لا اِکراہ فی الدین
نتیجہ اسکول میں تو کیا نکلنا تھا۔ بچہ چھوٹا ہونے کے باوجود باپ کی منطق کو بھانپ گیا۔ چند ہفتوں بعد ہی نیند سے بیدار ہو کر عجیب عجیب سی باتیں کرنے لگا۔ ہذیانی انداز میں، عمر یہی کوئی تین چار برس رہی ہو گی۔
”ابو، ابو! میں نے گائے کو مار ڈالا، مجھے باہر لے کر جائیں۔ میں گائے سے سوری بولوں گا۔ مجھے گائے کو سوری بولنا ہے“۔
بچہ تاسف اور فکر میں گھرا ہوا تھا۔ دین محمد اور اس کی بیوی نے سمجھانے کی لاکھ کوشش کی کہ یہ محض خواب تھا اور گائے اپنی جگہ خوش ہے۔ مگر وہ کہاں باز آنے والا تھا۔ رونا دھونا اور ضد شروع کر دی۔ بالآخر دین محمد کو اسے صحت مند اور تنومند گائیں دکھانا پڑیں۔ جنہیں دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔ دین محمد کو بیٹے پر پیار بھی آیا اور اس کی نرم دلی اسے پریشان بھی کرتی رہی۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اس قدر سنگ دل معاشرے میں جہاں لوگوں کو انسان سے محبت نہیں رہی وہاں جانوروں سے پیار اور ہم دردی رکھنے والوں کا گزارا کس قدر عذاب ناک ہو گا۔
کمیٹی کا صدر بننے کے بعد دین محمد کے فرائض اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ برسوں سے ہندو اور مسلمان پڑوسیوں کے گھروں سے باہر کرسیاں نکال کر محفل جمائی جاتی تھی، کلاسوں کا امتیاز بھی باقی نہیں رہا تھا۔ سبھی ساتھ کھاتے پیتے تھے مگر اب سب اپنی اپنی سوچوں سے خوف زدہ تھے۔ نظریں ملاتے، ہنستے بولتے جھجکتے تھے۔ پڑوسیوں نے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا چھوڑ دیا تھا۔ بچوں کو تنبیہہ کر دی گئی تھی کہ وہ پڑوسیوں سے زیادہ میل جول نہ بڑھائیں۔
خوف و دہشت اس دن زیادہ بڑھتا تھا جب ہر گلی کے درمیان کہیں ریڈیو ہندو مسلم فسادات میں مرنے والے فریقین اور واقعات کی تفصیلات بیان کرتا تھا۔ مسلمان جوش میں مٹھیاں بھنچ لیتے۔ آسودہ حال ہندوؤں اور ان کے مندروں کا سکون انہیں تازیانے لگاتا۔ ان کا خون کھول اُٹھتا تھا اور وہ ساری اخلاقی پابندیوں اور اصولوں کو لمحوں میں توڑنے کے لیے تیار ہو جاتے۔
اکیلا دین محمد اس بپھرتے تلاطم پر کب تک بند باندھ سکتا تھا؟
اب تو بڑھتے ہوئے مظالم سنتے، پڑھتے اور دیکھتے ہوئے ادھیڑ عمراور بزرگ مسلمانوں نے بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنی خاموشی کو بزدلی کہہ دیا تھا۔ نوجوان ویسے ہی بپھرے بیٹھے تھے۔ ایک صبح مؤذن نے ابھی بانگ کی شروعات بھی نہیں کی تھی کہ مسلمان لڑکوں کا پورا جتھا جذبہء ایمانی سے سرشار، ہندوؤں کے مکانوں کی چھتوں پر جا کڑکا۔
نعرہٴ تکبیر اور اللہ اکبر کے پرجوش نعروں نے فضا کو وقت سے پہلے بیدار کر دیا۔
شرپسندوں کے ایما پر تین لڑکے لچھمن داس کے گھر کے پچھواڑے سے گھر کے اندر کود آئے۔ یک نہ شد تین شد۔
”بھائی دین محمد۔ بھائی دین محمد“۔
شکنتلا کی دل دہلانے والی آوازوں نے دین محمد کے اعصاب کو جھنجوڑ ڈالا۔
اللہ اکبر۔ وہ سیڑھیاں پھلانگتا۔ ملی ہوئی چھت سے گھر کے آنگن میں کود گیا۔
”مار ڈالو مجھے۔ کاٹ ڈالو“۔ اس نے اپنا سینہ لڑکوں کے سامنے تان دیا۔
لچھمن داس اور شکنتلا بھابھی زرد رنگتوں کے ساتھ گھگھیارہے تھے۔ ننھا کمل شاید ابھی کمرے ہی میں تھا۔ دین محمد نے پہلی بار شکنتلا بھابھی کو ننگے سر دیکھا تھا۔
”تم اندر آ جاؤ بھابھی۔ میں پوچھتا ہوں ان سے“۔
”کیوں میاں کیا چاہیے؟ کیا مل جائے گا ان کومار کے؟ زیور میں دے دیتا ہوں۔ پیسا بھی کچھ مل جائے گا، مگر پہلے مجھے مارو۔ مجھے شہید کرو۔ اذان کے وقت کسی انسان کو بچا کے مروں گا تو موت بھی قبول ہو جائے گی“۔ تینوں محلّے ہی کے لڑکے تھے۔
”دین محمد چاچا۔ مت بچاؤ ان کافروں کو، کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ نہیں جانتے ہو کہ کیا ہو رہا ہے اُدھر“۔
”سب جانتا ہوں اور ایمان والوں اور کافروں کے درمیان فرق بھی معلوم ہے۔ تم اپنے ایمانوں کی خبر لو۔ صبح دم، فجر کی نماز کے وقت بے گناہ جانیں لینے کے لیے اُٹھے ہو، یہ ہے مجاہد کا کام“؟ دین محمد بے قابو ہونے کے باوجود بھی نپا تلا لہجہ رکھے ہوئے تھے۔
لڑکے جوش جوانی میں بھرے تھے مگر چوں کہ یہ شرپسندوں کی سازش کے تحت ہو رہا تھا لہٰذا جلد ہی صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور باہر نکل گئے۔ شکنتلا دین محمد کے قدموں میں گر پڑی۔
”بھائی ہوتے ہی ایسے ہیں۔ بھائی ہوتے ہی ایسے ہیں“۔ شکنتلا بار بار یہی کہے جا رہی تھی اور آنسوؤں سے بھری آنکھیں صاف کر رہی تھی۔ دین محمد نے کمل کو گود میں اُٹھایا اور شکنتلا سے بولا ”بس اب کچھ دن آپ میرے ہی گھر پر رہیں۔ فاطمہ آپ کو کمرا دے دے گی“۔
لچھمن داس نے اپنا سرمایہ اور بزنس سمیٹنا شروع کیا وہ بمبئی میں قیام پذیر ہونا چاہتا تھا۔ اس کے خیال میں اب یہاں زیادہ رہنا کسی بڑے خطرے کو دعوت دینا تھا۔ ویسے تو کمل اور شکنتلا سارا دن دین محمد کے گھر رہتے تھے مگر جب لچھمن داس کو بمبئی جانا پڑا تو اس نے ”بھائی دین محمد تمہارے حوالے“ کہہ کر ہچکیوں کے ساتھ روناشروع کر دیا، تب دین محمد اور فاطمہ کی پلکیں بھی بھیگ گئیں۔ انہیں ایک کے بجائے دو گھر سنبھالنے پڑ گئے۔ دونوں گھروں کی آمد و رفت سہل کرنے کے لیے دین محمد نے آنگن کی دیوار گروا کر لکڑی کا دروازہ لگوا دیا۔ تا کہ بیرونی دروازہ استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
صبح کی اذان ہوتے ہی دونوں میاں بیوی جاگتے تو گائتری منترکے بول ان کی سماعتوں میں رس گھولتے۔ نہایت سریلی مگر مدہم آواز سے شکنتلا اشلوک گا رہی ہوتی۔
اوم بھور بھوا سواہا تتس وتر ورے نیم
بھرگو دیوسیہ دھی مہی دھیو یو نہ پرچو دیات
تمسو ما جیوترگ میہ، استو ما سدگمیہُ
وسو دھیو کٹومبکم
بس ابھی اشلوک ختم ہی ہوتا کہ سوا دو سال کا کمل مٹکتا مٹکتا دین محمد کے گھر آ دھمکتا اور جب اس طرف آتا تو جانے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ تتلا تتلا کر سب کا نام لے لیتا تھا۔ بسم اللہ کہہ کر کھانا شروع کرتا تھا اور کبھی کبھار تو فاطمہ کے ساتھ جائے نماز پر بھی کھڑا ہو کر ان کے بچوں کی طرح نماز ادا کرنے لگ جاتا۔ بچے اور دونوں میاں بیوی اس سے بڑی محبت کرنے لگ گئے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


