ناصر بشیر کے گھر چوری کی واردات اور جذبہ ایمانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز شاعر اور کالم نگار ناصر بشیر کا تعلق ملتان سے ہے۔ وہ لاہور میں مقیم ہیں مگر ان دنوں ملتان میں شاہ شمس روڈ پر اپنے گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔ ایسے میں ایک نامعلوم چور رات کو دیوار پھلانگ کر ان کے گھرمیں داخل ہوا اور ان کا بیگ اور ان کے گھر کے افراد کے تین قیمتی موبائل لے اڑا۔ بیگ میں 65 ہزار روپے اور قیمتی کاغذات تھے۔ ناصر بشیر کا کہنا ہے کہ انہوں علاقے کے تھانے میں ایس ایچ او کو رپورٹ کی ہے مگر نہ جانے کب ایف آئی آر درج ہو گی اور کب چور کو پکڑنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔

ناصر بشیر کے لہجے میں چور کو پکڑنے کے حوالے سے مایوسی کا پہلو محسوس کیا جا سکتا تھا اور بجا تھا کیوں قانون کے رکھوالوں کی فرض شناسی کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔ ہوا یوں کہ چند برس پیش تر ہمارے ایک نہایت قریبی دوست کے گھر چوری ہو گئی۔ گھر خالی تھا جب وہ دروازے کا تالا کھولنے کے لیے آگے بڑھے تو دروازہ کھلا ہوا پایا۔ اسی اثنا میں چور ان کے مکان سے نکلا۔ انہوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ گھر میں داخل ہونے پر پتا چلا کہ ہر چیز الٹ پلٹ تھی۔ کچھ سامان باندھا ہوا بھی ملا تاہم وہ دس تولے سونا لے اڑا تھا۔

انھوں نے پولیس کو رپورٹ کی۔ تھانیدار صاحب ان کے گھر تشریف لائے اور پہلا سوال یہ کیا کہ چور کون ہے؟ دوست نے کہا، ”حضور یہ تو آپ اسے پکڑنے کے بعد مجھے بتائیں گے“۔ تھانیدار صاحب مسکرائے، ”جی نہیں آپ بتائیں کہ کس پر شک ہے، ہم اسے پکڑ کر اگلوا لیں گے کہ اس نے چوری کی ہے۔ “ اس کے بعد ان کو ہر دو تین دن بعد تھانے سے فون آتا تھا کہ سو پچاس کلومیٹر دور کسی تھانے میں چور پکڑا گیا ہے۔ شناخت کے لیے چلیے۔ پھر وہ دوست نہ صرف پولیس پارٹی کو اپنے خرچ پر وہاں لے جاتے تھے بلکہ کھانے بھی کھلاتے تھے۔ آٹھ دس شناختوں کے بعد انہوں نے معذرت کر لی کہ اب مجھے چور کا چہرہ یاد نہیں رہا۔ کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ چوری کی رقم سے زیادہ وہ پولیس پر خرچ کر ڈالیں گے۔

بات ایک محکمے کی نہیں ہے۔ دل پرہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہمارے ہاں ایمان کہاں باقی ہے؟ 2005 کے زلزلے میں ایک طرف قیامتِ صغریٰ کا عالم تھا اور دوسری طرف وارداتیں ہو رہی تھیں۔ وہ شخص بھی سب کو یاد ہو گا جس کے پاس سے ایک تھیلا برآمد کیا گیا تھا جس میں خواتین کے سونے کی چوڑیاں اور کڑے پہنے ہوئے کٹے ہوئے بازو تھے۔ حج اسکینڈل بھی ابھی تک ذہن کے پردے پر نقش ہے۔ ٹرین حادثے کا شکار ہو جائے تو بے ہوش ہو جانے والے مسافر ہوش میں آنے تک اپنے قیمتی سامان سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔

چند برس پہلے احمد پور شرقیہ میں ٹینکر الٹ جانے سے تیل لیک ہونا شروع ہوا تو لوگ تیل لوٹنے میں مصروف ہو گئے پھر دھماکے سے ٹینکر پھٹا اور سیکڑوں لوگ جان سے گئے۔ اتنے بڑے خطرے کے باوجود انہوں نے چند سو یا ہزار کا پیٹرول لوٹنا اپنی قیمتی جان سے مقدم جانا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس کے بعد ایسے کئی واقعات ہوئے اور لوگ باگ باز نہ آئے بلکہ اسی عمل کو دہرایا۔

وبا کے دنوں واردات ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ ہم اخلاقی گراوٹ کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں جہاں مزید گرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کتنے نوحے لکھے جائیں، کتنا ماتم کیا جائے۔ ہمیں ناصر بشیر سے ہم دردی ہے۔ اب یہی بہتر ہے کہ وہ گم شدہ سامان کے ملنے کی امید چھوڑ دیں اور صبر کریں۔ جس دیس میں شاعروں کی کمائی لٹ جائے اس دیس کے سلطان سے کوئی بھول نہیں ہوئی، کیوں کہ وہ کرپٹ نہیں ہے۔ یوں بھی اس نے بتایا ہے کہ باقی سب چور ہیں۔ وہ جذبہ ایمانی سے لبریز ہے اس لئے گمان رکھتا ہے کہ پوری قوم اسی جذبہ ایمانی سے کورونا جیسی وبا کا بھی مقابلہ کر لے گی۔ اسی جذبہ ایمانی سے جس کی ایک جھلک ہم نے دکھائی ہے۔

ڈاکٹرز اور نرسیں کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کریں مگر ان کے لیے حفاظتی کٹس موجود نہیں ہیں، سرحدیں عوام کی سہولت کے لئے کھلی ہیں مگر وہاں چیکنگ کے آلات نہیں ہیں بلکہ چیکنگ کا نظام بھی ناپید ہے۔ مریض شدید بیمار ہوئے تو ان کے لیے وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت کو دیہاڑی دار مزدوروں اور غریبوں سے بھی بڑی ہمدردی ہے اس لیے لاک ڈاؤن کی حامی نہیں مگر ان غریبوں کے لئے امداد کا بھی کوئی بندوبست نہیں۔ تاہم ایک آپشن ضرور دیا گیا ہے کہ عوام چندہ دیں تاکہ عوام کی مدد کی جاسکے۔ باقی رہی کورونا وائرس کی بات تو اس کا مقابلہ جذبہ ایمانی سے کریں۔

بقول شاعر ’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا: لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں‘ بات دور جا نکلتی ہے مگر بنیادی بات یہ ہے کہ اس وقت ہم میں سے ہر فرد کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ بقول سرسید احمد خان عوام اپنے حکمران کو اپنے جیسا بنا لیتے ہیں۔ حکمران کوئی بھی ہو۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ بحیثیتِ قوم ہمارے رویے اور اعمال کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ہماری سوچیں کس قدر پست ہیں۔

آج ہم اپنے رویے اور اپنی سوچ کو بدلنے کا عمل شروع کر سکیں تو شاید آنے والے وقتوں میں حقیقتاً جذبہ ایمانی سے سرشار ہوں۔ تاہم ایمان کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور تدبیر کی اپنی جگہ۔ بہر حال یہ پہلو بھی ذہن میں رکھیے کہ بھوک سے مرتے ہوئے آدمی کو ایمان نہیں روٹی یاد آتی ہے۔ خدا تعالیٰ ہمیں وبا کے دنوں میں ہر حوالے سے محفوظ رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *