لا اِکراہ فی الدین
وہ دن ابھی سب کو یاد ہی تھے، جب بابری مسجد کا تنازِع زور پکڑ گیا اور ہندو مسلم منافرت پھوٹ پڑی تھی۔ اندھے انتقام کی سیاہ آندھی نے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہر مسلمان کا دل تڑپ اُٹھا تھا۔ ہر گھر میں اشتعال تھا۔ اللہ کے گھر کو مسمار کرنے والوں کے خلاف دِلوں میں بڑا نفرت انگیز جذبہ بھڑک گیا تھا۔
دھڑا دھڑ مندر جلنے لگے۔ نوجوان موقِع کی تاڑ میں تھے کہ کسی طرح غیر مسلمین کی دکانوں اور گھروں کو نذرِ آتش کریں۔ لاوڈ اسپیکروں سے جہاد جہاد کی پکاریں آنے لگیں اور لوگوں کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔
مگر دین محمد کا خون مزید ٹھنڈا ہو گیا۔ اپنی خوبصورت ریش پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے مؤذن اوم کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
”دیکھو بھائیو۔ کیا ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ گناہ گار کی سزا بے گناہوں کو دیں۔ بے قصور عورتیں اور بچے یتیم بنا دیے جائیں۔ رام اور رحیم کا جھگڑا پہلے بھی کئی بار اُٹھایا گیا ہے مگر جب جب دنگا رُکتا ہے اور خون کی گرمی کم ہوتی ہے تب لوگ اپنے پیاروں کی میتوں پر پچھتاتے نظر آتے ہیں، جب چھرا کسی کی آنتیں باہر نکالتا ہے تب جو خون بہتا ہے۔ اس کا رنگ لال ہی ہوتا ہے، خواہ وہ مسلمان کا ہو یا ہندو کا۔ کیوں کہ یہ آدم کے بچوں کا خون ہے اور جس ماں کے جگر کا ٹکڑا، لاش کی شکل میں آنگن میں ڈالا جاتا ہے، اس ماں کے جذبات کسی بھی مذہب کی ماں سے مختلف نہیں ہوتے۔ میں نے خود غیرمذہب کے ماننے والوں کے گھروں میں کہرام دیکھے ہیں۔ ایسے ہی ماتم ہمارے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں۔ یہ شیطان کا جال ہے۔ یہ انسانوں کو لڑانے کی سازش ہے۔ اسے ناکام کرو۔ میری بہن بیوہ ہو گی یا کسی عیسائی کے گھر اولاد کا قتل ہو گا یا کوئی ہندو عورت چوڑیاں توڑ کر پاگل ہو گی۔ مگر یہ سب انسان ہی ہیں نا۔ دُکھ کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔ درد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہمارا مذہب رواداری محبت اور امن کا مذہب ہے۔ یہی ہمارے ہتھیار ہیں“۔
نوجوانوں میں جوش کی لہر اُٹھی۔
”اور اُدھر جو مسجدیں، دکانیں اور گھر گرائے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ وہ جائز ہے؟ ہم چوڑیاں پہن کر گھروں میں بیٹھ جائیں؟ اگر یہاں ہم اقلیتوں کے لیے خطرہ نہیں بنے تو وہاں ایک ایک مسلمان کو چن چن کر مار دیا جائے گا“۔
”صبر سے! بچو تحمل سے کام لو۔ یہاں مندر مسمار کرنے یا دکانیں لوٹنے سے، وہاں کے مسلمانوں کو تحفظ نہیں ملے گا۔ وہ اپنی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں اور ہزار سالوں سے حفاظت کر رہے ہیں۔ ناموسِ رسالتﷺ کی قسم اگر اللہ کے گھر کی حفاظت نہ ہو سکی تو ہم سب سر پر کفن باندھ کر جہاد کو چلیں گے۔ مگر یہ وقت سوچنے، سمجھنے کا ہے۔ غیرمسلمین کی حفاظت کا ہے کہ کہیں دشمن کا کوئی کاری وار کام یاب نہ ہو جائے اور ہم بعد میں پچھتاتے رہیں“۔
نوجوان دستہ اس ٹھنڈی تقریر سے بڑا نا خوش تھا مگر کچھ سنجیدہ اور عمر رسیدہ بزرگ دین محمد سے متفق تھے۔ ایک تو دین محمد کا بے داغ کردار، اس پر مذہب کے بارے میں اس کی گہری عقیدت اور عشقِ محمدﷺ سے اس کا والہانہ لگاؤ۔
مسجد کے تمام معاملات کو بخیر و خوبی سلجھانے میں دین محمد کی دانائی مشہور تھی۔ پانی کا مسئلہ، لائٹ کا مسئلہ، مسجد کی ٹونٹیاں، ٹوپیاں، جائے نماز۔ اُدھڑتی دیواریں، خراب ہوتے رنگ پالش، غرض ہر شے کی ذمہ داری دین محمد نے خود اُٹھائی ہوئی تھی۔ گھروں کی تکرار، طلاق و نکاح جیسے شرعی مسئلے۔ دِین محمد کی معلومات اور دِینی معلومات کی وجہ سے سلجھتے۔ جدید معلومات، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک کے بارے میں اسے آگہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نوجوان طبقہ بھی اس کے پاس مدد، رہنمائی اور مشورے کے لیے آتا تھا۔ حتیٰ کہ محلے کی بہو بیٹیاں بھی اسے اپنا ہم درد سمجھتے ہوئے دُکھ درد بتاتی تھیں۔
کمیٹی بن گئی اور دِین محمد کو اس کا صدر بنا دیا گیا۔ حالاں کہ دین محمد کا آدھے سے زیادہ خاندان سرحد کے اس پار تھا۔ اسے تکلیف، غم و غصہ، نفرت کیا نہیں محسوس ہوتا تھا۔ مگر وہ بنیادی طور پر امن پسند اور صلح جو آدمی تھا۔ انسان دوستی اس کی سرشت تھی۔ انسان تو کیا جانور اور پکھی پرندے کی تکلیف پر بھی وہ تڑپ اُٹھتا تھا۔ اس کا اپنا بچپن جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا، جانوروں کو ایذا پسندوں سے بچاتے گزرا تھا اور پرندوں کے بسیروں کی حفاظت کی ذمہ داری اس نے مقدس فریضہ سمجھ کر اُٹھائی ہوئی تھی۔
یہ سوچ اس کے ذہن میں کہاں سے آئی تھی۔ اسے کبھی وہ امن شانتی کی علامت سمجھتا تھا اور کبھی انسانیت کی۔ کبھی کبھی خود کو کم ہمت اور بزدل بھی محسوس کرتا۔ مگر یہ سب اس وقت ہوتا جب اسے لگتا کہ باقی لوگ آدمیت کے جامے سے باہر ہیں۔
اس کا بچہ خوش خوش اسکول سے گھر لوٹتا تھا۔ کبھی کوئی مزے دار بات، کبھی کچھ، کبھی کچھ مگر ایک روز وہ ایک نظم سارا دن گاتا رہا۔
مچھلی کا بچہ
پانی سے نکلا
ابو نے پکڑا
امی نے پکایا
ہم سب نے کھایا
بڑا مزہ آیا
مچھلی کا بچہ۔ اور اس کے ساتھ ہونے والے انسان کے بے رحمانہ عمل نے اس کے اندر کے نرم آدمی کو بالکل موم میں تبدیل کر دیا تھا۔ حیلے بہانے سے بچے کو نظم بھلانے کی کوششوں میں ناکام ہو کر، جھنجلاتا اسکول جا پہنچا۔ جہاں اسے اپنی کیفیت کے اظہار اور نظم کے مجموعی ظالمانہ تاثر کو بیان کرنے میں بہت دِقت ہوئی۔ کیوں کہ استانیوں کے نزدیک یہ محض ایک ”نظم“ تھی اور مچھلی ہماری مرغوب غذا، جو کہ انسانوں کے کھانے کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے۔ انہیں وائلڈ لائف کی بقا اور جانوروں کے بچوں سے شفقت کا برتاؤ سکھانے کے لیے جتنی مدت درکار تھی اور جتنا ارتقائی سفر چاہیے تھا۔ اتنا وقت تو شاید دین محمد کی عمر بھی اسے نہ دیتی۔ لہٰذا دین محمد واپس پلٹ آیا، دل گرفتہ سا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



