی ہے“۔ میری رائے کے مطابق ہمیں اللہ کے متعلق دوسرے لوگوں کے دعووں کی نسبت اس کی اپنے دعوے پر یقین کرنا چاہیے جس میں اللہ فرماتا ہے ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے“۔ لہذا خود بھی اللہ کی رحمت سے امید رکھیں اور دوسروں میں بھی مایوسی مت پھیلائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply