بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی
بھیا ڈھکن فسادی تڑاک سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اندر آتے ہی بولے ”بس آج تو فوراً ہی منہ میٹھا کرا دو۔ ہم تو فسق و فجور میں پڑی ہوئی اور لہو و لعب میں ڈوبی ہوئی اس قوم سے مایوس ہو چلے تھے لیکن شکر ہے کہ ابھی بھی اس تن مردہ میں کچھ جان باقی ہے“۔
یہ کہہ کر وہ فوراً فرج پر ٹوٹ پڑے اور جلد ہی وہ میز پر بیٹھ کر چار کلو آموں کو تن تنہا کھانے میں مشغول ہو گئے۔
”کیا ہوا بھیا۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟ “
”میاں تمہارے بھائی نے آخر کار گاڑی خرید ہی لی۔ اور اس پر پہلی ہی سواری بہت مبارک ثابت ہوئی“


