بھیا ڈھکن فسادی نے وبا میں ولیمہ کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاجز یعنی بھیا ڈھکن فسادی ایک وقفے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری سمیت حاضر ہے۔ ہمارے منجھلے سالے کی شادی تھی کہ یہ نامراد کرونا وائرس ٹوٹ پڑا اور حکومت نے شادی ہال بند کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر پابندی عائد کر دی۔ یعنی ہماری بھاری سلامی ضائع ہونے کا مکمل بندوبست کر دیا گیا تھا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ ولیمے میں بندہ دل کھول کر کھا لے تو سلامی کا غم جاتا رہتا ہے بلکہ حساب کیا جائے تو الحمدللہ الٹا ہمارا پلڑا بہت بھاری نکلتا ہے۔ خدا نے جوانی دی ہے اور ہاضمہ بھی تو کفران نعمت کیوں کیا جائے؟

شادی ہال میں جو افراتفری ہوتی ہے اور لوگ باگ جس طرح کھانے پر ایسے ٹوٹے پڑتے ہیں جیسے پہلی مرتبہ دیکھا ہے، وہ ہم جیسے نستعلیق شخص کی نازک طبیعت پر گراں گزرتا ہے، پھر ہمارا مزاج بھی دوسروں کی مدد کرنے کا ہے۔ اس لیے ہم شادی والے خاندان کی حتی المقدور مدد کرنے کے لیے اکثر دیگوں پر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں جو بھی روکھی سوکھی میسر آئے اسی پر گزارا کر لیتے ہیں۔ ہماری یہ کارکردگی دیکھ کر بعض میزبان تو ایسے ممنون ہوتے ہیں کہ ہمارے پاؤں ہی پڑ جاتے ہیں کہ ہم دوسرے مہمانوں کی طرح ہال میں میز کرسی پر تشریف رکھیں کہ ہال میں کھانا کم پڑ رہا ہے تو ادھر ہماری موجودگی زیادہ ضروری ہے۔

بہرحال بات ولیمے کی ہو رہی تھی۔ ہمیں علم ہوا کہ پولیس تھانے سے گھبرا کر ولیمہ ہی منسوخ کیا جا رہا ہے تو ہمیں شدید صدمہ ہوا۔ کسی کے ارمانوں پر ایسے تو چھری نہیں چلانی چاہیے۔ شادی ویسے بھی کون سا روز روز ہوتی ہے۔ ہم نے پورے کنبے کو تسلی دی کہ ہمارے جیتے جی ایسا ممکن نہیں کہ شادی ہو اور ولیمہ نا ہو سکے۔ اس پر دلہا میاں خوفزدہ ہو کر بولے کہ پولیس کو علم ہوا تو وہ مجھے اور والد بزرگوار کو پکڑ کر حوالات میں بند کر دیں گے اور حجلہ عروسی مجھ بن سونا رہ جائے گا۔

تس پہ ہم مسکرائے اور بولے ”دیکھو بیٹا ہمارے ہوتے ہوئے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قوانین تو ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ معززین انہیں توڑ کر دوسروں کو بتا سکیں کہ ان کا سماج میں مرتبہ کیا ہے۔ ابھی یہی دیکھ لو کہ آج تک ہم نے پروا نہیں کی کہ چوراہے پر اشارہ سرخ ہے یا سبز، ہمیشہ دائیں بائیں دیکھ کر نکل لیتے ہیں۔ ویسے تو ہماری شخصیت کا رعب ہی اتنا ہے کہ کوئی عام پولیس والا ہمیں روکنے کی جرات ہی نہیں کرتا، کوئی کر بھی لے تو ہم اس کی کچھ مدد کر دیتے ہیں تاکہ چائے پانی پی کر تازہ دم ہو اور چوکس ہو کر اپنی ڈیوٹی کرے۔ “

”بلکہ پچھلے دنوں تو ہم ایک دوست کے ساتھ ٹرک پر بیٹھے جا رہے تھے کہ سامنے ایک اوور ہیڈ پل آ گیا۔ اس پر لکھا تھا پندرہ فٹ سے بلند گاڑی اس کے نیچے سے نہیں گزر سکتی۔ دوست نے اپنی گاڑی کی اونچائی ناپی تو سترہ فٹ تھی۔ بچارا پریشان ہو گیا کہ اب کیا کروں۔ ہم نے گاڑی سے نکل کر پل ملاحظہ کیا، اس پر لکھی ہدایت پڑھی، دائیں بائیں دیکھا اور پھر آ کر اسے ہدایت کی کہ اللہ کا نام لے کر چل پڑو، ادھر کوئی پولیس والا نہیں ہے جو تمہیں دق کرے، ویسے بھی ہم تمہارے ساتھ ہیں تو پریشانی کاہے کی۔ شکر ہے کہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔ “

پھر کیا ہوا؟ دلہا نے نہایت پرامید انداز میں پوچھا۔

”آدھا ٹرک تو آسانی سے گزر گیا اور باقی کے متعلق وہ پندرہ فٹ سے زیادہ ہونے کی شکایت جاتی رہی بلکہ الٹا مال میں کچھ اضافہ ہی ہوا کہ پل سے بھی کچھ ملبہ ٹرک میں لوڈ ہو گیا۔ اسے بیچ کر اس نے مزید منافع کمایا ہو گا۔ ہماری بات پر عمل کرنے میں فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔ شادی ہال میں نا سہی ہم تمہارا ولیمہ اپنے گھر میں کریں گے اور پولیس آئی تو بتا دیں گے کہ دلہا ہم ہیں، ہمیں پکڑ لیں“ ہم نے دلہا کو تسلی دی تو وہ ولیمے کے انتظامات ہمارے سپرد کر کے نچنت ہو گیا۔

ہم نے اپنے گھر کی اوپری منزل میں تمام انتظام کر دیا۔ ادھر ایک بڑا ہال ہے جس میں دو سو افراد قریب قریب کھڑے ہو کر طعام تسلی سے تناول کر سکتے ہیں۔ الحمدللہ ولیمہ نہایت کامیابی سے سرانجام پایا۔ ہم نے شادی کی خوشی میں دل کھول کر کھایا بھی اور بریانی اور قورمے کی دو دیگیں اپنے فریزر میں بھی محفوظ کر لیں۔ لیکن انسان نہایت ناشکرا ہے۔

بجائے اس کے کہ دلہا اور اس کے اہل خانہ ہمارا احسان مانتے، وہ کل سے کہتے پھر رہے ہیں کہ ولیمے کے مہمانوں میں سے تین کرونا کے کنفرم مریض تھے اور اب ہماری وجہ سے شریک ہونے والے تمام افراد کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ بھئی کرواتے رہیں وہ اپنا ٹیسٹ، ہم تو تبلیغ کے لیے نکل رہے ہیں اور آدھا ملک گھوم کر چالیس روز بعد واپس ہوں گے۔ ان لوگوں کا ایمان نہایت کمزور ہے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس کی جتنی لکھی ہے اتنا ہی جیے گا۔

ویسے بھی کرونا وغیرہ کچھ نہیں ہوتا، یہ یہود و ہنود کی سازش ہے تاکہ ہم ولیمے اور دینی اجتماعات نا کر سکیں۔ اور مکاری دیکھیں ان کی کہ سب سے پہلے کرونا کی افواہ بھی ملحد چین اور مسیحی اٹلی میں پھِیلائی تاکہ کوئی شبہ نا کرے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ اللہ ہمیں ان عیار کفار کی سازشوں سے بچائے۔

اس سیریز کے دیگر حصےڈالر والے لفافہ دانشور
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1273 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *