ذہنی، فکری اور اخلاقی وبائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حوزے سارا ماگو پرتگال کے ایک ناول نگار تھے۔ 1995 ء میں انہوں نے ”اندھا پن“ کے عنوان سے ایک ناول لکھا۔ یہ ناول بے حد مقبول ہوا۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ فلمیں بنیں۔ 1998 ء میں اسے نوبل انعام سے نوازا گیا اور عالمی ادب کے سو بہترین ناولوں میں جگہ دی گئی۔

یہ ناول ایک شہر میں پھیلنے والی سفید اندھے پن کی وبا کی کہانی سناتا ہے۔ اس شہر کے لوگ اچانک سفیداندھے پن میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر کسی کی بینائی ضائع ہوتی چلی جاتی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے سفید رنگ کی دیوار حائل ہو جاتی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے شہر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ وبا پر قابو پانے کی تمام تر سرکاری کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف افراتفری مچ جاتی ہے۔ حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ریاست ٹوٹ جاتی ہے۔ شہر پر مختلف شر پسند ٹولے قبضہ جمالیتے ہیں۔ یہ خود بھی اندھے ہوتے ہیں۔

موت کی سرخ آندھی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتی ہے۔ اندھے پن، موت، تعفن زدہ لاشوں اور قحط کی اس چار دیواری میں انسانوں کا ایک ہجوم آباد ہوتا ہے۔ اس ہجوم میں طرح طرح کی اخلاقی وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ بھوک، جنسی درندگی اور شر پسندی کے عفریت برہنہ ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔ انسانوں کے اندر کا درندہ باہر آجاتا ہے۔ غذا کے حصول اور جنسی ہوس کی تسکین کے لیے ہر شخص دوسرے سے الجھتا ہے۔ خواتین کی بے حرمتی، غارت گری اور لڑائی جھگڑوں کی کثرت جنگلی درندوں کو بھی شرما دیتی ہے۔ لوگ ٹٹول ٹٹول جہاں کہیں کھانے پینے کی چیزیں پاتے ہیں، ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ہاتھ کچھ نہ کچھ آجائے۔ اس دھکم پھیل میں بچے اور کمزور افراد کچلے جاتے ہیں۔ مگر انسانوں کی طرح بانٹ کر کھانے کی طرف کسی کا ذہن نہیں جاتا۔

ناول ”اندھا پن“ کے کردار آنکھوں کے سفید اندھے پن سے زیادہ سیاہ فکری اور اخلاقی اندھے پن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حوزے سارا ماگو اسی ”اندھے پن“ کی طرف ہمیں متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک جگہ وہ ناول کے کردار کی زبان سے یہ الفاظ کہلواتے ہیں :

”ہم اندھے نہیں ہیں، بلکہ ہم“ دیکھنے والے اندھے ”ہیں۔ ایسے اندھے جو دیکھ سکتے ہیں مگر دیکھتے نہیں۔ “

جسمانی وبائیں، ناگہانی آفتیں، قحط اور جنگیں اتنی بڑی مصیبت نہیں ہوتیں جتنی ان کے نتیجے میں جنم لینے والی اخلاقی، روحانی اور ذہنی وبائیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں جب 8 اکتوبر 2005 ء کا زلزلہ آیا تھا تو ہم نے سنا تھا کہ چوروں اور لٹیروں نے ملبے کے نیچے دبی خواتین کے ناک اور کان کاٹ کر ان سے زیور نکال لیے۔ اس وقت بھی ہمارا طفلانہ ذہن زلزلے کی ہلاکتوں اور جانی ومالی تباہ کا ریوں سے زیادہ اس درندگی سے متاثر ہوا۔

آج بھی کورونا کی وبا پھیپھڑوں اور نتھنوں نے زیادہ ضمیروں، روحوں اور ذہنوں کو بیمار کر رہی ہے۔ بلکہ جو پہلے سے اخلاقی بیمار ہیں ان کی بیماری کو مزید دو چند کر رہی ہے اور ان کے اندر کا بے ضمیر، مفاد پرست اور ہوس پسند اچھل اچھل کر باہر آرہا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کا دھندہ اپنے عروج پہ جا رہا ہے۔ بہت سے ایمان کے بیماری بند مسجدوں کی طرف انگلیاں اٹھا اٹھا کر خدا اور خدا پرستوں کو کوسنے دے رہے ہیں۔ افواہیں اڑانے والے خوف اور ہراس کا بے سود اور بدمزہ کاروبا بڑے مزے لے لے کر کر رہے ہیں۔

جعلی ادویات کی گرم بازاری میں کمی آئی ہے نہ ہی حکمرانوں کی سیاسی لن ترانیاں رکنے میں آرہی ہیں۔ حال ہی میں پشاور میں 600 جعلی سینی ٹائزر پکڑے گئے واللہ اعلم! کتنے روزانہ فروخت بھی ہوتے ہوں گے؟ جنسی درندے اب بھی نو خیز کلیاں نوچنے سے باز نہیں آرہے۔ کھیتوں سے دو دو معصوم بھائیوں کی لاشیں اٹھائی جارہی ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امید اور ایمان کی بھی لاکھوں مشعلیں روشن ہیں۔ لوگ اپنے پروردگار سے تعلق کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یقین اور توکل کی کرنیں دلوں کو منور کر رہی ہیں۔ طبی ہدایات اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے اور صفائی ستھرائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ انسانیت کا حقیقی درد رکھنے والے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں محتاج اور حالیہ وبا سے بے روزگار ہونے والوں کا سہارا بن رہے ہیں۔ بہت سے لوگ گھروں میں بیٹھ کر کتاب سے جڑ رہے ہیں۔ اپنے اہلِ خانہ کو وقت دے رہے ہیں۔ بچوں میں محبتیں بانٹ رہے ہیں۔

لیکن وبا کے فکری، اخلاقی اور ذہنی مریضوں کی بھی کمی نہیں۔ ان لوگوں کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ عذاب کے نزول کی گھڑیوں میں خدا کی بغاوت کرنے والوں کی تو توبہ کی فرصت بھی نہیں ملتی۔ اس عالمی انسانی المیے کے موقع پر تو حلال منافع سے بھی ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ چہ جائیکہ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور جعل سازی کا قبیح کاروبار شروع کر دیا جائے۔

قرآن مجید نے تو ہمیں خود بھوکا رہ کر اوروں کا پیٹ بھرنے کی ترغیب دی ہے۔ اپنی محبوب ترین چیز اللہ کی راہ میں غریبوں اور محتاجوں پر صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہم تو ان نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ماننے والے ہیں جنہوں نے انسان تو انسان پرندوں اور درندوں پر خرچ کرنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ (باغوں اور کھیتوں سے ) جو کچھ درندے اور پرندے کھا جاتے ہیں اس پر بھی اجر ملتا ہے۔ (مستدرک حاکم، الترغیب) افسوس صد افسوس! اگر ان عظیم اخلاقی اور انسانی تعلیمات کو ماننے والے بھی خود کو اتنا نیچے گرالیں۔

”حقیقت یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ “ (الحج 46 )

آج یومیہ کمائی کرنے والوں کا فقر و فاقہ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ ایک خاتون نے سڑک کے بیچ گاڑی روک کر ایک محتاج کو پیسے دینا چاہے تو دو سو کے قریب مزدوروں نے اس کی گاڑی کو گھیر لیا اور ان سب کی آنکھوں میں فقر اور فاقے کی مسکینی دستِ سوال دراز کیے کھڑی تھی۔ وہ خاتون بمشکل وہاں سے اپنی جان بچاتی ہوئی نکلیں۔

اس عبرت انگیز ماحول میں بھی اگر حکومت اور حزبِ اختلاف اپنے سیاسی مفاد کی جنگ لڑتے رہیں اور سرمایہ دار فریب کاری، ذخیرہ اندوزی اور جعل سازی سے قوم کا خون نچوڑتے رہیں تو پھر کسی نئے عذاب کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم خود ہی اپنی تباہی کے لیے کافی ہیں۔ حامد میر صاحب نے بالکل بجا کہا ہے کہ

جب چاروں طرف موت کھڑی ہو تو موت بیچ کر پیسہ کمانا مردار خوری سے بھی بد تر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *